مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی گجرات فسادات کے مرکزی کردار نریندر مودی بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نامزد
نئی دہلی ...بھارت میں انتہا پسندانہ سیاست کے سرخیل نریندر مودی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے.. یہ اعلان بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پارلیمانی بورڈ نے جمعہ کو نریندر مودی کو وزیر اعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی اصلاحات کے لیے سرگرم رویے کی وجہ سے سے مودی تاجر برادری میں مقبول ہیں۔ تاہم ان پر 2002ء کے گجرات فسادات کا دھبہ ہے۔ ان فسادات میں لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریتی مسلمان تھے۔ مودی ان فسادات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ تاہم ان کی حکومت میں شامل ایک سابق وزیر کو گزشتہ برس تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے قید ہوئی تھی۔ بھارت میں مختلف حلقے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو آئندہ وزیر اعظم کو طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے چہ میگوئیاں ایک عرصے سے ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی ترجمان نرملا ستارامن نے قبل ازیں کہا تھا کہ ہر کوئی مودی کو اب بی جے پی سے بڑھ کر دیکھ رہا ہے اور ان کی قیادت کے لیے وسیع تر حمایت پائی جاتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی اخبارات پہلے ہی اس بات کا چرچا کر رہے تھے کہ یہ فیصلہ جمعے کی سہ پہر سامنے آ سکتا ہے۔ جون میں مودی کو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت پر اس جماعت کے اعلیٰ رہنما ایل کے اڈوانی نے احتجاج کے طور پر پارٹی پوزیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ متعدد رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف رائے کا سبب بننے والے مودی کی وجہ سے بی جے پی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ووٹ کھو سکتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 62 سالہ مودی خود کو بزنس اصلاحات کے ایسے محرک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو ایشیا کی اس تیسری بڑی معاشی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔