مقبول خبریں
نیلی مسجد یو کے اسلامک مشن کیلئے فنڈزریزنگ اپیل پر ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلرمحمد زمان کی شرکت
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی حجاب کے حوالے سے کمیونٹی بے چینی کا شکار ..!!
لندن... برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی حجاب کے حوالے سے ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے کہ جس سے مسلم کمیونٹی بے چینی کا شکار ہو گئی ہے تفصیلات کے مطابق جرمنی میں ایک تیرہ سالہ مسلمان طالبہ نے لڑکوں کے ہمراہ تیراکی کے اسباق لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جرمنی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے اس کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بُرکینی پہن کر تیراکی کرنا اسلامی معیار کے مطابق ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق تیرہ سالہ مسلمان طالبہ کے اہل خانہ کا تعلق مراکش سے ہے۔ اس مسلمان لڑکی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ بُرکینی پہن کر سوئمنگ کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے اور لڑکوں کے ساتھ مل کر ایسا کرنا اس کی مذہبی آزادی کے برعکس ہے۔ اس لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ سوئمنگ ہال میں لڑکوں نے نہایت کم کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ اس مقدمے میں مسلمان طالبہ کا کہنا تھا کہ اسے سوئمنگ کی کلاسوں سے چھوٹ دی جائے۔ اصل میں بُرکینی ایک ایسا سوئمنگ سوٹ ہے، جس کے پہننے سے صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دکھائی دیتے ہیں۔ وفاقی عدالت کے صدر جج ویرنر نوئمان کا کہنا تھا، ’’ بُرکینی پہن کر سوئمنگ سیکھنا مسلمانوں کے خیالات کے مطابق ہے۔‘‘ جرمن عدالت کا کہنا تھا سوئمنگ ہال میں کم اور ڈھیلے لباس ميں ملبوس لڑکوں کی موجودگی انفرادی سطح پر مذہبی آزادی کی کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کا لباس لوگ موسم گرما میں جرمنی کی سڑکوں پر پہن کر گھومتے ہیں۔ جج ویرنر نوئمان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمنی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں اور اس لیے اسکولوں کے معاملے میں ہر کسی کے تحفظات پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اسکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین ميں بھی فرق پیدا ہوتا جائے گا۔