مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
جموں کشمیر جیسے مسلم اکثریتی خطہ میں بااثر طاقتیں دوہرے معیار کا شکار ہیں:سید علی گیلانی
سرینگر ... حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاست دان بیچ میں نہ ہوتے تو کشمیریوں کا قتل عام براہ راست بھارتی حکومت کے کھاتے میں جاتا اور دنیا کے سامنے اس کی ایک سنگین شکل بن جاتی حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں تمام اختیارات بھارت کی ہوم منسٹری کے نام محفوظ ہیں اور بھارتی فورسز کی مدد سے یہاں اس کا ہی راج قائم ہے۔ کشمیر میں شہادتوں پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر گیلانی نے کہا کہ دنیا کی بااثر طاقتیں دوہرے معیار اور دوعملی کا شکار ہیں اور جموں کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہے لہٰذا یہاں کی سنگین صورتحال کا کوئی نوٹس لیا جاتا ہے اور نہ قتل عام پر روک لگانے کی کوئی کوشش کی جاتی ہے۔ علی گیلانی نے سانحہ شوپیاں کی موجودہ انکوائری کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ اس قسم کی سرکاری تحقیقات لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کا حربہ ہوتا ہے اور ماضی کے خونیں واقعات میں آج تک کسی مجرم کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ اپنے بیان میں علی گیلانی نے کہا کہ دلی والے کشمیر کی صورتحال کو لے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں اور ریاستی حکومت نام نہاد تحقیقاتی کمشن قائم کر کے اس مکروہ کھیل میں ان کی مدد کرتی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ جب تک بھارتی فوج کا ایک بھی سپاہی مقبوضہ کشمیر کی سرزمین میں موجود ہے، شوپیاں جیسے سانحات دہرائے جاتے رہیں گے۔