مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دو سال قبل بھی برداشت کا مظاہرہ کیا، اب بھی صبر و تحمل کیساتھ چل رہے ہیں: نواز شریف
لندن: وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کسی منفی سرگرمی کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج تماشہ لگانے والوں نے 2014میں بھی دھرنے میں خاصا وقت ضائع کیاکچھ انکے ہاتھ آیا اور اب بھی اگر وہ ایسے کسی موقع کی تلاش میں ہیں تو انہیں کامیابی نہ ہوگی، برطانوی دارالحکومت لندن پہنچنے کے بعد اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ان صاحب نے کوئی کام کرنے کے بجائے ہمیشہ حکومت کو پریشان کرنے کی کوشش کی، انہیں اسطرح کا منفی کردار زیب نہیں دیتا ایک دن یہ حالات انہیں بالکل اکیلا کردیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا ہم دو سال قبل بھی برداشت کا مظاہرہ کرتے رہے اور اب بھی بڑے صبر و تحمل کیساتھ چل رہے ہیں لیکن انہیں خود سوچنا چاہئے کہ ملک خوشحالی کو ترس رہا ہے اور وہ کس طرح کے حالات پیدا کررہے ہیں، ہم نے ہمیشہ رواداری کی سیاست کو فروغ دیا امید ہے کہ انکو بھی جلد عقل آجائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اگردھرنے سے اجتناب کی بات کی ہے تو میں اسے قابل تحسین سمجھتا ہوں۔ آصف علی زرداری سے ملاقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ہم لوگوں نے رواداری کی سیاست کو آگے بڑھایا، وہ جب ایوان صدر سے رخصت ہونے والے تھے ہم میں خود انکے پاس گیا اور انہیں بڑے اچھے طریقے سے رخصت کیا، اسی طرح میں ملتان ایئرپورٹ کا افتتاح کرنے گیا تو گیلانی صاحب کو ساتھ لیکر گیا کیونکہ منصوبہ انکے دور میں شروع ہوا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں جس طرح بہتری آرہی ہے اور فارن انویسٹر راغب ہورہا ہے اگلے دو سال میں ہم ترقی کی وہ منازل طے کرجائینگے کہ جسکا یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے، انہوں نے کہا پیر کے روز انہیں تھر جانا تھا جہاں کوئے کے بڑے ذخائرہیں یہ خزانے ملک کو انھیروں سے نکالنے میں معاون ہونگے، پہلے جو لوگ ملک کو اندھیروں میں دھکیل گئے ہم وہ اندھیرے ختم کرنے آئے ہیں اور ملک کو روشنیوں کی طرف لیجانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ باتیں کرنے والے کرتے رہیں گے ہم عمل پر یقین رکھتے ہیں، اپنی برطانیہ آمد پر مختلف چہ میگویئوں کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ میں معاملات سلجھانے برطانیہ آیا اسکے لیئے تو مجھے پانامہ جانا چاہیئے تھا۔آئیندہ حکومت کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ عوام سب سے بڑء منصف ہے جو اچھا کام کرے گا عوام اسے اقتدار کے منصب پر بٹھا دینگے میں نے تو ماضی میں بھی سب سیاسی جماعتوں سے یہی کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا۔پاک بھارت تعلاقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو مسائل کا خاتمہ کرکے اچھے ہمسایوں کیطرح آگے بڑھنا چاہیئے۔ وزیر اعظم اپنے اہل خانہ کیساتھ لوٹن ایئرپورٹ پہنچے تو پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس نے انکا استقبال کیا۔