مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
موذی سرکار
سب نے بہت روکا کہ اسی برس کی عمر میں اکیلے کسی دوسرے ملک کا سفر کرناعقلمندی نہیں مگر چوہدری صاحب کسی طور قائل نہ ہوئے، کہتے تھے کہ ہندوستان دوسرا ملک نہیں،میں وہاں پیدا ہوا، پلا بڑھا، تعلیم حاصل کی، میرے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی قبریں وہاں ہیں، وہ دوسرا ملک نہیں۔سمجھانے والے ہمت ہار گئے اور خود چودھری صاحب بھی خاموش ہوگئے، لگتا تھا جیسے انہوں نے ارادہ بدل لیا ہو مگر ایک دن کیا ہوا کہ لاھور میں رہنے والی اپنی بیٹی کے ڈرائیور کے ساتھ روزمرہ کی ضرورت کا سامان خریدنے مارکیٹ گئے اور راستے میں ڈرائیور کو واہگہ بارڈر کی طرف چلنے کا حکم دے دیا۔ جیب میں ویزہ لگا پاسپورٹ اور ہاتھ میں ایک شاپر جس میں دو جوڑیشلوار قمیض اور ضروری دوائیں تھیں، چوہدری صاحب امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے واہگہ بارڈر پا کر گئے۔ڈرائیور نے گھر پہنچ کر یہ ساری داستان سنائی تو سب ہکا بکا رہ گئے مگر کسی کے پاس ہاتھ ملنے کے سواء اور کچھ بھی نہیں تھا البتہ ڈرائیور کو حسب استطاعت ہر ایک نے لعن طعن ضرور کر دی۔چوہدری صاحب کا موبائل بھی بند تھا، رابطے کی کوئی صورت نہیں تھی، صبر اور دعا کے سواء اور کوئی راستہ تھا نہ وسیلہ۔چوہدری صاحب تین روز بعد واپس پاکستان آگئے، چہرے پر ایک نئی بشاشت، چال میں ایک نئی تمکنت اور لہجے میں فتح مندی کا احساس۔یوں لگتا تھا جیسے ہندوستان کے اس مہماتی دورے نے ان کی زندگی میں کم از کم بیس سال کا اضافہ کر دیا ہو۔چوہدری قمر محی الدین گجر میرے شفیق مہربانوں میں سے ہیں، پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں لیکن اس پیشے کو کبھی ذریعہ روزگار نہیں بنایا، تیس سال پہلے بھی ہندوستان گئے تھے اور جب سے آئے تھے ہمیشہ دوبارہ جانے کے خواہشمند تھے۔ تیس برس پہلے انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا مگر اب ان کے بچوں کا خیال تھا کہ دونوں ملکوں کے باہمی حالات بہت کشیدہ ہیں،بلا وجہ ہندوستان جانا مناسب نہیں۔ لیکن چوہدری صاحب نے اس خیال کے جوب میں ہمیشہ یہی کہا کہ گجروں کی ڈکشنری میں خوف کا لفظ نہیں ہوتا اور گجر اگر مسلمان بھی ہو اور پاکستانی بھی تو خوف اور ڈر خود سہم کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔25 دسمبر کی سہ پہر بھارتی وزیر اعظم جناب نریندر مودی اچانک بغیر کسی اطلاع، بغیر کسی خبر پاکستان پہنچے تو مجھے چوہدری قمر محی الدین کا مہماتی دورہ ہندوستان یاد آگیا۔ میں نے چوہدری صاحب کو فون کیا اور کہا’ چوہدری صاحب ! نریندر مودی نے بھی آپ کی پیروی میں پاکستان کا مہماتی دورہ کر لیا ‘۔ کہنے لگے،’ میرا اور مودی کا کیا مقابلہ۔ہندوستان اور چیز ہے اور مودی اور چیز۔میرا جو رشتہ ہندوستان سے ہے وہ مودی کا پاکستان سے نہیں۔میرے بزرگوں کی قبریں، وہ کھیت کھلیان اور پگڈنڈیاں جن سے گذر کر میں نے عمر کی بہت سی منزلیں طے کیں، میرا بچپن، میری یادیں، میرے خواب اور سب سے بڑھ کر اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کا مزار مبارک ،مودی کا پاکستان سے وہ رشتہ بالکل بھی نہیں جو میرا ہندوستان سے ہے‘۔چوہدری صاحب نے مذید بتایا کہ واہگہ کے اس پار اٹاری چیک پوسٹ سے گزر کر میں نے کرائے پر ایک ٹیکسی لی اور تیس کلومیٹر کے لگ بھگ فاصلہ طے کر کے امرتسر پہنچ گیا۔ وہاں سے اسی کلومیٹر کی دوری پر ہوشیارپور ڈسٹرکٹ میں دسوہا نام کا ایک قصبہ ہے اور دسوہا سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہمارا آبائی گائوں پسی ۔ میں نے یہ سب فاصلہ بس کے ذریعے طے کیا۔ پسی سے دوبارہ دسوہا پہنچا اور پھر دسوہا سے جالندھر تک ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ ٹرین کے ذریعے طے کیا۔یہ وہ تمام علاقے ہیں جہاں میرا بچپن گذرا، جہاں قدم قدم پر آبائو اجداد کی قبروں کی صورت میری یادوں کے بسیرے ہیں۔مجھے ان یادوں کو چھو کر محسوس کرنا تھا ۔ تیسرے روز میں پاکستان واپس آگیا۔ سچ پوچھیں تواپنی اس ہندوستان یاترا میں مجھے کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ملا جس نے پاکستان یا مسلمانوں سے دشمنی کا اظہار کیا ہو۔ چوہدری صاحب کی یہ باتیں سن کر میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کی بات کی جائے تو عوامی سطح پر بظاہر کوئی دوری کوئی نفرت نظر نہیں آتی لیکن اگر حکومتی اور سیاسی سطح پر دیکھا جائے تو ہندوستان کی طرف سے کھڑی کی گئی اختلافات کی ایک ایسی دیوار چین دکھائی دے گی جس کی بلندی میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ اور بالخصوص بی جے پی کے زمانہ اقتدار میں تو صورت حال او ر بھی خوفناک ہو جاتی ہے۔پاکستانی علاقوں میں سرحد کے اس پار سے بلا جواز گولہ باری،بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی سرپرستی،دہشت گردوں کی معاونت اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کبھی نہ رکنے والی مہم، یقینا ان تمام کاروائیوں میں ہندوستانی عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، یہ تمام وارداتیں حکومتی سازشوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔آج ہندوستان میں گائے کاٹنے سے لے کر گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے پر مسلمانوں کا جس بے رحمی سے خون بہایا جارہا ہے، بابری مسجد کی جگہ مندر کی ناجائز تعمیر کے لیے سرکاری طور پر جو فنڈز کی منظوری کی جارہی ہے،ممبئی دھماکوں میں جو ناجائز طور پر پاکستان کو گھسیٹا جا رہا ہے، اس سب کا ہندوستانی عوام سے کوئی بھی تعلق نہیں، یہ سب تو حکومت ہندوستان کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مٹھی بھرہندو انتہا پسندہندوستانی حکومت کی پاکستان اور مسلمان دشمن پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور سرکاری سطح پر ہونے والے بلوے کا حصہ بن جاتے ہیں۔وہاں کے عام لوگ نہ تو پاکستان سے نفرت کرتے ہیں نہ پاکستانیوں سے۔واہگہ کے اس پار اٹاری سے گذر کر کسی نئی دنیا کا آغاز نہیں ہوجاتا۔ ادھر بھی ویسے ہی انسان ہیں اور ویسی ہی ان کی ضرورتیں اور خواہشات بھی۔دین دھرم کا فرق ضرور ہے لیکن وہاں مسلمان بھی آباد ہیں۔اگرچہ ہندو انتہا پسند مدت سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح سارے کے سارے مسلمانوں کو ہندوستان سے دھکیل کر باہر کردیا جائے لیکن بظاہر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کی خواہش ویسی ہی ہے جیسے مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں کے دل سے پاکستان کی محبت نکالنے کی خواہش ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں مسلمان اقلیت ہونے کے باوجود نہایت موئثر پوزیشن کے حامل ہیں۔ ہندو انتہا پسند جو مرضی کر لیں اپنے معاشرے سے عامر خان، شاہ رخ خان، سلمان خان ،دلیپ کمار اور شبانہ اعظمیجیسی شخصیات کو منہا نہیں کر سکتے۔ نصرت فتح علی خان،غلام علی،راحت فتح علی خان ،عاطف اسلم،علی ظفر، غرض مسلمانوں اور پاکستانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیںہندوستانی معاشرے میں عزت و اٖحترام کے بہت بلند درجے پر فائز کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود مودی سرکار نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لیے بھی ’ موذی سرکار‘ ثابت ہو رہی ہے۔ اب ممکن ہے کہ نریندر مودی صاحب کے ضمیر نے انہیں احساس دلادیا ہو کہ ہمسائے ماں جائے ہوتے ہیں، لڑائی جھگڑے میں کچھ نہیں رکھا اور اسی احساس کے تحت وہ اچانک سے پاکستان آگئے۔ کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ مودی صاحب نے پاکستان آنے کے لیے ویزہ لیا تھا یا نہیں،ایسے لوگوں سے ہماری درخواست ہے کہ کھلے دل کا مظاہرہ کریں اور اس طرح کے بحث مباحثے میں نہ پڑیں ۔ مودی صاحب جانتے ہیں کہ پاکستانی تنگ نظر اور گھٹیا نہیں ہوتے، مہمان نوازی کے اصول بھی جانتے ہیں اور ھمسایوں کے حقوق سے آشنا بھی ہوتے ہیں، اسی لیے وہ بے دھڑک بے خوف ہوکر پاکستان آگئے، امید ہے ان کے اس دورے کے بعد کنٹرول لائن کے اس پار سے معصوم پاکستانیوں پر وحشیانہ گولہ باری کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا اور بلوچستان میںعلیحدگی پسند بھی بھارتی آشیرباد سے محروم ہوجائیں گے۔دہشت گردوں کو بھی اپنی سرپرستی کے لیے اب کسی اور سمت دیکھنا ہوگا۔باقی رہ گیاکشمیر کا معاملہ، انشااللہ وہ بھی مودی صاحب کے اس دورے کے بعد کشمیر میں رہنے والوں کی خواہشات اور مرضی کے عین مطابق بہت جلد حل ہوجائے گا۔نیت اچھی ہو اور ارادے پختہ تو اندھیرے روشنی میں بدلے جا سکتے ہیں، اگرچہ دلوں کے بھید صرف اللہ جانتا ہے پھر بھی ہمیں امید اور خوش گمانی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔