مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
تعلیمات اہلسنت پر عمل پیرا ہونا دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہیں:پیر سید عبدالقادر شاہ جیلانی
لندن:ہمارے آقا مولاپیارے نبیؐکا اسوہ حسنہ کامل نمونہ ہے،ہمارے نبیؐ کی تعلیمات میں اپنے والدین کے ساتھ جس طرح نیکی کرنے کا حکم ملتا ہے اس طرح کا ادب،خدمت اور وفا کا درس آج کی جدید سوسائٹی پیش کرنے سے قاصر ہے،قرآن میں ارشاد ہے،جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ اللہ رب العزت کا یہ فیصلہ ہے کہ عبادت صرف اسکی کی جائے اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے انہیں ہرگز ڈانٹا نہ جائے بلکہ اف تک نہ کہاجائے ان کیلئے دعا مانگی جائے،حدیث میں آتا ہے جسکا مفہوم ہے کہ ایک شخص نبی پاکؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر جہاد میں حصہ لینے کی اجازت مانگتا ہے نبی پاکؐ نے اس سے پوچھا کہ تیرے والدین زندہ ہیں تو اس نے کہا ہاں،فرمایا پھر انکی خدمت کے ذریعے جہاد کرو،ان خیالات کا اظہار پیر سید عبدالقادر شاہ جیلانی نے دارالعلوم قادریہ جیلانیہ میں منعقد چوہدری لیاقت علی قادری و چوہدری علی قادری کے والدین کے سالانہ ختم پاک کی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزید کہا کہ معلومات اہل سنت کی اصل سنت سے ثابت ہے،ایصال ثواب ایک ایسی حقیقت ہے کہ کوئی مسلمان بھی اسکی شرعی حیثیت کا منکر نہیں ہو سکتا،نبی پاکؐ سے مختلف اوقات میں ایسے بندے کیلئے جو اس دنیا سے جا چکا ہے کیلئے نیک اعمال ثواب ایصال کرنے کے متعلق سوال ہوتے رہے جس پر آپ ہاں کے ساتھ جواب دیتے رہے بلکہ مختلف وقفوں میں مختلف اعمال کے طریقے ارشاد فرماتے رہے،صدقہ و خیرات اور تلاوت کی تعلیم ارشاد فرماتے رہے بلکہ بخاری شریف میں تو یہاں تک ہے کہ درخت کی ٹہنی دو حصے کر کے دو قبروں پر لگا کر فرمایا کہ جب تک یہ ہری رہیں گی امید ہے کہ ان کے عذاب میں تحفیفرہے گی علما حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کے چونکہ ٹہنی اس وقت تک زندہ سمجھی جاتی ہے جب تک سبز رہے اور جو چیز زندہ ہوتی ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد کرتی ہے اور ایسی حمد کا فائدہ صاحب قبر کو ہوتا ہے جس سے اس کے عذاب میں کمی رہتی ہے اگر ٹہنیوں کی پڑی ہوئی تسبیح سے قبروالوں کو فائدہ ہو سکتا ہے تو بندے کے پڑھے ہوئے قرآن کا فائدہ صاحب قبر کو کیوں نہیں ہو سکتا،عام طور پر مسلمان جنازوں کے ساتھ دانے نمک اور کھجوریں وغیرہ لے جاتے ہیں تو لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ رسم و رواج ہم نے غیر مسلموں سے اخذ کی ہیں،یہ بات بالکل غلط ہے،اس بات کا ثبوت تو حدیث میں ملتا ہے کہ ایک صحابی سے نبی پاکؐ نے ان چیزوں کے بارے میں استفسار فرما کر منگوائیں اس بات کو دیو بند کے ایک مشہور عالم علامہ اعزاز علی نے السمارق کتاب میں بیان کیا ہے،آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو صحیح اسلامی تعلیم سے روشناس کر کے اسلامی تہذیب و تمدن کو زندہ کیا جائے،محفل سے صاحبزادہ سید صابر حسین شاہ گیلانی،صاحبزادہ سید مظہر حسین شاہ گیلانی،حافظ علامہ حسنات احمد قادری،خلیفہ حافظ اشتیاق علی قادری،حضرت علامہ جنید عالم قادری،ارشد جمیل،سید کاظمی نے خطاب کیامحفل میں پاکستان ہائی کمیشن کے منسٹر سہیل،میٹرو پولیٹن پولیس کے کمانڈر مخدوم چشتی،علامہ جنید عالم قادری،چوہدری دلپذیر،کونسلر چوہدری محبوب،امجد خان،الحاج راجہ اللہ دتہ،راجہ محمد زراعت خان،سابق میئر کونسلر ندیم علی،کونسلر جوہر خان،سابق میئر کونسلر مسعود احمد،حاجی چوہدری محمد صدیق،ریزیڈنٹ ایڈیٹر اوصاف مبین چوہدری،ویکلی نیشن کے چیف ایڈیٹر محمد سرور ،چوہدری علی اکبر،حاجی چوہدری محمد رمضان،شنواری ریسٹورنٹ کے شاہد خان،اعجاز خان،پروفیسر ظفر اقبال،قاری علی احمد،رفیق مغل،اے آر وائی کے فرید قریشی،تیموراقبال،شہزاد حیات،چوہدری عبدالمجید،چوہدری محمد اشرف قادری،غلام ربانی صاحب اور دیگر شامل تھے۔