مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پہلے مسلمان برطانوی پارلیمنٹیرین محمد سرور کی سوانح حیات کی لندن میں تقریب رونمائی
لندن:سابق ممبر پارلیمنٹ محمد سرور ہمت ، محنت اور جہد مسلسل کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، انہوں نے عملی طور پر وہ کچھ حاصل کرکے دکھایا جسکے خواب عام لوگ دیکھتے رہ جاتے ہیں، انہوں نے اپنے حلیم طبیعت کے باعث سیاست اور بزنس سمیت تمام تر شعبہ ہائے زندگی میں دوست بنائے اور نام کمایا۔ ان خیالات کا اظہار برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے گلاسگو سے پہلے مسلمان برطانوی پارلیمنٹیرین محمد سرور کی سوانح حیات مائی ریمارک ایبل جرنی (میرا قابل قدر سفر) کی تقریب رونمائی میں کیا۔مہمان خصوصی اسپیکر پارلیمنٹ جان برکو تھے جنہوں نے صاحب کتاب سے اپنی جان پہچان سمیت انکی شخصیت کے بہت سے پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ دیگر اہم مقررین میں لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن، اینڈی برنہیم، لارڈ نذیر احمد، میئر آف لندن کے امیدوار صادق خان، لارڈ قربان حسین، عمران حسین، یاسمین قریشی، بیرونس الدین، ڈیو انڈرسن، جیرالڈ کافمین، جان میک ڈونلڈ سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ شامل تھے۔ خالد محمود ایم پی نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے جبکہ سابق ایم پی انس سرور، تحریک انصاف کے رہنما صاحبزادہ جہانگیر، امجد خان، ورلڈ کانگریس آف اوورسیز کے چیئرمین سید قمر رضا، تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی کے چیئرمین مشتاق لاشاری، پاکستان پریس کلب یوکے کے صدر مبین چوہدری سمیت دیگر اہم شخصیات شریک محفل تھیں۔ اسپیکر جان برکو کا کہنا تھا کہ محمد سرور نے اپنی محنت سے کامیابی کے زینے طے کئے۔ وہ مالدار ہونے کے باوجود ہمیشہ ان کے بارے میں سوچتے، جن کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ وہ ایک اچھے انسان ہی نہیں بلکہ زبردست منتظم بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے وقت وہ ایک مرتبہ گلاسگو گئے تو محمد سرور نے ایک چیرٹی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ اس تقریب کی تشہیر بھی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اس کے انعقاد میں صرف چند روز باقی تھے۔ جب میں تقریب میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں سیکڑوں لوگ موجود تھے اور چیرٹی کے ذریعے ملین پونڈ سے زائد کی رقم جمع ہوئی۔ یہ میری زندگی کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ لیبر لیڈر جیریمی کوربن نے کہا چوہدری محمد سرور نے برطانوی پارلیمنٹ میں پہلا مسلم رکن پارلیمنٹ بن کر تاریخ رقم کی اور ہمیشہ سماجی انصاف کے لئے کوشاں رہے۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں شاندار خدمات سرانجام دیں اور اب وہ پاکستان میں بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد سرور نے برطانیہ میں اس بات کی آگاہی پیدا کی کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور پاکستانی کمیونٹی ایماندار اور محنتی ہے۔ انکی خدمات پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے محمد سرور کو ایک معمولی بزنس سے بزنس امپائر بنانے اور پھر سیاست میں بھی کامیابی حاصل کرنے پر انہیں زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔ شیڈو چانسلر جان میکڈونلڈ نے کہا کہ محمد سرور نے عراق اور افغانستان کی جنگ سے قبل اس کی مخالفت کی تھی۔ بعد میں ان کا موقف درست ثابت ہوا۔ محمد سرور ہمیشہ انسانیت کی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وہ پاکستان میں بھی منعقدہ چیرٹی پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ وہ بااصول سیاست دان ہیں اور سخت محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی، ان کے صاحبزادے انس سرور کی پارلیمنٹ میں لانے کی کوشش کرے گی۔ شیڈو کابینہ کے رکن اینڈی برنیم نے کہا کہ محمد سرور نے سیاست میں آکر کئی ملین افراد کو نئی امید دی۔ ان کی خدمات کا ذکر تاریخ میں درج ہوگا۔ ان کی لیبر پارٹی اور کمیونٹی کےلئے خدمات پر فخر ہے۔ جیرالڈ کافمین نے کہا کہ محمد سرور پہلے رکن پارلیمنٹ تھے جنہوں نے قرآن پر حلف لیا، محمد سرور محنت پر یقین رکھتے ہیں اور اب بھی سیاست کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لارڈ نذیر احمد نے صاحب کتاب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا محمد سرور کی پاکستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں تبدیلی کی خاطر اپنی برطانوی شہریت تک چھوڑ دی حالانکہ ان کا خاندان، بزنس اور کمیونٹی سب کچھ یہاں ہے۔ انہوں نے تعلیم اور صاف پانی کے حصول کے لئے محمد سرور کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ محمد سرور تحریک انصاف پنجاب کے صدر منتخب ہوں گے۔ رکن پارلیمنٹ اور میئر لندن کے لئے لیبر امیدوار صادق خان نے کہا کہ محمد سرور کی پوری زندگی سخت محنت سے عبارت ہے۔ وہ بزنس میں کامیابی کے بعد سیاست میں آئے، مجھ سمیت دیگر نئے آنے والوں کے لئے راستہ بنایا۔ انہوں نے جب سیاست میں قدم رکھا تو حالات آج سے بہت مختلف تھے لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ - لارڈ قربان حسین نے کہا کہ برطانیہ کی سیاست میں شاندار خدمات سرانجام دینے کے بعد محمد سرور نے بطور گورنر بھی اعلیٰ خدمات کا مظاہرہ کیا۔ تعلیم کے فروغ اور صاف پانی کے حصول کے لئے ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ وہ مثبت تبدیلی کے لئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ برطانوی سیاست میں سرگرم رہنے والے افراد کی خدمات سے فائدہ اٹھائے۔ کیونکہ برطانوی ماحول میں وقت گزارنے اور تجربہ حاصل کرنے والے افراد اپنے وطن کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ بیرونس الدین نے اس امید کا اظہار کیا کہ محمد سرور پاکستان کے لئے یقیناً بہتر کام کریں گے کیونکہ وہ سچائی اور محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ تقریب کے میزبانی اور نظامت کے فرائض سرانجام دینے والے محمد خالد ایم پی نے کہا کہ میں نے جب سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو محمد سرور نے میری بہت حمایت کی اور انہوں نے پارلیمنٹ پہنچ کر جو راستہ کھولا آج اس پر چل کر بہت سے افراد یہاں تک پہنچ چکے ہیں۔ عمران حسین ایم پی نے کہا کہ چند دہائی قبل پاکستان سے آنے والی نسل کو مختلف شعبوں میں سخت محنت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن سیاست کی میدان میں قدم رکھ کر محمد سرور نے جو بیج بویا تھا آج ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف باب لکھےہیں لیکن وہ جس طرح سرگرم ہیں اس سے لگتا ہے کہ ابھی خدمت کے مزید باب لکھے جائیں گے۔ اس موقع پر محمد سرور نے اہم مہمانون میں اپنی دستخط شدہ کتب بھی تقسیم کیں۔