مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی گجرات فسادات کے مرکزی کردار نریندر مودی بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نامزد
نئی دہلی ...بھارت میں انتہا پسندانہ سیاست کے سرخیل نریندر مودی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے.. یہ اعلان بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پارلیمانی بورڈ نے جمعہ کو نریندر مودی کو وزیر اعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی اصلاحات کے لیے سرگرم رویے کی وجہ سے سے مودی تاجر برادری میں مقبول ہیں۔ تاہم ان پر 2002ء کے گجرات فسادات کا دھبہ ہے۔ ان فسادات میں لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریتی مسلمان تھے۔ مودی ان فسادات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ تاہم ان کی حکومت میں شامل ایک سابق وزیر کو گزشتہ برس تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے قید ہوئی تھی۔ بھارت میں مختلف حلقے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو آئندہ وزیر اعظم کو طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے چہ میگوئیاں ایک عرصے سے ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی ترجمان نرملا ستارامن نے قبل ازیں کہا تھا کہ ہر کوئی مودی کو اب بی جے پی سے بڑھ کر دیکھ رہا ہے اور ان کی قیادت کے لیے وسیع تر حمایت پائی جاتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی اخبارات پہلے ہی اس بات کا چرچا کر رہے تھے کہ یہ فیصلہ جمعے کی سہ پہر سامنے آ سکتا ہے۔ جون میں مودی کو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت پر اس جماعت کے اعلیٰ رہنما ایل کے اڈوانی نے احتجاج کے طور پر پارٹی پوزیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ متعدد رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف رائے کا سبب بننے والے مودی کی وجہ سے بی جے پی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ووٹ کھو سکتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 62 سالہ مودی خود کو بزنس اصلاحات کے ایسے محرک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو ایشیا کی اس تیسری بڑی معاشی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔