مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
زندگی امتحانوں سےبھر پور ہے ایسے میں با با بلھے شاہ کی طرح اپنے اندر کا جائزہ لیں: کرسٹینا بیکر
بریڈ فورڈ ... مغربی دنیا بری طرح اسلامی فوبیا میں مبتلا اور اسلام کے اصل چہرے سے قطعی ناواقف ہے۔ اسلام صرف حلال و حرام کا ہی مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں مجھ جیسے لوگ آکر پناہ لیتے ہیں ان خیالات کا اظہار ممتاز ٹی وی پریزنٹر اور صحافی کرسٹینا بیکر نے کشمیر ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے سالانہ ڈنر میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے کیا نو مسلم کرسٹینا بیکر نے کہا کہ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کے اسلام کیا ہے ۔یہودیوں اور عیسائیوں کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ان تینوں مذاہب میں کتنی باتیں مشترک ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ابراہیمی سلسلہ سے جڑے یہ تینوں مذاہب ایک جیسی کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں ۔کشمیر ایجوکیشنل فاؤنڈیشن (کیف) کے سالانہ ڈنر میں مہمان مقرر کی حیثیت سے کرسٹینا بیکر نے تعلیمی میدان میں فاؤنڈیشن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن کے سکول بین الاقوامی سطح پر طے کئے گئے تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اچانک عیش و آرام کی زندگی ترک کرکے اسلام قبول کرنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی میری کوششیں مغربی دنیا کو کبھی بھی ہضم نہیں ہو سکی اور جب میں نے دنیا کو اپنی کہانی سناتے ہوئے انہیں اسلام سے متعارف کروانا چاہا تو کوئی بھی پبلشر اسے شائع کرنے پر رضامند نہیں ہوا جس پر میرے ایک دوست نے اشاعت پر آنے والا خرچ پہلے دیتے ہوئے اس کی اشاعت کو ممکن بنایا۔ کشمیر ایجوکیشنل فاؤنڈیشن کے سالانہ عشائیہ سے ان کے علاوہ فاؤنڈیشن کے چیئرمین ایئر مارشل (ر) مسعود اختر اور ماہر تعلیم اکرام چیمہ نے بھی خطاب کیاجبکہ اشتیاق میر اور اکرام چیمہ نے مل کر عشائیہ کی نظامت کی، حافظ محمد سلیمان حسین کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والے اس عشائیہ میں 38380 پونڈ کی رقم بھی اکھٹی کی گئی جس میں گلاسگو کے راجہ محمد حنیف نے مزید رقم ڈالتے ہوئے اسے40 ہزار کر دیا وہ پہلے بھی اپنی طرف سے30 ہزار کے عطیات دے چکے تھے۔ کرسٹینا بیکر نے اسلام کے اصل پیغام اور روحانیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کے یہ روحانیت اور صوفی ازم ہی تھا جو انہیں اسلام کے قریب لایا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں عمران خان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت عمران خان نے ہی دی تھی۔ انہوں نے اپنے دورہ پاکستان خصوصاً گلگت ونگر میں گزارے گئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مٹی اور گارے کے بنے ہوئے گھروندوں میں رہنے والے پاکستانیوں میں جو محبت ،پیار اور مہمان نوازی پائی جاتی ہے وہ بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا بسم اللہ کہہ کر ہر کام شروع کرنے کا رواج میرے دل کو بھاگیا اور اس سے مجھے اتنی خوشی حاصل ہوئی جو اس تمام عارضی خوشیوں پر بھاری تھی جو مجھے اپنی گزشتہ زندگی میں حاصل ہوئیں۔ انہو ں نے کہا کہ عمران خان کا کینسر ہسپتال دنیا کے امیروں نے نہیں بلکہ پاکستان کے غریبوں نے بنایا ہے۔ کرسٹینا بیکر نے اپنی تقریر بھلے شاہ کے صوفیانہ کلام پر ختم کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو زندگی میں امتحانوں اور بحرانوں سے گزرنا پڑتا ہے میں بھی ان سے گزری ہوں اور ہم ایسے کھٹن مراحل سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں جب ہم دوسروں کو سبق پڑھانے کی بجائے بلھے شاہ کی طرح اپنے اندر کا جائزہ لیں۔ کیف کے چیئرمین ایئرمارشل مسعود اختر نے کہا کے گو انہیں فاؤنڈیشن میں شامل ہوئے صرف ڈیڑھ برس کا عرصہ گزرا ہے اصل جدوجہد کا کام تو جنرل رحیم کا ہے جنہوں نے 1996ء میں پرل ویلی پبلک سکول کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان اور کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تصور دیا۔ کیف کے وائس چیئرمین اور ماہر تعلیم اکرام چیمہ نے یوکے میں کیف کے حاجی مصدق حسن اور ان کی ٹیم کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کے پاکستان اور کشمیر میں ہماری آئندہ نسلوں کی اخلاقی، روحانی، ثقافتی، ذہنی، جذباتی اور جسمانی تربیت کے لئے جو سفر شروع کیا گیا تھا یہ اسی کا اعجاز ہے کہ دردراز علاقوں کے یہ غریب بچے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آج ایک بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، اکاؤنٹنٹ اور دیگر حیثیتوں میں اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ عشائیہ کا اختتام محفل موسیقی سے ہوا جس میں گلوکاروں نے دیر تک اپنے فن کا جادو جگایا۔