مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
طریقہ کارطے ہونا باقی ، پاکستان واپسی پر ملا برادر کی رہائی کا فیصلہ ہوگا : نواز شریف
انقرہ ... پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے دورہ ترکی کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ سابق افغان طالبان رہنما ملا عبد الغنی برادر کی رہائی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات طے ہونا ابھی باقی ہیں۔ وہ پاکستان واپسی پر ملا برادر کی رہائی سے متعلق صلاح و مشورہ کریں گے۔ اُنھوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان نے سابق افغان طالبان کمانڈر کو رہا کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم رہائی ’’مناسب وقت‘‘ پر ہوگی۔ عبدالغنی برادر افغان طالبان کے امیر ملا عمر کے نائب رہ چکے ہیں اور پاکستان کا موقف ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان میں مصالحت کے عمل کو فروغ دینے کے لیے اُنھیں افغان حکومت کی درخواست پر رہا کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اگست کے اواخر میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور اُنھوں نے اعلٰی افغان امن کونسل اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کو اپنا کردار کرنے کی درخواست کی تھی۔ گزشتہ سال سے اب تک پاکستان 33 افغان طالبان قیدیوں کو رہا کر چکا ہے۔ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خارجہ اُمور کی کمیٹی کے چیئرمین حاجی عدیل نے ملا عبدالغنی برادر کی رہائی سے متعلق بیان پر کہا کہ طالبان کی رہائی سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ افغانستان کے مصالحتی عمل ہی میں کردار ادا کریں گے۔ ’’رہائی کا مطلب اُن (طالبان) کی تحریک کو مضبوط کرنا ہے تو یہ غلط بات ہے، اُن سے گارنٹی لینی چاہیئے کہ وہ امن مشن میں ساتھ دیں گے۔ اگر وہ امن کے حصول میں تعاون نہیں کرتے تو پھر ایسا کرنا فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔‘‘ ترکی میں بھی طالبان کی رہائی کے حوالے سے موضوع زیر بحث رہا وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ ترکی کے دوران افغانستان سے 2014ء کے اختتام پر غیر ملکی افواج کے انخلاء سے متعلق اُمور بھی زیر بحث آئے۔ تیسری مرتبہ وزارت عظمٰی کا منصب سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا ترکی کا یہ پہلا دور ہے جس میں دونوں ملکوں نے تجارت، توانائی، سکیورٹی، تعلیم، ثقافت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ خطے میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششوں میں تیزی لانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔