مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وسائل تک رسائی اور غربت میں کمی کیلئے 232 ملین افراد تارک وطن ہیں: اقوام متحدہ
لندن... دیس نکالا کسی دور میں سزا ہوتی تھی اب لوگ رقوم خرچ کرکے دوسرے ممالک جاتے ہیں ..اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں میں تقریباً 232 ملین افراد تارکینِ وطن کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور کے سیکریٹری جنرل وُو ہونگبو نےکہا کہ مائیگریشن سے افراد کو دستیاب مواقع بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل وسائل تک رسائی بڑھانے اور غربت میں کمی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے زیادہ تر ڈیٹا مختلف ملکوں میں قومی سطح پر کی گئی مردم شماری سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تارکین وطن امریکا، روس، جرمنی اور سعودی عرب سمیت دس مخصوص ملکوں کا زیادہ رُخ کرتے ہیں۔ قوام متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور میں مائیگریشن کےشعبے کے سربراہ بیلا ہووی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشائی خطے سے مغربی ایشیائی ملکوں میں منتقلی کا رجحان بھی کافی زیادہ ہے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات میں آباد بھارتی شہریوں کی تعداد 29 لاکھ ہے۔ تمام تر فوائد کے باوجود مغربی ایشیائی ملکوں میں ورکروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ بھی پایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں گھریلو ملازمین بالخصوص غیرمحفوظ ہیں۔ اس وقت ہر دس تارکین وطن میں سے چھ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں آباد میں ہیں۔ ورپ میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تاہم ان کی مجموعی آبادی کی شرح کے تناظر میں یہ تعداد دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔