مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،اصل دین علم وحکمت ہے: امام مسجد نبوی
برمنگھم ... اہل ایمان کا شیوہ ہے کہ وہ قرآن وسنت سے اپنی وابستگی رکھتے ہیں ، علم شرعی کو حاصل کرتے ہیں اور سنت وحکمت اور دانائی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہیں ، اور یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کی مشیئت کے بغیر دنیا میں کچھ نہیں ہوسکتا ، ان خیالات کا اظہار مسجد نبوی کے امام شیخ صلاح البدیرنے اسلامی دعوت کانفرنس برمنگھم میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، امام مسجد نبوی نے نمازمغرب کی اما مت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا آج کا مسلمان اللہ پر توکل اور بھروسہ کی بجائے غیراللہ کی طرف دیکھتا ہے ، تعویذدھاگوں، نجومیوں ،کاہنوں کے پاس جاتا ہے حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اس سے تو انسان کی عبادات کی بھی ضائع ہوجاتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کی توحید پر خالص دل وعمل سے ایمان ہو ، ہمیں چاہئے کہ ہم توحیدوسنت کا علم حاصل کریں ، قرآن تعلیمات سے اپنے دل میں محبت پیدا کریں اور پھر سنت کے مطابق اپنی زندگی بنائیں کیونکہ دانائی وحکمت سنت کو سمجھنے سے آتی ہے ، دین کی بنیادی تعلیمات کو سمجھنا بہت ضروری ہے ،امام مسجد نبوی نے تمام آئمہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چاروں مشہور آئمہ کرام کی یہی تعلیمات ہیں کہ ہرمعاملہ میں قرآن وسنت کی طرف رجو ع کیا جائے ۔امام مسجد نبوی نے برطانوی مسلمانو ں پر زوردیا کہ وہ اتحادواتفاق اور یکجہتی کے ساتھ رہیں ، معمولی مسائل پر کفرکے فتوے لگانے سے پرہیز کریں ہرمسلمان جو اللہ کی توحید کا قرار کرتا ہے اور ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے اور اسلام کے بنیادی ارکان کو تسلیم کرتا ہے وہ ہمارا مسلمان بھائی ہے اور باقی معاملات اللہ کے سپرد ہیں ، ہمیں امت کو افتراق واختلاف سے بچانا ہے ۔ امام مسجد نبوی نے نوجوانوں پر زوردیا کہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں، کیونکہ اسی سے زندگی میں نکھارآتا ہے ، زندگی گذارنے کا سلیقہ وشعور ملتا ہے اور پھر اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اس سے روشنی اور نور ملتا ہے ، ہمیشہ یاد رکھیں دین اور دنیا کی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی ملتی ہے ، والدین بچوں کی تعلیم وتربیت کا خاص طور پر خیال رکھیں اور اس میں سستی وکوتاہی کا مظاہر ہرگز نہ کریں ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں یورپی معاشرہ میں کہا آج تمام اہل اسلام اپنے مثالی کردار کے ذریعے اسلام کے بہترین سفیر بن سکتے ہیں ، آج کا مسلمان انتہاپسندی، دہشت گردی اور میڈیا وار سے متاثرہوکر اسلام کی دعوت دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے حالانکہ اسلامی تعلیمات کو جب اخلاق و کردار سے پیش کیا جائے تو وہ اپنے اندر بے بناہ قوت رکھتی ہیں کیونکہ اسلام ہی دین فطرت ہے جو انسانوں کے مزاج سے مطابقت رکھتا ہے اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے ، یورپ کے مسلمان اسلام کے بہترین داعی ہیں انہیں خود بھی مسلمان رہنا ہے اور آئندہ نسلوں تک اسلامی تعلیمات کو بہترین وراثت کے طور پربھی چھوڑنا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدحماد لکھوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا مختلف معاشروں کی کشمکش اور مکالمہ بین المذاہب کے عالمی تناظرمیں اسلامی دعوت اور اس میں حکمت ودانائی پر مبنی اصول وطریق دعوت کی ضرورت بہت ذیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے ۔ امن وامان کی متلاشی انسانیت تک اسلام کا پیغام امن پہنچانے کیلئے حالات سے ہم آہنگ حکمت عملی کی ضرورت ہے ، اسلئے ضروری ہے برطانیہ میں موجود ایسی جماعتیں جو قرآن وسنت کا نا م لیوا ہیں وہ اتحادواتفاق کی فضا اپنے اندر پیدا کریں اور عوام الناس کو کسی مخصوص فرقہ کی دعوت دینے کی بجائے قرآن وسنت کی خالص تعلیمات کو دعوت کی بنیاد بنائیں اس سے امت کے درمیان بھی اتحاد پیداہوگا ور اسلام کی سچی تعلیمات کی دعوت بھی غیرمسلم اقوام تک بہتر طریقے سے جائیں گی۔ ہندوستان کے ممتازسکالر مولانا ظفرالحسن مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا دعوت توحید ہی انبیاء کی دعوت تھی انبیاء کرام کا اپنی قوم سے اختلاف اسی عقیدہ کی وجہ سے ہی ہوا تھا ، اگر آج مسلمان کا عقیدہ توحید وہی ہوجائے جس کی طرفٖ رسول کریم نے دعوت دی تھی تو کوئی شعبدہ بازیا دین کے نام پر فریب دینے والا مسلمان کو گمراہ نہیں کرسکتا ہے اصل دعوت قرآن وسنت ہے اور سیرت رسول اس کی بہترین حکمت سکھاتی ہے ۔ علامہ زبیراحمد ظہیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج ملت اسلامیہ کو فرقہ واریت کے زریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہا ہے ، مسلمان فرقوں میں پڑ کر تقسیم ہورہے ہیں ، غلبہ اسلام کے راستے میں بھی بڑی رکاوٹ فرقہ واریت ہی ہے ، اسلئے تمام مسلمان فرقہ واریت کے لیبل کو توڑ ڈالیں اور کتاب اللہ اور سنت رسول کو حرزجان مان کر خالص دین کی طرف لوٹ آئیں جو ہمیں صرف نبی اور صحابہ کی زندگیوں سے ملتا ہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے امیر مولانا علی محمد ابوتراب نے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں دینی اور رفاحی خدمات پر روشنی ڈالی اور بلوچستان کے ان علاقوں کا جو انتہائی پسماندہ ہیں وہاں میڈیکل اور ریلیف کے کاموں کا تذکرہ کیا ، انہوں نے برطانوی مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ کے قوانین کا احترام کریں اور اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کا خاص طور پر خیال رکھیں ۔ اسلامی شریعہ کونسل کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صہیب حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج اسلامی تعلیمات کوجو انسانیت کو امن وسکون کا درس دیتی ہیں ، حقوق انسانی اور خاندانی نظام کی تقویت کا باعث بنتی ہے برطانیہ میں بعض افراد کے تعصبانہ ذہن کی وجہ سے پروپیگنڈے کے زریعے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں خواہ وہ جہاد کا مسئلہ ہو یا نکاح وطلاق کے مسائل کا ، اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہر پلیٹ فارم کو استعمال کریں اور حق وصداقت کی آواز کو پوری دلیل اور حکمت سے پیش کریں ۔ آسٹریلیا کے ممتازسکالر شیخ وسیم صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج تمام مذاہب کے ماننے والے یہ جانتے ہیں کہ اصل دین وہ اسلام ہی ہے کیونکہ ہر مذہب کی کتب میں جس نجات دہندہ کا ذکر ہے جس کی تعلیمات پر عمل سے ہی امن وسکون مل سکتا ہے اور وہ تمام نشانیاں صرف سرورکائنات کی سیرت سے ہی ہمیں ملتی ہیں۔شیخ واجد ملک نے دعوت حکمت اور علمائے کرام سے تعلیم حاصل کرنے کو لازم وملزوم قرار دیا۔کانفرنس سے مولانا عبدالباسط العمری، نے بھی خطاب کیا ۔حافظ حمود الرحمن مکی نے اختتامی کلمات میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ امام مسجد نبوی کے خطاب کا اردو ترجمہ مولانا عبدالہادی العمری، اور انگلش زبان میں ڈاکٹر سلیمان الترکستانی نے کیا ۔خیرمقدمی کلمات مولانا شعیب احمد میرپوری نے بیان کئے ۔کانفرنس کا آغاز قاری ذکاء اللہ سلیم کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔ ڈاکٹرعبدالرب ثاقب اور مولانا عبدالستار عاصم نے نظمیں پیش کیں ۔کانفرنس میں برطانیہ بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی ، میڈیا سیکرٹری شفیق الرحمن شاہین نے میڈیا کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے امام مسجد نبوی کے خطاب کو خاص طور پر سننے کیلئے سفر کیا ۔ کانفرنس میں مصروشام، مقبوضہ کشمیر اور برماکے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت میں قرارداد مولانا محمد ابراہیم میرپوری نے جبکہ برطانیہ میں چائلڈ سیکس گرومنگ، رؤیت ہلال ، حلالہ کی مذمت ، حجاب کے مسئلہ پر قرارد داد مولانا شیرخان جمیل احمد العمری نے پیش کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا حبیب الرحمن جہلمی اور شفیق الرحمن شاہین نے انجام دئے ۔ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔