مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی گجرات فسادات کے مرکزی کردار نریندر مودی بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نامزد
نئی دہلی ...بھارت میں انتہا پسندانہ سیاست کے سرخیل نریندر مودی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے.. یہ اعلان بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پارلیمانی بورڈ نے جمعہ کو نریندر مودی کو وزیر اعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی اصلاحات کے لیے سرگرم رویے کی وجہ سے سے مودی تاجر برادری میں مقبول ہیں۔ تاہم ان پر 2002ء کے گجرات فسادات کا دھبہ ہے۔ ان فسادات میں لگ بھگ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریتی مسلمان تھے۔ مودی ان فسادات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ تاہم ان کی حکومت میں شامل ایک سابق وزیر کو گزشتہ برس تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے قید ہوئی تھی۔ بھارت میں مختلف حلقے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو آئندہ وزیر اعظم کو طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے چہ میگوئیاں ایک عرصے سے ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی ترجمان نرملا ستارامن نے قبل ازیں کہا تھا کہ ہر کوئی مودی کو اب بی جے پی سے بڑھ کر دیکھ رہا ہے اور ان کی قیادت کے لیے وسیع تر حمایت پائی جاتی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی اخبارات پہلے ہی اس بات کا چرچا کر رہے تھے کہ یہ فیصلہ جمعے کی سہ پہر سامنے آ سکتا ہے۔ جون میں مودی کو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت پر اس جماعت کے اعلیٰ رہنما ایل کے اڈوانی نے احتجاج کے طور پر پارٹی پوزیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ متعدد رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف رائے کا سبب بننے والے مودی کی وجہ سے بی جے پی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ووٹ کھو سکتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق 62 سالہ مودی خود کو بزنس اصلاحات کے ایسے محرک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو ایشیا کی اس تیسری بڑی معاشی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔