مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے مسلم تنظیموں کو ہمہ وقت حکومت سے رابطہ رکھنا چاہیئے: طحہٰ قریشی
لندن ...فورم فار انٹرنیشنل ریلیشنز ڈویلپمنٹ کے چیئرمین اور معروف کمیونٹی رہنما طحہٰ قریشی ایم بی ای نے لندن کے میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا جس میں صدر پاکستان پریس کلب مبین چوہدری، سینئر صحافی عامر غوری، سعید نیازی، آصف ڈار، اظہر جاوید، عرفان الحق، اکرم عابد اور عمر مجاہد نے شرکت کی۔ فورم کے ڈاریکٹر عمر قریشی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تقریب کے میزبان طحہٰ قریشی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اوورسیز میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اپنا میڈیا ہماری کمیونٹی کی موثر آواز بن رہا ہے اسی کی بدولت ہماری آواز برٹش ارباب اختیار تک پہنچ رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو انتہا پسندی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ انتہا پسندی بڑھنے کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف مغربی ممالک کی وہ پالیسیاں ہیں جن کے تحت مسلمان ممالک پر بمباری کی جاتی ہے اور اس صورتحال کو برداشت کرنا یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کے بس میں نہیں رہتا اور ان میں سے بعض انتہا پسندی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ طحہٰ قریشی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی تنظیموں، کمیونٹی سینٹرز اور مساجد کے ساتھ حکومت کو رابطہ رکھنا چاہیے۔ اور جب کسی مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی بات ہوتی ہے تو مسلمانوں کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔ جب مسلمانوں کو کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا اور حکومت یکطرفہ طور پر فیصلے کرکے عراق، شام یا کسی اور ملک پر بمباری کردیتی ہے تو اس کا فائدہ انتہا پسند اٹھاتے ہیں اور وہ نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جن افراد کو دہشت گردی کے کیسوں میں سزا دی جاتی ہے اور جب ان کی سزا ختم ہوتی ہے تو انہیں معاشرے ازسرنو بحالی کرنے کے لیے کمیونٹی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ دوبارہ انتہا پسندی کی طرف نہ چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیموں اور مساجد کو اس طرح کے کا م کرنے چاہئیں۔ طحہٰ قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت برطانیہ میں اسلامو فوبیا عروج پر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا یہ ظاہر کررہا ہے کہ جیسے مغرب کی اسلام کے ساتھ جنگ ہورہی ہے۔ داعش کو اسلامی مملکت قرار دے کر مقامی لوگوں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مغرب اسلام کے ساتھ لڑ رہا ہےحالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کو بند ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں۔ انہیں تاوان کے لیے اغوا کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح کے دیگر مسائل بھی ہیں۔ موجودہ حکومت نے اوورسیز پاکستانی کمیشن بناکر یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ وہ ان پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔ (رپورٹ: اکرم عابد)