مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یہ آگ آسانی سے ٹھنڈی نہ ہوگی ، زخم آسانی سے نہ بھریں گے
ایک ہفتے میں کیا بدل سکتا ہے؟ ایک ہفتہ قبل روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ستر کی حد پار کرنے کو تھا، اب ساٹھ کے قریب ہے، بی جے پی کے بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی کے اختلاف کے باوجود وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نریندر مودی کے نام کا اعلان ہوچکا ہے، مظفر نگر میں ایک مذہبی فساد ہونے کو تھا، اب کم سے کم چالیس لوگ مارے جاچکے ہیں، اور اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبان تھی ، اب مسلم تنظیمیں ہی اس کی حکومت برخاست کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تو ایک ہفتے میں کافی کچھ بدل سکتا ہے۔ اور جو مظفرنگر میں ہوا، وہ صرف اس علاقے کا ہی نہیں پورے ’ہندی بیلٹ‘ کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں، سیاسی اور سماجی۔ سیاسی یہ کہ مسلمان آئندہ پارلیمانی انتخابات میں اب کسے ووٹ دیں گے اور وہ لوگ جنہیں مسلمانوں کے ووٹ نہیں چاہیئیں، ان کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ ان کی حکمت عملی تو واضح ہے۔ مسٹر اڈوانی کی مخالفت کے باوجود بی جے پی کی طرف سے وزیراعظم کے عہدے کے لیے گجرات کے متنازع وزیر اعلٰی نریندر مودی کے نام کا اعلان جمعہ کو کر دیاگا۔ مودی ہندوتوا کے سب سے بڑے ’پوسٹر بوائے‘ ہیں اور یہ بات طے ہے کہ ان کے آنے سے مذہبی انتشار بڑھے گا۔ ان کی کوشش ہندو ووٹ کو متحد کرنے کی ہے اور اب مظفر نگر کے دیہی علاقوں میں بھی ’مودی لاؤ ہندو بچاؤ‘ کے نعرے سنے جا سکتے ہیں۔ بی جے پی اگر اس راستے پر چلے گی تو بظاہر ہندو ووٹ متحد ہونگے، مسلم ووٹر خوفزدہ ہوگا اور انہیں حفاظت کی یقین دہانی کرانے والوں کی قطار ذرا اور لمبی ہوجائے گی۔ حفاظت کا یہ وعدہ ہی مسلمانوں کو بیس سال پہلے سماج وادی پارٹی کی طرف لے گیا تھا اور شاید مظفرنگر کے فساد کے بعد ان کی واپسی کا سفر شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے ٹی وی چینل اور اخبار ان الزامات سے بھرے پڑے تھے کہ اجودھیا میں ہندو قوم پرست تنظیمیں جب مندر کی تعمیر کے لیے یاترا نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں تو انہیں سماج وادی پارٹی کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ پارٹی انکار کرتی ہے لیکن تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کوشش یہ تھی کہ ہندو ووٹ بی جے پی کو جائے اور مسلمان سماجوادی پارٹی کو، کیونکہ اترپردیش کی انتخابی جنگ میں ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ دو ہزار چودہ میں دہلی پر کس کی حکمرانی ہوگی۔ اسی لیے سماج وادی پارٹی کو اب اس الزام کابھی سامنا ہے کہ اس نے مظفرنگر کا فساد روکنے کے لیے بروقت اور مناسب کارروائی نہیں کی۔ سچ کیا ہے یہ تو شاید کبھی سامنے نہیں آئے گا لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر یہ کوئی گیم تھا تو سماج وادی پارٹی کی چال الٹی پڑ گئی ہے۔ مسلم ووٹ اتر پردیش کی 80 میں سے زیادہ تر سیٹوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں اور اب مسلمانوں کےسامنے دو راستے باقی رہتے ہیں، یا تو وہ مایاوتی کےساتھ جائیں یا کانگریس کے۔ اور شاید ان کی کوشش یہ ہوگی کہ مقامی سطح پر دونوں میں سے جس کا امیدوار بھی زیادہ مضبوط نظر آئے، اس کی حمایت کی جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سماج وادی پارٹی کے لیے یہ بُری خبر ہوگی کیونکہ اس کی سیاست بنیادی طور پر ’مسلم ووٹ بینک’ پر ہی ٹکی ہوئی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بری خبر مظفرنگر کے فساد کا سماجی پہلو ہے۔ گجرات میں دو ہزار دو کے بعد ملک کا یہ سب سے بڑا مذہبی فساد ہے۔ اتر پردیش میں انیس سو بانوے کے بعد اب ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں۔ ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے۔ ایک عرصے سے ملک میں یہ کہا جانے لگا تھا کہ بڑے مذہبی فسادات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، لوگوں کی دلچسپی اب اقتصادی ترقی میں ہے، وہ تعلیم اور نوکریاں چاہتے ہیں اور وہ اپنی زندگیا بدلنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ تجزیہ پوری طرح درست نہیں تھا۔ مظفرنگر میں جو آگ لگی ہے وہ آسانی سے ٹھنڈی نہیں ہوگی، یہاں جاٹ اور مسلمان ہمیشہ سے مل کر رہتے تھے، اس کی جگہ اب نفرت نے لے لی ہے۔ اب یہ خطرہ رہے گا کہ کہیں یہ لپٹیں دوسرے علاقوں میں نہ پھیل جائیں۔ کچھ دنوں بعد شاید لوگ اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوجائیں گے لیکن زخم آسانی سے نہیں بھریں گے۔ اس فساد سے کون جیتا یہ تو پارلیمانی انتخابات سے ہی پتا چلے گا، لیکن جو ہارے ہیں ان سے اگر آپ ملنا چاہیں تو ان کے گھروں سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے۔ ( سہیل حلیم ... بی بی سی اردو)