مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مسلم فیملی کو موت کی نیند سلانے پر عمر قید بھگتنے والا مجرم فرار کے بعد دوبارہ گرفتار
مانچسٹر ... ایک ہی گھر کے آٹھ افراد کو آگ کی نذر کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا بھگتنے والا مجرم جیل سے فرار ہونے کے بعد ٢٤ گھنٹے میں دوبارہ گرفتار۔ سیڈ بری جیل سے فرار ہونے والے 8 انسانوں کے قاتل شکیل شہزاد کوزخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ مفرور کی گرفتاری لنچ فیلڈ کے قریب سڑک کے کنارے سے عمل میں لائی گئی۔ پولیس کے مطابق خستہ اورحواس باختہ حالت میں گرفتاری کے وقت مفرور اس قابل بھی نہیں تھا کہ پولیس کواپنا نام پتہ بتا سکے بعدازاں ہسپتال لیجاتے ہوئے مفرور کی انگلیوں کے نشانات سے اس کی شناخت ہوئی۔ مجرم شکیل شہزاد برکمبی ہڈرزفیلڈ میں ایک گھر کو آگ لگانے اور اس کے نتیجے میں8افراد کی جان لینے کے جرم میں18برس کی سزائے قید کاٹ رہا تھا۔ شکیل شہزاد نے اپنے تین دوسرے ساتھیوں شاہد اقبال، نذر حسین اور شاہد محمد سے مل کر برکمبی مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز چشتی کے گھر میں پٹرول چھڑکتے اور پٹرول بم پھینکتے ہوئے آگ لگا دی تھی۔ جسکے نتجے میں ١٨ سالہ عتیق الرحمان، نفیسہ عزیز ٣٥ سال، طیبہ بتول١٣، ربیعہ بتول ١٠، کمسن عتیقہ نواز، انیسہ نواز اور شیر خوار نجیبہ نواز ہلاک ہو گئے تھے ..مجرم کو جولائی2003ء میں اس کے دو دوسرے ساتھیوں سمیت لیڈز کراؤن کورٹ نے مجرم قرار دیتے ہوئے18برس کی سزائے قید سنائی تھی ان کا چوتھا ساتھی شاہد محمد بدستور گرفتار نہیں ہوسکا۔ ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق مجرم سیڈبری جیل میں مقید تھا جہاں گزشتہ روز اسے ورک لائینن پر کچھ دیر کیلئے رہا کیا گیا لیکن مجرم اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگیا تھا ۔