مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی حجاب کے حوالے سے کمیونٹی بے چینی کا شکار ..!!
لندن... برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی حجاب کے حوالے سے ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے کہ جس سے مسلم کمیونٹی بے چینی کا شکار ہو گئی ہے تفصیلات کے مطابق جرمنی میں ایک تیرہ سالہ مسلمان طالبہ نے لڑکوں کے ہمراہ تیراکی کے اسباق لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جرمنی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے اس کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بُرکینی پہن کر تیراکی کرنا اسلامی معیار کے مطابق ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق تیرہ سالہ مسلمان طالبہ کے اہل خانہ کا تعلق مراکش سے ہے۔ اس مسلمان لڑکی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ بُرکینی پہن کر سوئمنگ کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے اور لڑکوں کے ساتھ مل کر ایسا کرنا اس کی مذہبی آزادی کے برعکس ہے۔ اس لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ سوئمنگ ہال میں لڑکوں نے نہایت کم کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ اس مقدمے میں مسلمان طالبہ کا کہنا تھا کہ اسے سوئمنگ کی کلاسوں سے چھوٹ دی جائے۔ اصل میں بُرکینی ایک ایسا سوئمنگ سوٹ ہے، جس کے پہننے سے صرف چہرہ، ہاتھ اور پاؤں دکھائی دیتے ہیں۔ وفاقی عدالت کے صدر جج ویرنر نوئمان کا کہنا تھا، ’’ بُرکینی پہن کر سوئمنگ سیکھنا مسلمانوں کے خیالات کے مطابق ہے۔‘‘ جرمن عدالت کا کہنا تھا سوئمنگ ہال میں کم اور ڈھیلے لباس ميں ملبوس لڑکوں کی موجودگی انفرادی سطح پر مذہبی آزادی کی کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کا لباس لوگ موسم گرما میں جرمنی کی سڑکوں پر پہن کر گھومتے ہیں۔ جج ویرنر نوئمان کا زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جرمنی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں اور اس لیے اسکولوں کے معاملے میں ہر کسی کے تحفظات پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اسکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین ميں بھی فرق پیدا ہوتا جائے گا۔