مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیراعظم کے نئے سٹریٹجک وژن سے جغرافیائی و معاشی ترجیحات میں توازن پیدا ہوگا:سرتاج عزیز
لندن: برطانیہ کے دورے پر آئے پاکستان کے امور خارجہ پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے چیتھم ہائوس میں ایک لیکچر دیا جس میں انہوں نے ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی کے سٹریٹجک وژن‘‘ کا ایک خاکہ پیش کیا اور خطے کی سلامتی و استحکام میں ملک کے کردار پر روشنی ڈالی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک تاریخی جائزہ پیش کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملے سے نمٹنے کی مغربی حکمت عملی میں ہمارے کردار نے ملک پر کئی سنگین اور دوررس اثرات مرتب کئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے نئے سٹریٹجک وژن کا جو خاکہ تیار کیا ہے اس میں سلامتی و استحکام کے عالمی و علاقائی چیلنجوں کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سٹریٹجک وژن کے چار مرکزی ستون ہیں۔ پہلا ستون اپنی سلامتی کو ترجیح دینا ہے۔ اس سے مراد دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور دوسروں کی ایسی جنگوں یا تنازعہ کے ایسے اسباب کی حمایت کرنے سے گریز ہے جن کا پاکستان سے براہ راست تعلق نہ بنتا ہو۔ مشیر خارجہ نے بتایا کہ دوسرا ستون معاشی بحالی و دیرپا ترقی ہے جسے ہماری خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پست شرح افزائش نہ صرف غربت اور بیروزگاری کو بڑھاتی ہے بلکہ دوسروں پر بڑھتی محتاجی کے باعث اپنی خودمختاری اور دیگر کلیدی قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ہماری صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ تیسرے ستون کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پرامن ہمسائیگی کے بغیر معاشی بحالی و سماجی ترقی کو دیرپا نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان، بھارت، ایران اور چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ چوتھے اور آخری ستون کے بارے میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم چین، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے ساتھ تجارت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے رابطوں کی صورت میں پاکستان کے جغرافیائی و سٹریٹجک محل وقوع کو بوجھ سے اثاثے میں بدلنے کی ٹھوس کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری جغرافیائی و سٹریٹجک اور جغرافیائی و معاشی ترجیحات میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ سرتاج عزیز نے حاضرین کو اس بارے میں بھی بتایا کہ کس طرح پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے سٹریٹجک وژن کو بھرپور انداز میں عملی جامہ پہنانے کے لئے علاقائی رابطوں کو فروغ دے رہا ہے، افغانستان میں مفاہمت کی راہ ہموار کر رہا ہے اور بھارت کے ساتھ کمپوزٹ ڈائیلاگ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تمام مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کو حل کیا جا سکے۔ مشیر امور خارجہ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات اور روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی بدولت پاکستان کا علاقائی جغرافیائی و سٹریٹجک منظرنامہ اس کے لئے ایک بوجھ کے بجائے اثاثے کی شکل اختیار کر لے گا۔ تاہم انہوں نے پاکستان کے اندر را کے زیراثر دہشت گردی کی مہمات اور جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کو باعث تشویش قرار دیا۔ مشیر امور خارجہ نے بتایا کہ داخلی طور پر سلامتی کی بہتر صورتحال اور اس کے ساتھ سازگار معاشی صورتحال کی بدولت پاکستان غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اس پر عمدہ منافع یقینی بناتا ہے۔ اس گفتگو میںممتاز سکالرز، محققین، خارجہ پالیسی کے ماہرین، صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جو سوال و جواب کے سیشن پر اختتام پذیر ہوئی۔دریں اثنا مشیر خارجہ نے پاکستانی نژاد برٹش پارلیمینٹیرینز سے بھی ملاقات کی جن میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن پاکستان کے چیئرمین رحمان چشتی ایم پی، آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن کشمیر کے نائب صدر لارڈقربان حسین، یاسمین قریشی ایم پی اور ناز شاہ ایم پی شامل تھیں۔ اس موقع پر پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس بھی ہمراہ تھے۔ مشیر خارجہ نے پارلیمنٹیرینز کو اپنے دورے کے اغراض و مقاصد سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تشدد، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے جامع اور فیصلہ کن کارروائی کی بدولت پاکستان کے زمینی حقائق تیزی سے بدل کر بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ضرب عضب میں پاکستانی مسلح افواج کی دلیرانہ کاوشوں اور قربانیوں کے ساتھ ساتھ خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیوں، مدرسہ اصلاحات اور فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو سزائیں دینے جیسے اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال میں بہتری کی بدولت معاشی بحالی اور بہتر سرمایہ کاری کی واضح علامات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمنٹ، آزاد میڈیا اور فعال سول سوسائٹی کی مدد سے جمہوری عمل اور ادارے مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔