مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ بچے جو جھلمل کرتے تارے تھے !!!
’ ایک بچہ جس کی عمر پانچ سال ہے، خاکی رنگ کا شلوار قمیض پہنے ہوئے ہے، پائوں میں نیلے رنگ کی چپل ہے، اپنا نام عبدللہ بتاتا ہے، آج صبح سے لاپتہ ہے، جن صاحب کو ملے مسجد اللہ والی پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں‘۔ عصر کی آذان کے بعد اور مغرب کی نماز سے کچھ پہلے بعض دفعہ آس پاس کی مسجدوں سے گونجنے والا یہ اعلان صاحبان اولاد کے دلوں کو سہما دیتا ہے۔ ان اوقات میں ہونے والا اعلان اس بات کی خبر بھی دیتا ہے کہ بچہ دن کے کسی پہر لاپتہ ہوا، ماں باپ اپنے طور پر اسے ڈھونڈتے رہے اور جب دن ڈھلنے لگا تو مایوس ہوکر اعلان کا سہارا لیا تاکہ اندھیرا ہونے سے پہلے بچہ گھر پہنچ جائے۔ڈھلتے سورج کے ساتھ اس طرح کا اعلان سن کر لوگ بے اختیار اپنے بچوں کو سینے سے لپٹا لیتے ہیں اور دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا کرنے لگتے ہیں، یا اللہ اس گمشدہ بچے کو جلد از جلد اپنے ماں باپ سے ملا دے۔بہت سی کمزور دل مائیں تو فوراً نفل بھی مان لیتی ہیں،گم جانے والے زیادہ تر بچے عموماً گھر لوٹ بھی آتے ہیں مگریہ بھی ہمارا ایک معاشرتی رویہ ہے کہ ایسے بچوں کے گھر پہنچنے کا اعلان کبھی نہیں کیاجاتا۔یوں جنہوں نے شکرانے کے نفل مانے ہوتے ہیں وہ نفل پڑھنے سے رہ جاتے ہیں۔ جب بھی کبھی کسی ریلوے سٹیشن، بس اڈے یا ائیر پورٹ کی دیواروں پر چسپاںتلاش گمشدہ کا کوئی اشتہار نظر سے گذرتا ہے تو یقین کیجیے یہ سوچ کر دل بجھ سا جاتا ہے کہ ماں باپ سے بچھڑ جانے والے بچوں پر کیا گذرتی ہوگی اور ان کے ماں باپ پر اذیت کے کیسے کیسے پہاڑ ٹوٹتے ہوں گے۔بچوں کا راستہ بھٹک جانا ایک اور عمل ہے، راستہ بھٹکنے والے بچے تو عموماً گھر واپس آجاتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں اغواء کر لیا جاتا ہے۔اغواء کار انہیں تاوان کی وصولی کے لیے بھی اغواء کرتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں بھیک منگوانے کے لیے بھی اغواء کرلیا جاتا ہے۔ اس مکروہ دھندے میں ملوث لوگ ان بچوں کو پیشہ ور گروہوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں اور پھر ان معصوموں کے اعضاء کو توڑ کر انہیں معذور بنادیا جاتا ہے تاکہ بھیک دینے والوں کے دل ان کی حالت دیکھ کر زیادہ پسیج سکیں۔بچوں کو اغواء کرنے والوں میں ایک طبقہ ان لوگوں پر بھی مشتمل ہے جو بچوں کے والدین سے کوئی انتقام لینے کے لیے ان کے بچوں کو اغوء کرلیتے ہیں اور پھرایسے معصوموں کی لاشیں بالعموم کچھ عرصے بعد کسی پرانے ندی نالے سے برآمد ہوتی ہیں۔ اگرچہ جنگل کا کوئی قانون نہیں ہوتا لیکن جانور بھی اس اصول سے آشنا ہوتے ہیں کہ باپ کے جرم کی سزا بیٹے کو دینا اور بیٹے کی خطا پر باپ کو سزاوار ٹھہرانا ،فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اسی لیے کبھی سننے میں نہیں آتا کہ شیر کسی چیتے سے بدلہ لینے کے لیے اس کے بچوں کو اٹھا کر اپنی کچھار میں لے جائے یا پھر چیتے کو اذیت دینے کے لیے اس کے بچوں کا خوں چوس لے۔ بچے پھولوں کے طرح ہوتے ہیں، رنگین بھی، خوشبودار بھی اور نازک بھی، ذرا سی گرم ہوا چلے تو کملا جاتے ہیں، انہیں پھولوں کی طرح موسموں کی سختی سے بھی بچانا پڑتا ہے اور ہوائوں کی تندی سے بھی۔ان معصوموں کو اپنے انتقام کی آگ میں جھلسانااور انہیں اپنے قہر کا نشانہ بنانا انسانیت کے لیے ذلت و رسوائی کے سواء اور کچھ بھی نہیں۔بچے چاہے امریکی ڈرون حملوں میں مارے جائیں، چاہے فرانس کی سڑکوں پر ان کا خون بہے یا پھر دنیا کے کسی بھی ساحل کنارے پانی ان کے خون سے رنگین ہوتا دکھائی دے، انسانیت اس ظلم پر ہمیشہ نوحہ کناں نظر آئے گی۔آرمی پبلک سکول پشاور میں گذشتہ برس سولہ دسمبر کو معصوم بے گناہوں کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی بھی اسی حوالے سے یاد رہنے والی ایک بھیانک مثال ہے۔ 16 دسمبر2014 کو پیش آنے والے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچوں کا قتل عام ہوا۔دہشت گردوں نے سوچا تھا کہ اس کاروائی کے بعد لوگ اپنے بچوں کو درسگاہوں میں بھیجنا چھوڑ دیں گے، پاکستان میں تعلیمی ادارے ویران ہوجائیں گے او اپنے بچوں کی لاشیں دیکھ کر فوجیوں کا مورال بھی ڈائون ہوجائے گا۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ ان معصوموں کا خون بہا کر وہ سارے پاکستانی معاشرے کو خوف کا اسیر کرلیں گے مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔ آج آرمی پبلک سکول پشاور بھی آباد ہے،فوج اسی قوت کے ساتھ دہشت گردوں سے نبرد آزما بھی ہے اور ساری قوم ان معصوم بچوں کو اپنے ہیرو کے طور پر سلام بھی کر رہی ہے۔ان بے گناہ بچوں کے خون نے ساری قوم کو نہ صرف ایک نئی زندگی دی بلکہ یکجا بھی کردیا۔آج پاکستان کا کوئی قریہ کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں ان شہید بچوں کی قربانی کا تذکرہ نہ ہو، ان بچوں کے خون نے ہمارے مصوروں کی تصویروں کو ایک نیا رنگ، ہمارے شاعروں کی نظموںکو ایک نیا آہنگ اور ہماری قوم کے جذبوں کو ایک نئی امنگ دی،16 دسمبر رہتی دنیا تک جہاں ظلم، وحشت اور بربریت کے حوالے سے ایک یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا وہیں یہ دن بہادری قربانی اور وطن پرستی کی ایک عظیم داستان کا عنوان بھی ٹھہرے گا۔آرمی پبلک سکول کے معصوم شہیدوں نے دنیا کو یہ سبق بھی دیا ہے کہ محبت کے سفر میں مسافر کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور نے ہمیں بحیثیت قوم اس حقیقت سے بھی خبردار کیا کہ دہشت گردی کوئی ایسا ناسور نہیں کہ جس کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہم دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ہم نے جان لیا کہ اگر اپنے ملک کو دہشت گردی سے بچانا ہے تو اس کے لیے ہمیں پوری قوت اور نیک نیتی سے جدوجہد کرنا ہوگی۔دہشت گرد ہمیشہ مٹھی بھر ہوتے ہیں، مٹھی کھلتے ہی بکھر جاتے ہیں۔آج ایک برس کی مسلسل جدوجہد کے بعدہماری سیکیورٹی فورسزدہشت گردوں کے بہت سے نیٹ ورک توڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ملک میں تخریبی کاراوئیوں میں بڑی حد تک کمی بھی آچکی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو بلا تفریق گرفتار کیا جارہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی نیک نیتی اور اسی قوت کے ساتھ جاری رہا تو محض چند برسوں میں پاکستان دہشت گردی سے پاک ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آجائے گا ۔آرمی پبلک سکول پشاورکے بچے پھول بھی تھے اور جگنو بھی، ہماری قوم کو ان کی قربانی سے ایک نئی زندگی ملی، ایسی زندگی جس میں خوشبو بھی ہے اور روشنی بھی۔