مقبول خبریں
یورپین مسلم کونسل کے صدر میاں عبد الحق اور یو کے اسلامک مشن محمد صادق کھوکھر کا ناروے پہنچنے پر والہانہ استقبال
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
افغان طالبان کو پیشگی اطلاع اور افغان حکام کےحوالے کیے بغیر رہا کیاجا رہا ہے:افغان امن کونسل
اسلام آباد... آل پارٹیز کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق پاکستانی جیلوں سے طالبان کی رہائی کے بعد افغا نستان حکومت نے حسب معمول واویلا شروع کر دیا ہے کہ ان طالبان نے دوبارہ میدان جنگ کا رخ کر لیا ہے.. افغان حکام کے مطابق پاکستان کی طرف سے رہا کیے جانے والے 33 افغان طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مقصد امن مذاکرات میں مدد دینا تھا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکل رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بااثر طالبان مزاحمت کاروں کی رہائی کا مقصد کسی نہ کسی طریقے سے مذاکرات کا آغاز ہے لیکن ان کی رہائی سے میدان جنگ میں مصروف دیگر عسکریت پسندوں کے حوصلے بلند بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ درجنوں طالبان عسکریت پسندوں کو افغانستان کی جیلوں سے بھی رہا کیا گیا ہے لیکن اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔ عوامی سطح پر ابھی تک طالبان کرزئی حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں سامنے آیا کہ وہ اپریل 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ صدر کرزئی طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان سے مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔ پاکستان سے افغان طالبان کی رہائی کے طریقہ کار سے متعلق شکایت کرتے ہوئے افغان امن کونسل کے سینئر رکن اسماعیل قاسم یار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو پیشگی اطلاع اور افغان حکام کے حوالے کیے بغیر رہا کر دیا جاتا ہے، ہم نہیں جانتے کہ رہائی کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور وہ کدھر جاتے ہیں۔ جب پاکستانی حکام طالبان رہنماؤں کی رہائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو صرف چند گھنٹے پہلے افغان حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے۔