مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں بیوہ خواتین کیلئے آپکی سہیلی کے نام سے مہم کی تقریب
لندن: برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق آپکی سہیلی کے نام سے شروع ہونے والی اس مہم کا مقصد بیوہ ہونے والی جنوبی ایشیائی خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والی معاشرتی رویوں کے خلاف آواز اُٹھانا ہے۔ اس مہم کو شروع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بیوہ ہونے والی بعض خواتین کو شوہر کے انتقال کے بعد دوبارہ سے اپنی زندگی شروع کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی سلسلے میں برطانیہ میں کووینٹری کے سپورٹس سینٹر میں ایک تقریب منعقد کی گی جس میں بیوہ خواتین نے شرکت کی۔ تقریب میں 33 سالہ بیوہ خاتون رج مالی بھی شریک تھیں۔ ایک سال قبل اُن کے شوہر کا انتقال ہوا اور اور اب وہ اپنی زندگی اکیلے گزار رہی ہیں۔ راج مالی نے بتایا کہ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا جیسے کچھ برا ہونے والا ہے۔ یہ سب صدمے کی وجہ سے تھا۔ میں اپنے ساتھ مدد نہ ہونے کی وجہ سے غصے میں رہتی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اور اُن کے تین کم عمر بچوں نے اب اس غم کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھ لیا ہے۔ آپکی سہیلی کی بانی جیس سیکھون جو خود بھی کم عمری میں بیوا ہو گئی تھیں نے بتایا کہ بہت سے لوگ اُن کے میک اپ کرنے اور ایسے کپڑے پہنے کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ کہتے کچھ نہیں تھے صرف وہ ایسی نظر سے دیکھتے تھے جس سے سب پتہ چل جاتا ہے اور آپ کا دل دکھتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شوہر کے انتقال کے بعد ادرگرد کے بعض افراد بیوا کو کم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میری بیٹیاں سوچتی تھیں کہ والد کے بغیر اُن کی ماں کی عزت کم کیوں ہو گئی ہے۔ بیوہ خواتین کے لیے منعقد کی گئی اس تقریب میں خواتین کو پرعزم اور ہمت و حوصلہ بڑھانے کے لیے لیکچر دیا گیا۔ تقریب میں شریک میرج سینٹر چلانے والی خاتون سرنجیت کنڈولا نے بتایا کے تقریباً 20 بیوہ خواتین نے دوبارہ شادی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رجسٹریشن کروائی ہے۔ سرنجیت کنڈولا نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے اور دس سال قبل دوبارہ شادی کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں کرتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کے مرد تو شادی کر سکتے ہیں لیکن عورت کے لیے ایسے غلط تصور کیا جاتا تھا۔ بیوہ عورتوں کے لیے آواز اُٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے بعد برطانیہ بھر میں دوسری عورتوں کو بھی ایسی مہم چلانے میں مدد ملے گی۔