مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے آئندہ انتخابات ملک میں جمہوریت کو مزید مضبوط اور توانا کرینگے: تھامس ڈریو
لندن:پاکستان جیسے دوست ملک میں بطور ہائی کمشنر تعیناتی میرے لئے انتہائی اعزاز کی بات ہے،تقریباًدس سال قبل میں پہلی بار برطانوی ہائی کمیشن کا پولیٹکل قونصلر بن کر پاکستان گیا تو میں اس ملک اور اس کے عوام کا شاندار دوست بن گیا،اب دوبارہ وہاں جاتے ہوئے اپنے اندر ایک شاندار توانائی محسوس کر رہا ہوں،یہ بات میرے لئے توانائی کا باعث ہے کہ مجھے وہاں پرانے دوست دیکھنے کو ملیں گے،اس خوبصورت ملک کے بارے میں مزید بہت کچھ جاننے کا موقع ملے گا لیکن سب سے بڑھ کر وہ کام ہے جو دونوں ملکوں کیلئے اہم ہے،پاکستان میں2018کے انتخابات اس لحاظ سے انتہائی اہم ہوں گے کہ یہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مزید مستحکم بنانے کا موقع فراہم کریں گے،میری خواہش ہے کہ برطانوی کاروباری ادارے پاکستانی معیشت کی افزائش میں اپنا کردار ادا کریں،ان خیالات کا اظہار پاکستان میں تعینات ہونے والے برطانیہ کے نئے ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے رواں ہفتے کے آخر میں اپنی اسلام آباد روانگی سے قبل برطانیہ میں پاکستانی میڈیا سے بات چیت میں کیا،اس موقع پر انہوں نے اپنی تقریر کا کچھ حصہ اردو زبان میں کیا جس کے دوران انہوں نے کہا پاکستان برطانیہ کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ بھی پاکستان کے لئے اہم ہے ایک دوسرے کی سلامتی،علاقائی استحکام اور ایک دوسرے کی خوشحالی کیلئے،انہوں نے مزید کہا کہ میرے نزدیک وہ پندرہ لاکھ پاکستانی نژاد برطانوی لوگ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے برطانیہ کو اپنا گھر بنایا ہے اس کا براہ راست مشاہدہ میں نے اس وقت کیا جب گزشتہ ہفتے میں نے بریڈ فورڈ میں پاکستانی کمیونٹی لیڈروں سے ملاقات کی،ہم ایک خاندان کی مانند ہیں،ہمارے انسانی،ثقافتی اور تاریخی روابط ییہی بتاتے ہیں کہ ہمارا تعلق دیرینہ ہے یہ وسیع بھی ہے اور گہرا بھی،ہمارے مسائل مشترکہ ہیں اور ہماری استعداد بھی،میرا سب سے اہم کام اس استعداد کو بروئے کار لانا ہے،پاکستان بے پناہ استعداد رکھتا ہے،اس کی آبادی نوجوان اور فعال ہے،اس کا بنیادی ڈھانچہ بہتر ہو رہا ہے،اس کا جغرافیائی محل وقوع اسے عالمی منڈی اور نئی سلک روڈ میں مرکزی حیثیت دیتا ہے،برطانوی ہائی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا شہر کراچی دنیا کے دس بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن اس مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان کو متعدد چیلنجوں اور خطرات پر بھی قابو پانا ہے اور برطانیہ اس سلسلہ میں وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کر سکتا ہے،یعنی پاکستان کو زیادہ مستحکم،زیادہ خوشحال اور بہتر طرز حکمرانی پر مبنی بننے میں مدد دینا،انہوں نے کہا کہ یہ بات جتنا پاکستان کے مفاد میں ہے اتنا ہی برطانیہ کے مفاد میں بھی ہے، اور اس کا تعلق جتنا سلامتی ہے اتنا ہی تجارت،تعلیم،صحت اور عمدہ طرز حکمرانی سے ہے،انہوں نے کہا کہ سبھی سفیر کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلق بہت اہم ہے،یہ جذبہ واقعی اہم ہے،لیکن پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے میں اس قابل ہو جائوں گا کہ اس میں مدد دینے کیلئے میرے پاس وسائل بھی ہوں گے،پاکستان کیلئے برطانیہ کے نئے سفیر نے کہا کہ اسلام آباد میں ہمارا ہائی کمیشن دنیا میں ہمارے بڑے ہائی کمیشنوں میں سے ایک ہے اور یہی حال پاکستان کیلئے ہمارے دو طرفہ امدادی پروگرام کا ہے،انہوں نے کہا کہ2008میں اپنی واپسی کے بعد میں نے جتنے عہدوں پر بھی کام کیا ان میں،میں بذات خود اس بات کا مشاہدہ کر چکا ہوں کہ پاکستان کو برطانیہ کی خارجہ و ملکی پالیسی میں کس طرح مرکزی حیثیت حاصل ہے،دفتر خارجہ کے نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے میرے اندر ان سکیورٹی مشکلات کا بھرپور احساس پیدا ہوا جو پاکستان کو درپیش ہیں اور ان قربانیوں کا جو وہ ان مشکلات پر قابو پانے کیلئے دے رہا ہے،مجھے احساس ہوا کہ برطانیہ کی اپنی قومی سلامتی کیلئے بھی وہ کس قدر اہم ہیں،انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں،میں خارجہ سیکرٹریوں ولیم ہیگ اور فلپ ہیمنڈ کا پرنسپل پرائیویٹ سیکرٹری)یا چیف آف سٹاف(رہا،اس حیثیت میں مجھے اپنی خارجہ پالیسی کے مفادات کا پوری تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کا موقع ملا اور پاکستان کبھی بھی اس کے مرکز کے دور نہیں رہا،انہوں نے کہا کہ اس بناء پر میرا کام عظیم ہے کیونکہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے لیکن یہ اس بناء پر بھی عظیم ہے کہ میں سمجھتا ہوں برطانیہ تبدیلی پیدا کر سکتا ہے اور بلا شبہ ہم پہلے ہی ہر طرح کے شعبوں میں تبدیلی پیدا کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے میرے فیورٹ اعداد و شمار تعلیم سے متعلق ہیں جس پر پرائمری سکولوں کے6.3ملین پاکستانی بچے ڈپارٹمنٹ فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ کی بدولت براہ راست برطانوی معاونت سے مستفید ہو رہے ہیں یا پھر یہ بات کہ برٹش کونسل نے سکولوں میں انگریزی طرز کا تدریس بہتر بنانے کیلئے2018تک انگریزی کے ایک ملین اساتذہ کو تربیت دینے کا وعدہ کیا ہے،اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں تھامس ڈریو نے کہا کہ ہم صحت کے شعبہ میں بھی اہم کام کر رہے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ برطانیہ کی مدد سے تقریباً ایک ملین بچوں کی پیدائش ماہر معاون کی موجودگی میں ممکن ہوئی لیکن یہ سب محض معمولی باتیں ہیں ہمارے مشترکہ کاموں میں ٹیکس وصولی اور غربت میں کمی سے لے کر دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا دھماکہ خیز مواد کے تدارک تک ہر طرح کے کام شامل ہیں،اس حوالے سے کہ آئندہ تین سالوں میں،میں کیا کچھ حاصل کرنا چاہتا ہوں،انہوں نے کہا کہ آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ سمت میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی،ہماری وابستگی دیرینہ ہے اور میرے پیشرو فلپ بارٹن نے شاندار کام کیا ہے ان کی طرح میں بھی یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان اوپر کی طرف جا رہا ہے۔