مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مسلمانوں کے گرد دائرہ
دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ملکوں کے بلاک بن رہے ہیں، گروہ بندیاں ہورہی ہیں،ہم خیال لکیر کے ایک طرف اور باقی سب کے سب لکیر کے اس پار۔لیکن اب کے بار یہ تقسیم کچھ اس انداز میں ہورہی ہے کہ آسانی سے سمجھنا ممکن نظر نہیں آتا کہ کون کس کا دوست ہے اور کون کس کا دشمن۔مفادات کی ایک انوکھی سی کھچڑی ہے جو دھیمی دھیمی آنچ پر دم ہو رہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مقابل ہوں تو بات کچھ نہ کچھ سمجھ میں آتی ہے، لیکن مصر شام اور ترکی ایک دوسرے کی مخالفت کریں تو حیرت ہوتی ہے، عراق بھی ریت کے ٹیلوں کے پیچھے چھپے اونٹ کی طرح کہیں نہ کہیں سر اٹھانے کی کوشش میں نظر آتا ہے۔روس اور ترکی کے اختلافات سے لے کر فرانس کے شہر پیرس میں دہشت گرد حملوں تک اور پھر امریکا اور برطانیہ جیسے طاقتور ممالک کی داعش کے خلاف بے دلی کے ساتھ کی جانے والی صف آرا ئی سے لے کر داعش کے زیر انتظام تیل کی فروخت تک ڈور ایسی الجھی ہے کہ سرا دکھائی نہیں دیتا۔ پھر یہ سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ بھارت اور افغانستان میں ایسی کون سی قدریں مشترک ہیں کہ صدیوں ساتھ رہنے اور ساتھ چلنے کی قسمیں کھائی جارہی ہیں۔ ادھر شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش ہے کہ جس نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا ایک ایسا طوفان کھڑا کیا ہے جو کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔مختصر یہ کہ اس متوقع جنگ میں کون کس کے ساتھ ہوگا بظاہر اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں لگتا۔ تاہم دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظر نامے میں اسرائیل کی مسلسل خاموشی بھی ارباب فکرو نظر کے لیے ایک نہایت اہم خیال ہے۔پوچھنے والے یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ اگر اسلامی عسکری تنظیموں کا مقصد دنیا بھر میں پرچم اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کو ایک ناقابل شکست قوت میں تبدیل کرنا ہے تو پھر ان تنظیموں کی کاروائیوں کا نشانہ اسلامی ممالک کیوں ہیں۔ان عسکری تنظیموں کا نشانہ پاکستان افغانستان عراق مصر شام اور دیگر اسلامی ممالک کی بجائے ہندوستان اور اسرائیل کیوں نہیں ہوتے۔ وہ تمام ممالک جہاں مسلمانوں کا بدترین استحصال ہورہا ہے وہ ممالک ان تنظیموں کی دسترس سے باہر کیوں ہیں۔ برما میں ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا، ہندوستان میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر مسلمان کی جان لے لی جاتی ہے،بہت سے یورپین ممالک میں مسلمان عورتوں کو حجاب کرنے پر تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پاکستان آنے والی ریل گاڑی کو محض اس لیے جلادیا گیا کہ اس میں مسلمان سوار تھے اور گجرات کی گلیوں کو صرف اس لیے انسانی خون سے رنگین کردیا گیا کہ وہاں مسلمان آباد تھے، لیکن اس سب پر یہ اسلامی عسکری تنظیمیں بالکل سناٹے میں رہیں، وہ عسکری تنظیمیں کہ جو امریکا اور برطانیہ جیسے مضبوط ترین ممالک کے لیے خطرے کی ایک خوفناک تلوار ہیں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم و ستم پر بے بس کیوں دکھائی دیتی ہیں؟ بعض دفعہ تو یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ عالمی طاقیتیں پراپیگینڈہ وار کے ذریعے کچھ ایسے کردار متعارف کرو رہی ہیں کہ جن کا اصل میں کوئی وجود نہیں بس ایک خیال ہے جسے مسلمانوں کو ذلیل و رسواء کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ہی ڈرانے اور دھمکانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ مغرب نے الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے فلموں کہانیوں ڈراموں اور بچوں کے کارٹونوں میں مسلمانوں کو ظلم دہشت اور بربریت کی مثال بنا کر ایسے کرداروں کی صورت مقبول کیا کہ جن کے تصور سے ہی روح کانپ جائے۔ بحری قزاق ہوں یا پھر قاتل اور لٹیرے، معصوم بچوں کو اغوا کرنے والے ہوں یا پھر عورتوں کی خریدو فروخت کرنے والے، یا پھر اسلحے کی سمگلنگ میں ملوث مجرمان، سب ہی کو مسلمان دکھایا جاتا ہے۔ گردن کے گرد چیک دار رومال، سر پر سفید ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح اور چہرہ باریش، ہر جرم کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی مسلمان ضرور دکھایا جائے گا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اپنے ملک کے سینیما گھروں میں لاکھوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی بھارتی فلموں کو ہی دیکھ لیجیے، آپ کو ایسے کردار کثرت سے مل جائیں گے مگر ہم اتنے مجبور اور بے بس ہیں کہ اپنے ملک میں ان فلموں کی نمائش بھی نہیں روک سکتے۔ ہماری بسوں میں بھارتی فلمیں ہمارے گھروں میں بھارتی گانے اور ہمارے نائیوں کی دکانوں میں بھارتی اداکاروں کے ہیئر سٹائل پر مبنی تصویریں، یہ سب چیزیں اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے قومی وجود سے شعور اور احساس جیسی خصوصیات بالکل ہی ناپید ہوچکی ہیں۔ہماری حالت وڈیرے کے اس کمی ملازم سے بھی بد تر ہے جسے وڈیرا دن بھر ماں بہن کی گالیاں دیتا رہتا ہے اور وہ بے چارہ ان گالیوں کو وڈیرے کی بے تکلفی سمجھ کر خوش ہوتا رہتا ہے۔ہمارے ہاں کچھ نام نہاد دانشور ہماری اس بے حسی اور بے شرمی کو وسعت قلبی اور بدلتے زمانے کی ضرورت قرار دے کر لوگوں کو یہ سب برداشت کرنے کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی اسی وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔کیا بھارتی سینیما گھروں میں ہماری وہ فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں جن کا بنیادی تھیم پاکستان کے دشمنوں کو نیست ونابود کرنا ہو؟ دراصل قصور ہمارے بڑوں کا بھی ہے، ہمیں محبت اور نفرت کے اصول ہی نہیں سکھائے، یہی کہا کہ سچی محبت وہ ہے جو خود بخود ہوجائے۔ مسلمان ممالک کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب تمام غیر مسلم ممالک اپنے آپ کو متحدکرکے ایک بلاک میں ضم ہوجائیں گے اور ان سب کے مشترکہ وسائل مسلمانوں کو برباد کرنے پر صرف ہوں گے۔بنگلہ دیش ہو یا افغانستان، سب کے لیے یہی پیغام ہے کہایک نئے سرے سے اسلامی بلاک کی تشکیل کے لیے جدوجہد کریں۔بالخصوص شیخ حسینہ کو اس حقیقت کے ادراک کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کسی بھی حوالے سے دشمن ممالک نہیں، بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ساتھ نفرت کی مصنوعی آگ بھڑکانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا۔آپ آج پینتالیس سال بعد ان بوڑھے اور ناتواں لوگوں کو پھانسی پر لٹکارہی ہیں کہ جنہوں نے 1971 میں یہ کوشش اور خواہش کی تھی کہ پاکستان دو حصوں میں تقسیم نہ ہو،دو بھائیوں کے بیچ علیحدگی نہ ہو، دلوں کو جوڑنا کوئی جرم نہیں، وقت آپ سے بے گناہوں کے خون کا حساب لے گا۔ آپ کو اقتدار بھارت نے نہیں بنگلہ دیش کے لوگوں نے دیا ہے، لوگوں کی اس امانت میں خیانت نہ کریں۔ شیخ مجیب الرحمان نے 1974 میں اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے دوران ایک بہت اچھی بات کہی تھی کہ بنگالی جانتے ہیں پرانی باتوں کو کیسے فراموش کیا جاتا ہے اور کیسے معاف کیا جاتا ہے۔ شیخ حسینہ کو چاہیے کہ شیخ مجیب الرحمان کی اس بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ پاکستان میں آج بھی دو ملین سے زائد بنگالی پناہ گزین ہیں، پاکستان نے ان کے لیے زندگی کو ہر ممکن طور پر آسان بنانے کی کوشش کی ہے صرف اس لیے کہ پاکستان اپنے ان مسلمان بھائیوں کو اپنا دوست سمجھتا ہے مگر بنگلہ دیش جانے والے پاکستانیوں سے جو ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔مسلمان ممالک کے لیے بقاء اور سلامتی کا یہی واحد راستہ ہے کہ اپنے آپ کو متحد کریں، ہمارے پاس جنگی صلاحیتیں بھی ہیں حوصلہ بھی اور جذبہ بھی۔ہم چاہیں تو نیٹو طرز کی ایک اسلامی فوج بھی بنا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کریں، اپنی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنائیں،فن اور ثقافت کی دنیا میں نام پیدا کریں، بین الاقوامی معیار کے میڈیا سنٹرز اور خبر رساں ادارے تشکیل دیں، ہم جب تک معلومات کے لیے بی بی سی اور سی این این پر انحصار کریں گے سچائی ہم تک نہیں پہنچے گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم مسلمانوں کے گرد ایک دائرہ کھینچا جارہا ہے کہ مسلمان اس دائرے تک محدود ہوجائیں، پھر وہ وقت آئے گا جب اس دائرے کو پھانسی کے پھندے کی طرح تنگ کیا جانے لگے گا۔زندہ رہنے کے لیے ہمیں خود کو اس پھندے کی گرفت سے بچانا ہوگا۔