مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
افغان طالبان کو پیشگی اطلاع اور افغان حکام کےحوالے کیے بغیر رہا کیاجا رہا ہے:افغان امن کونسل
اسلام آباد... آل پارٹیز کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق پاکستانی جیلوں سے طالبان کی رہائی کے بعد افغا نستان حکومت نے حسب معمول واویلا شروع کر دیا ہے کہ ان طالبان نے دوبارہ میدان جنگ کا رخ کر لیا ہے.. افغان حکام کے مطابق پاکستان کی طرف سے رہا کیے جانے والے 33 افغان طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مقصد امن مذاکرات میں مدد دینا تھا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکل رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بااثر طالبان مزاحمت کاروں کی رہائی کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے مذاکرات کا آغاز ہے لیکن ان کی رہائی سے میدان جنگ میں مصروف دیگر عسکریت پسندوں کے حوصلے بلند بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ درجنوں طالبان عسکریت پسندوں کو افغانستان کی جیلوں سے بھی رہا کیا گیا ہے لیکن اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔ عوامی سطح پر ابھی تک طالبان کرزئی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں سامنے آیا کہ وہ اپریل 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ صدر کرزئی طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان سے مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔ پاکستان سے افغان طالبان کی رہائی کے طریقہ کار سے متعلق شکایت کرتے ہوئے افغان امن کونسل کے سینئر رکن اسماعیل قاسم یار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو پیشگی اطلاع اور افغان حکام کے حوالے کیے بغیر رہا کر دیا جاتا ہے، ہم نہیں جانتے کہ رہائی کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور وہ کدھر جاتے ہیں۔ جب پاکستانی حکام طالبان رہنماؤں کی رہائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو صرف چند گھنٹے پہلے افغان حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے۔