مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان انتہائی ذمہ داری سے اندرونی وبیرونی محاذ پر نظر رکھے ترقی کررہا ہے: نواز شریف
لندن ... وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وطن عزیز انتہائی ذمہ داری سے اندرونی اور بیرونی محاذ پر نظر رکھے ترقی کا سفر طے کررہا ہے، ہم نے اپنے ہمسایوں سے جو عالمی معاہدے کر رکھے ہیں ان پر عمل پیرا ہیں جبکہ ان سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کو عزیز رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سویزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاسوں میں شرکت کے بعد برطانوی دارالحکومت لندن آمد کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغان حکومت نہیں بلکہ وہاں رہنے والے دہشت گرد ہیں۔ ایک مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار حملوں کی روک تھام ہونی چاہئے اس حوالے سے افغانستان سے معاہدہ ہے کہ دونوںممالک امن کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دینگے۔ انکا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ حملے پر لیڈز ملی ہیں ان پرتحقیقات کررہے ہیں ،تحقیقات مکمل ہونے پر جو بھی حقیقت ہوگی اسے سامنے لائيں گے،پٹھان کوٹ کی تحقیقات کے معاملے پر ہم درست لائن پر جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا افغانستان سے معاہدہ ہے کہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،کچھ عناصر جو افغانستان میں اپنے طورپر یہ ایکٹ کرتے ہیں ، اور دہشت گردی کرتےہیں۔افغانستان میں امن کا واحد راستہ بات چیت کا ہے ، اس کے لیے ہم سب مل کر کوشش کرنے ہو گی ، افغانستان میں امن کی ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں ہم سب کی ہے ۔ہم نے پاکستان ، افغانستان ، امریکا اور چين پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے ، اس کمیٹی کی ایک میٹنگ کابل میں ہوئی جو اچھی رہی۔ سعودیہ عرب اور ایران تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری خواہش ہے سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاملات ٹھیک ہوں ، ٹینشن اور دوریاں ختم ہوں ، انہوں نے وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ سعودی عرب اور ایران میں ثالثی کا فیصلہ ہم نے خود کیا تھا ، کسی نے ہمیں کہا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے اوپر کام ہو رہا ہے کچھ نکات پر تیزی سے اور کچھ پر سستی سے کام ہو رہا ہے جس کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم نے وہاں زبیر گل کی قیادت میں ملاقات کیلئے آئے پارٹی کارکنان سے بھی بات چیت کی جن میں ناصر بٹ، رانا شکور، میاں مسرور سعید، ملک ریاض، چوہدری انجم، زیب چوہدری، عنصر چوہدری و دیگر شامل تھے۔ (رپورٹ: اکرم عابد)