مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جو قرآن کو اچھی طرح اپنا لے وہ در بدر کی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاتا ہے: اسلم رشید اسلمؔ
لندن:ایسٹ لندن کے صدر اسلم رشید اسلمؔ نے درسِ قرآن کا فریضہ انجام دیا اور سامعین سے قرآن کو بامعنی پڑھنے کی عادت ڈالنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کو جو شخص اچھی طرح اپنا لے وہ در بدر کی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال ؒؔ نے مولانا مودودی صاحب کو حیدرآباد دکن سے پٹھانکوٹ میں منتقل ہونے کی دعوت دی تھی اور فرمایا تھا کہ 6 مہینے میں آپ کے ساتھ دین کی خدمت کے لیئے صرف کروں گا اور 6 مہینے گھر پر رہوں گا ۔ ہمیں دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور علم حاصل کرنے میں کوئی عمر کی قید نہیں بلکہ دین کو جاننا ہر عمر میں فرض ہے ۔سیمینار کے سٹیج سکریٹری محمد اسلم چغتائی صاحب نے نعتِ رسول مقبولؐ سے حاضریں کو محظوظ کیا ۔ انہوں نے حالاتِ حاضرہ اور یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں بتایا کہ ہمیں آپس میں مل بیٹھ کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہو گا ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کچھ خود غرض سیاستدا ن اور کچھ علمائے کرام جو اپنے ملکوں سے یہاں آتے ہیں وہ ہمارے اتحاد اور بھائی چارے کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ وہ وہاں کے مسائل کو یہاں آ کر حل کرنا چاہتے ہیں اور بجائے اتحاد کے انتشار پھیلا کر چلے جاتے ہیں ۔جموں کشمیر ھیومین رائیٹس موومینٹ کے چیئر مین اور کیئر لنک السوسی ایشن آف سینیئرسٹیزنز کے صدر پروفیسر شاہد اقبال نے اپنے خطبہء ِ استقبالیہ میں کہا کہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ،کشمیر دنیا کے ایجنڈے پر ایک تاریخی اور حل طلب مسلہ ہے ۔ وہاں روزانہ کسی نہ کسی گھر کا دیا بجھ جاتا ہے ۔ ہر علاقے میں قابض فوج کا ظلم برپا ہے اور سخت سردی اور برفباری میں کشمیر کے لوگوں کی حالت مذید بگڑ جاتی ہے ۔ نہیں پتہ کس کو کس پہ سبقت ہے یہ تو ہمارا رب جانتا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام مہذب لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کو آزاد کرانے میں اپنا رول ادا کریں ۔پروفیسر شاہد اقبال نے کہا کہ ایک سچے اور پرہیز گار مسلمان سے کسی بھی غیر مسلم کو خطرہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اُن کا ہر لحاظ سے محافظ ہی ہوتا ہے ۔ ہمیں اپنے دین کو عملی طور پر اپناتے ہوئے اپنے کردار سے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو دکھانا ہے کہ ہم آپ کے دشمن نہیں ہیں ۔ ظلم ہم سہہ رہ ہیں اور ظالم بھی ہمیں ہی کہا جا رہا ۔ یہ میڈیا کا دوھرا معیار ہے ۔تنظیم کے سینئیر نائب صدر ڈاکٹر ظفر علی نے کہا کہ یہاں ہمیں اپنے حقوق کے لیئے آگے بڑھنا ہے سوسائیٹی میں اپنے آپ کو نظرئیے کی بنیاد پر ایڈجسٹ کریں اس لیئے کہ نظرئیے کی بنیاد زندہ رہتی ہے باقی سب کچھ غلط ملط ہو جاتا ہے ۔ یہاں کے بچے سچ بولتے ہیں لہذا جب ہمارے بچوں کو اپنے دین کا پورا علم ہو گا تو وہ دوسرے مذاہب کے بچوں کو اپنے کردار اور علم سے دینِ حق کا راستہ دکھا سکتے ہیں ۔ کچھ انسان دشمن اور امن دشمن ایجنسیاں نوجوانوں کو درغلانے کی کوشش میں ہیں جس پر ہمیں کڑی نظر رکھنی ہو گی ۔ اگر ہم اللہ سے ڈرتے ہیں اور کسی انسان اور اس کی جائیداد کو نقصان نہیں پہنچاتے تو پھر ہمیں کسی سے ڈرنے یا خوف کھانے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ سب سے بڑا حاکم اللہ ہمارے ساتھ ہو گا ۔ بس میری یہ گزنارش ہے کہ اپنے بچوں کو وقت دیں ، اُن کی تربیت پوری طرح کریں تا کہ وہ اس دجالی دور کے فتنوں سے محفوظ رہ کر اپنی زندگی صراط مستقیم پر گزار سکیں ۔ نوجوان رضاکار محمد ظفر رانا نے کہا کہ ایسی معلوماتی محافل کا انعقاد کرنا واقعی ایک عمدہ کارنامہ ہے ۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو اپنے ساتھ لایا کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان جنریشن گیپ بڑھ رہی ہے ۔ اس کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ کمیونٹی لیڈر اقبال نجیب نے کہا کہ میں نے کشمیر دیکھا ہے اور یقین سے کہتا ہوں کہ کشمیر جیسا خوبصورت ملک دنیا میں کوئی بھی نہیں ۔ کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے اور اس کی آزادی کے لیئے پاکستان سمیت تمام دنیا کو اپنا رول ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ انگریز دانشوروں نے کہا تھا کہ ہمیں مسلم تہذیب اور ہنر سے فائیدہ ملا ہے اور سپین میں مسلم دور کی طرز حکومت اور انسانیت کی بھلائی کے لیئے عملی اقدامات اور خوبیوں کو ہم تسلیم کرتے ہیں ۔ کمیونٹی لیڈر ضیا احمد نے کہا کہ یورپ میں مسلمانوں پر اور خاص کر با پردہ خواتیں پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہمارے لیئے لمحہِ فکریہ ہے ۔ لہذا ہمیں حکمرانوں اور دوسرے ذمہ دار حلقوں سے رابطے کر کے اپنے مسائل کو اجاگر کرنا ہو گا ۔ یورپ میں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ضیا احمد نے سب کی توجہ چاہی ۔امید گروپ کے آرگنائیزر محمد اسلم زاہد نے ضیا احمد کی توجہ دلائو نوٹس پر کہا کہ ہمیں اس معاملے میں کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا ۔ کیونکہ اب یہاں کا میڈیا بھی بددیانتی سے کام لے رہا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف جُھوٹے اور من گھڑت پروپیگنڈے کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ مسلمان امن سے رہنا چاہتے ہیں ۔عرفان احمد نے کہا کہ ہمیں دین کی تبلیغ سنجیدگی سے کرنی چاہئے اور جو لوگ اپنے آپ کو سیکولر کہلاتے ہیں وہی مسلمانوں کے بارے میں نفرت پھلا رہے ہوتے ہیں ۔عبدلرئوف قاضی نے اپنی کتاب ’’ ذریتہ آدم ‘‘ پروفیسر شاہد اقبال کو بطور تحفہ پیش کی ۔ انہوں نے کہا مجھے اس بابرکت دانشوروں کی محفل میں شامل ہونے سے خوشی محسوس ہوئی اور میں آئیندہ بھی اس محفل میں شرکت کرتا رہوں گا ۔ اُنکی کتاب ’’ ذریتہ آدم ‘‘ کی باضابطہ رونمائی 23 جنوری 2016 کو ہو گی انشا اللہ ۔کیئر لنک سیینئر سٹیزنز کے میڈیا ایڈوائیزر محمد اشرف حکیم نے خدمتِ خلق اور عام انسانوں کے کردار کے بارے میں چند مثالیں پیش کیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ غریب لوگوں کو اللہ نے ایسی سمجھ عطا کی کہ وہ اپنے گائوں کی بجلی اور پانی کی ضروریات اور گرمی سے بچنے کی ایجادات کے علاوہ حال ہی میں ایک لڑکی نے ٹیشو پیپر سے پٹرول ایجاد کر کے دنیا کو حیران کر دیا ۔تنظیم کے جونئیر نائب صدر ڈاکٹر رحیم اللہ شادؔ نے شیخ شجاع کی کتاب میں شامل مضامیں ’’ قائد اعظم محمد علی جناح اور اردو زبان ‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی انسان مکمل نہیں ہے ، ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا ہے اور سکھانا بھی ہے ۔ ڈاکٹر اصغر بٹ ، محمد لطیف منھاس ، نزیر احمد بٹ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ شیخ محمد یوسف ، محمد یونس ڈویا نے غزل اور نعت پیش کی اور بوستان خان نے کلامِ اقبال ترنم سے پیش کیا ۔پروفیسر شاہد اقبال نے بتایا کہ حکومت ِ پاکستان کے ایک اعلیٰ آفیسر نے انہیں ہالینڈ کے سفر کا ایک خاص واقع بیان کیا ۔ وہ اپنی بیگم کے ساتھ بس میں سفر کر رہے تھے اور آپس میں پشتو زبان میں باتیں کر رہے تھے کہ ساتھ والی سیٹسں پر بیٹھے ایک سفید جوڑے نے اُنہیں سلام کیا ۔ خان صاحب نے وعلیکم سلام کرنے کے بعد دریافت کہا کہ آپ مسلمان ہیں اور پشتو بھی سمجھ لیتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا الحمدُ للہ ہم نے 8 سال پہلے اسلام قبول کیا ہے ۔ وجہ یہ بنی کہ ہم دونوں میاں بیوی ڈاکٹر ہیں ، دولت وافر ہے ، دنیا کی سیر و تفریح بھی کرتے ہیں لیکن سکونِ قلب نہیں تھا تو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ تمہارے پڑوس میں جو یہودی رہتا ہے اُس سے مشورہ طلب کرو ۔ ہم نے یہودی سے جب اپنا مسلہ بیان کیا تو اُس نے کہا کہ اُس کے پاس اِس بے سکونی کا فارمولا ہے لیکن آپ پہلے وعدہ کرو کہ مجھے خود یہ فارمولا اپنانے کا مطالبہ نہ کرو گے ۔ انہون نے وعدہ کر لیا تو یہودی نے کہا بے سکونی کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ آپ اسلام میں داخل ہو جائو ۔ انہوں نے فوراً اعتراض کیا کہ آپ خود کیوں نہیں اسلام قبول کر لیتے ۔ یہودی نے وعدہ یاد دلایا ، پھر خود ہی کہنے لگا کہ ہمارا یقین ہے کہ خدا کا مذہب اسلام ہے لیکن چونکہ باقی سارے پیغمبر بنی اسرائیل سے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں ایک بغض ہے اور ایک خوامخواہ کا غصہ و ضد ہے جو ہمارے دلوں پر مسلط ہے ۔ اس وجہ سے ہم اپنی ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔سابقہ مئیر شیخ شجاع نے اپنی کتاب ’’ تقاریر و تصانیف Lectures And Writings ‘‘کے بارے میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے اردو زبان ، قائد اعظمؒ اور دوسرے مضامیں پر تحقیق کی ہے ۔ انہون نے کہا کہ قائد اعظمؒ نے پاکستان بنایا اور اس عظیم کارنامے میں اردو زبان کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ انہوں نے ایک ہندو لیڈر کا ذکر کیا جس نے کشمیر کے دورے کے بعد بیان دیا تھا کہ بھارت کشمیر پر ظلم کر رہا ہے ۔ شیخ شجاع کی کتاب کی رونمائی جناب رفعت لودھی چیئر مین کیئرلنک ٹرسٹ یوکے نے اپنے مبارک ہاتھوں سے انجام دی ۔ رفعت لودھی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ جذبات و خیالات کو کھل کر بیان کرنا چاہئے ۔ مسائل ہمارے ہی نہیں پوری دنیا کے مسائل ہیں لیکن کیا یہ مسائل صرف ہمار تقاریر سے ہی حل ہو جائیں گے ؟ نہیں ، بلکہ اپنے خیالات کو عملی شکل دینے سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور یہی کیئر لنک کا بنیادی مقصد ہے کہ ہم تجربہ کار بزرگ شہریوں سے استفادہ حاصل کریں ۔ اپنی نئی نسل کی درست طریقے پر نشونما کریں اور یہ نشونما صرف اپنی ہی نہیں پوری اُمت کے بچوں کی نشونما بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے ۔ ہمارا اس میں کوئی کمال نہیں ہے کہ ہم نے کیئر لنک کا پلیٹ فارم تیار کیا اور اس پلیٹ فارم کے زریعے ہم فلاح عامہ کے بارے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ سب ہمارے خالق ہمارے مالک اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی ہے کہ وہ ہمیں اپنی مخلوق کی خدمت و رہنمائی کے لیئے ہماری مدد کر رہا ہے ۔