مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وسائل تک رسائی اور غربت میں کمی کیلئے 232 ملین افراد تارک وطن ہیں: اقوام متحدہ
لندن... دیس نکالا کسی دور میں سزا ہوتی تھی اب لوگ رقوم خرچ کرکے دوسرے ممالک جاتے ہیں ..اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں میں تقریباً 232 ملین افراد تارکینِ وطن کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور کے سیکریٹری جنرل وُو ہونگبو نےکہا کہ مائیگریشن سے افراد کو دستیاب مواقع بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل وسائل تک رسائی بڑھانے اور غربت میں کمی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے زیادہ تر ڈیٹا مختلف ملکوں میں قومی سطح پر کی گئی مردم شماری سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تارکین وطن امریکا، روس، جرمنی اور سعودی عرب سمیت دس مخصوص ملکوں کا زیادہ رُخ کرتے ہیں۔ قوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور میں مائیگریشن کےشعبے کے سربراہ بیلا ہووی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشائی خطے سے مغربی ایشیائی ملکوں میں منتقلی کا رجحان بھی کافی زیادہ ہے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات میں آباد بھارتی شہریوں کی تعداد 29 لاکھ ہے۔ تمام تر فوائد کے باوجود مغربی ایشیائی ملکوں میں ورکروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ بھی پایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں گھریلو ملازمین بالخصوص غیرمحفوظ ہیں۔ اس وقت ہر دس تارکین وطن میں سے چھ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں آباد میں ہیں۔ ورپ میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تاہم ان کی مجموعی آبادی کی شرح کے تناظر میں یہ تعداد دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔