مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ورلڈ کانگریس آف اووسیز پاکستانیز کے زیر اہتمام سیمینار عامرغوری، افضال بھٹی و دیگر کا خطاب
لندن : اوورسیز پاکستانی ملک و قوم کا سرمایہ ہیں انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے آج تک وہ سہولتیں مہیا نہیں کی جاسکیں جتنی انکا حق تھا ۔ موجودہ حکومت اس قوم اثاثے کی دل و جان سے خدمت پر یقین رکھتی ہے اسلئے او پی ایف کے ہوتے ہوئے صوبائی سطح پر اووسیز پاکستانی کمیشن بھی قائم کر دیا جسے نا صرف آئینی تحفظ حاصل ہے بلکہ ان کے کام کا طریقہ کار بھی جدید ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ورلڈ کانگریس آف اووسیز پاکستانیز کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں کیا جسکا موضوع تھا ’’اورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور میڈیا کا کردار ‘‘۔ اے آروائی کے سینئر اینکر عامر غوری کو میڈیا کی طرف سے جبکہ او پی ایف کے ایم ڈی حبیب الرحمن اور اوورسیز پاکستانی فائونڈیشن کے کمشنر افضال بھٹی کو حکومت نمائندوں کے طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عارف انیس ملک نے ادا کئے ۔ او پی ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر حبیب الرحمن کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے سے وابسطہ شکایات کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیا جا رہا ہے ۔ اسلام آباد کی ہائوسنگ سوسائٹی کے طریقہ کار اور ورکنگ سے کسی کو شکایت نہیں ۔ آپ اسلام آباد جائیں تو اسے ضرور دیکھیں ۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم لوگوں کو جون تک پلاٹوں کا قبضہ دے دیں ۔ انہوں نے بتایا کہ فائونڈیشن کی رہائشی اسکیموں کو متعارف کرانے کیلئے برطانیہ اور دیگر ممالک میں روڈ شو منعقد کرائے جائیں گے ان میں فائونڈیشن کے دیگر پروگراموں کو بھی اجاگر کیا جائیگا ۔ جو اووسیز پاکستانیوں کے اہل خانہ کی فلاح بو بہود کے لئے کئے جا رہے ہیں ان میں سب سے اہم تعلیمی سہولتوں کی فراہمی ہے ۔ پاکستان میں فائونڈیشن کے 25سے زائد سکول کام کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ گرلز کالجز ہیں ۔ جن میں معیار تعلیم بہترین ہے ۔ پی آئی اے کے ذریعے جو میتیں پاکستان بھیجی جاتی ہے ۔ انہوں ائیور پورٹ سے گھر تک ایمبولنس کے ذریعے مفت بھیجنے کا انتظام ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 1979میں قائم اوورسیز فائونڈیشن لاہور میں قائم اووسیز پاکستانیز کمیشن کے ساتھ رابطہ میں ہے اور دونوں ادارے مربوط طریقے سے کام کر رہے ہیں ۔ اووسیز پاکستانیوں کی نمائندگی برطانیہ سے سید قمر رضا اور ایوب قریشی کرتے ہیں ۔ آپ ان سے اپنے معاملات پر رجوع کر سکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ورلڈ کانگریس جو ایک اچھا اور موثر ادارہ ہے کے ساتھ بھی فائونڈیشن کام کرے گا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے کمشنر افضال بھٹی نے کمیشن کی اب تک کی کارکردگی کی تفصیلات بتائیں ۔ اس سلسلے میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کو اب تک 2ہزار سے زائد درخواستیں بھیجی گئی ہیں ۔ جن میں لوگوں نے اپنی مشکلات اور مسائل کا ذکر کیا ہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ 58فیصد شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے ۔ باقی درخواستیں زیر غور ہیں ۔ ان میں یہ مشکل درپیش ہے کہ ان میں سے بیشتر کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ جن میں کمیشن مداخلت نہیں کر سکتا ۔ تاہم اس معاملے پر پنجاب کے چیف جسٹس سے بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ قبضہ گروپ رشتہ دار ہوتے ہیں ۔ لوگ اپنے اوورسیز پاکستانی رشتہ داروں کی زمینوں اور گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور نام قبضہ گروپ یا قبضہ مافیا ہو جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ اس طرح کے گروپ اور مافیا موجود ہیں ۔ افضال بھٹی نے بتایا کہ کمیشن کی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی نظام قائم کیا جا رہا ہے ۔ آزاد کشمیر کی ایک ٹیم تو ہم نے تربیت دے دی ہے اب وہاں بھی ایسا ہی کمیشن قائم کرنے کیلئے انتظامات ہو رہے ہیں ۔ سندن ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی ایسے کمیشن قائم کرنا وہاں کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ پنجاب میں کمیشن کے قیام کا سہرہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے سر جاتا ہے ۔ پاکستان ہائی کمیشن کے پریس اتاشی منیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے اغراض و مقاصد کی تعریف کی اور کہا کہ تقریب کے پہئے حصے میں میڈا کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئیں وہ بے حد معلوماتی اور مفید تھیں ۔ ورلڈ کانگریس کی یہ تقریب اہم معلومات کا ذریعہ ہے ۔ ہم اسی طرح سیکھتے ہیں ہماری کمیوٹی بہت اچھی ہے اس نے ملک میں اور باہر ملک میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ میڈیا ان کامیابیوں کو اجاگر کرے اور دوسروں تک پہنچائے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم کمیونٹی کے طور پر بہت کام کر رہے ہیں ۔ میڈیا ایسے پروگرام تیار کرے جس سے بچوں کو معلومات مل سکیں ۔ ایسی صورت میں ان کی دلچسپی پڑھے گی ۔ اس ضمن میں پاکستان ہائی کمیشن ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے تیار ہے ۔ گزشتہ دنوں اس نے یوتھ اور کونسلرز کنونشن منعقد کئے ۔ جن کے مقاصد یہی تھے کہ اپنی کمیونٹی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا جائے ۔ ورلڈ کانگریس آف اووسیز پاکستانیز کے کو چیئرمین سید ضمر رضا نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس بات پر معذرت کی کہ تقیرب کا آغاز تلاوت کلام سے نہیں کیاگیا، اس کے بعد انہوں نے تلاوت کلام پاک کی اور ا پنی بات کاآغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن بہترین کیی گنجائش ہرجگہ اور ہر وقت رہتی ہے اس ضمن میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے مسائل اور ان کے حل کیلئے خود بھی تجاویز پیش کریں ہم زندگی کے مختلف شعبوں کے حوالے سے ورلڈ کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیمینار اور اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ان پرباقاعدہ رپورٹس تیار کرتے ہیں کانگریس کااپنا جریدہ برج ہے جو یہ ضرورت پوری کرتا ہے میڈیا کے سرکردہ نمائندوں کو بلانے کے سلسلہ کی آج کی تقریب دوسری ہے۔ میڈیا کے بارے میں بھی ہم ایک جامع رپورٹ مرتب کرینگے انہوںنے کہا کہ ہمیں فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے خود بھی کوششیں کرنی ہوںگی میڈیا صرف ہماری رہنمائی کرسکتا ہے ہماری تقدیر نہیں بدل سکتا یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔ بچوں کی صحیح تربیت کریں گے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے چیلنجزکامقابلہ خودکرسکیں ساجد جاوید اور دیگر شخصیات کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سید قمر رضا نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرمسلط کردہ ایک جنگ ہے میں متحد ہوکر اس جنگ کوناکام بنانا ہوگا یہ بلاشبہ ایک مشکل وقت ہے لیکن جلد گزر جائے گا انہوںنے بجاطورپر کہا کہ میڈیا کا ریموٹ کنٹرول کمیونٹی کے ہاتھ ہے چیلنجز صحیح کام نہ کریں تو آپ انہیں بدل دیں اور ان کی ریٹنگ کم کردیں۔ اس نشست کے مہمان خصوصی اے آر وائی ڈیجیٹل کے معروف اینکر پرسن عامر غوری تھے انہوں نے کہا کہ جرائم کی خبریں سب سے زیادہ مقبول اور اہم قرار دی جاتی ہیں ان کونشر کرنے اور شائع کرنے کا مقصد یہ واضح کرناہوتا ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں اسی وجہ سے جرائم بڑھ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ پاکستانی ٹی وی چینلز کے صدر دفاتر پاکستان میں ہیں یہاں وہی پروگرام دکھائے جاتے ہیں جوپاکستانی ناظرین کیلئے تیارکئے جاتے ہیں نیوز چینلز مردحضرات زیادہ اور خواتین کم دیکھتی ہیں انہوںنے کہا کہ ہماری کمیونٹی کو وقت کے چیلنجز کا سامنا کرناچاہئے معاملات چھپانے کی بجائے انہیں کمیونٹی کے مفاد میں سامنے لانا چاہئے کمیونٹی اس بات سے آگاہ رہے کہ حکومت ہمارے نوجوانوں کو ہماری جاسوسی کیلئے استعمال کرتی ہے پاکستانی میڈیا صرف بیانات کورکرتی ہے اس کے پاس خبریں نہیں ہوتیں اس کی بنیادی وجہ کمیونٹی کا طرز عمل ہے ورلڈ کانگریس کے صدر ڈاکٹر سہیل چغتائی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہر معاشرہ کا اہم ستون ہوتا ہے اگر یہ ستون مضبوط اور غیرجانبدارا نہیں تو پوری معاشرتی عمارت ملبے کا ڈھیر بن جائے گی بعض چینلز لوگوں کی رہنمائی اور بعض چینلز استحصال کررہے ہیں میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ناظرین، قارئین اور سامعین کو گمراہ نہ کرے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض عارف ملک اور شاہینہ قریشی نے سرانجام دیئے جبکہ بیرسٹر گلنواز خان اور نوید احمد نے تقریب کے آغاز میں اپنی تقاریر میں میڈیا کے حوالے سے بعض سوالات اٹھائے اور تجاویز پیش کیں شرکاء تقریب میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سینئر سفارت کاروں حسن بن آفتاب، انجم سہیل کمیونٹی رہنمائی کونسلر محبوب چوہدری، راجہ اللہ داد، چوہدری محمد صدیق، شفقت ریاض گوندل، طارق ڈار، محمد اقبال، چوہدری دلپذیر، سید شوکت علی، جاوید شیخ، ایوب چوہدری، اشرف چغتائی، ستارہ انجم عمران منور، کامران خان، بیرسٹر راشد اسلم، امجد خان، افضال محمود، افضل اکرم، سعیدہ محمد سرور، مبین چوہدری، اظہر جاوید، جہاں زیب سیفی، اسلم چغتائی، سید حسن رضا شاہنواز خان، عائشہ غازی اور دیگر عمائدین شامل ہیں۔