مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں برٹش کونسل کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے لائبریریاں ، ثقافتی مراکز کھولنے کا فیصلہ
لندن :امور خارجہ پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ’’انہانسڈ سٹریٹجک ڈائیلاگ‘‘ کے جائزہ کے سلسلے میں سر مارک لا ئل گرانٹ، برطانوی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اور سر سیاران ڈیوین، چیف ایگزیکٹو آفیسر برٹش کونسل سے ملاقاتیں کیں۔ قومی سلامتی مشیر کے ساتھ ملاقات میں دونوں نے انسداد دہشت گردی، منظم جرائم اور غیرقانونی مائیگریشن کے شعبوں میں اپنے تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مشیر امور خارجہ نے انتہاپسندی کے خطرے سے نمٹنے میں برطانیہ کی حمایت اور معاونت کو سراہا۔ انہوں نے برطانوی مشیر کو سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جن میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہیں۔ پاکستانی مشیر نے ’’پرامن ہمسائیگی‘‘ پر پاکستان کی پالیسی کو بھی اجاگر کیا اور بھارت و افغانستان سمیت اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ قومی سلامتی کے برطانوی مشیر نے انتہاپسندی کی روک تھام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور نیشنل ایکشن پلان پر بروقت و موثر عملدرآمد میں برطانیہ کی جانب سے مسلسل حمایت کی پیشکش کی۔ انہوں نے نیکٹا سمیت سلامتی اور نفاذ قانون کے اداروں کی استعداد بہتر بنانے میں برطانیہ کی حمایت کا بھی یقین دلایا۔ سر مارک لیال گرانٹ نے افغانستان میں امن واستحکام کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی و تعاون مستحکم بنانے کے لئے برطانیہ اپنا بامعنی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ برٹش کونسل کے سی ای او سے ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے 2014 میں طے کئے گئے موجودہ تعلیمی و ثقافتی روڈمیپ کے تحت ہونے والی تمام تر سرگرمیوں پر تبادلہ خیالات کیا اور ان کا جائزہ لیا جن میں پاکستان میں برٹش کونسل کی سرگرمیوں پر خاص طور پر بات کی گئی۔ مشیر امور خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی و تعلیمی تعلقات کو بھرپور بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں برٹش کونسل کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لئے کراچی اور لاہور میں لائبریریاں اور ثقافتی مراکز کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جس کے ساتھ ڈیجیٹل لائبریری بھی ہو گی جس سے لاکھوں پاکستانی مستفید ہو سکیں گے۔ ثقافتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے طے کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک نئے ثقافتی روڈمیپ پر دستخط کئے جائیں گے۔ نئے روڈمیپ میں آرٹس، آثار قدیمہ اور تحقیق میں اشتراک عمل کے علاوہ ورثے، عجائب گھروں اور تخلیقی صنعتوں میں مدد دینے کے لئے پارٹنرشپس کو ترویج دینے پر زور دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں سرتاج عزیز نے پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ میں دئیے گئے برطانوی پاکستانی ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایک ظہرانہ میں بھی شرکت کی۔ امور خارجہ پر وزیراعظم کے مشیر ’’پاکستان یو کے انہانسڈ سٹریٹجک ڈائیلاگ‘‘ کے تیسرے وزارتی جائزہ میں شرکت کے لئے 18 سے 20 اپریل تک برطانیہ کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ 20 اپریل کو کامن ویلتھ منسٹریل ایکشن گروپ میں شرکت کریں گے۔