مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کیمیائی ہتھیارکون استعمال کر گیا ؟؟؟
کہتے ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد پر امریکی حملے کا اس قدر دباؤ تھا کہ انہیں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی تسلیم کرنا پڑ گئی۔ دوسری جانب تمام حلقوں کو یقین تھا کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار دمشق کے نواح میں اعصاب شکن گیس کے حملے کی تصدیق کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ ایک طویل انتظار کے بعد اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون گزشتہ جمعہ سے ہی شام میں اعصاب شکن گیس کے شواہد کے بارے میں واضح انداز میں بات کر رہے تھے۔ عالمی برادری کو بھی اس رپورٹ کا انتہائی شدت سے انتظار تھا۔ تاہم جنیوا میں روس اور امریکا کے مابین شامی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے کی وجہ سے رپورٹ کی وقعت ختم ہو گئی۔ ماہرین کے بقول امریکا اور روس کے مابین کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے کا معاہدہ اس قدر اچانک طے پایا کہ اس رپورٹ کا ڈرامائی اثر زائل ہو گیا۔ سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی رپورٹ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 21 اگست کو دمشق کے نواح میں کیے جانے والے حملے میں اعصاب شکن گیس سارین استعمال کی گئی تھی۔ لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کارروائی شامی باغیوں یا دمشق حکومت کی تھی اور یہ معلوم کرنا ان معائنہ کاروں کی ذمہ داری بھی نہیں تھی۔ واشنگٹن میں بروکنگس انسٹیٹیوٹ نامی ایک تھنک ٹینک سے منسلک ماہر مشرقی وسطیٰ بروس ریڈل کہتے ہیں کہ رپورٹ کے سامنے آنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس حملے میں اسد حکومت کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب بہت ہی کم تعداد لوگوں کی ایسی ہے، جو بشارالاسد کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ یہ باغیوں کی کارروائی ہے۔ اس تناظر میں بان کی مون کا بیان قدرے سیاسی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ بروس ریڈل مزید کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ اس پیش رفت پر شامی باغیوں کا ردعمل کیا ہو گا۔ ان میں سے زیادہ تر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کو صدر اسد کی جیت سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول شامی باغیوں میں انتہاپسند عناصر اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ان پر حملے کر سکتے ہیں۔ ریڈل مزید کہتے ہیں کہ القاعدہ اقوام متحدہ کو اسلام مخالف قوتوں کے آلہ کار کے طور پر دیکھتی ہے اور القاعدہ کی شامی شاخ النصرہ فرنٹ دمشق اور ملک کے دیگر علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکا اور فرانس یہ واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ اگر شامی صدر بشارالاسد نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو عسکری کارروائی کا امکان فی الحال موجود ہے۔