مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئی
ا مریکی اشرافیہ اور یورپی ممالک کی سول سو سا ئٹی اس حقیقت کو ا چھی طرح جا نتی ہیں کہ ا مریکی حکومت کی مسلط کردہ جنگ’’وار آن ٹیرر‘‘در اصل امریکہ کا ترا شا ہو اوہ مصنو عی غبارہ ہے جسے بے پناہ وسائل اورگوئبلز آف جر منی کی روح سے کشید کئے ہو ئے مسلسل پر وپیگنڈے کی غلیظ ہوازندگی عطا کر رہی ہے۔یورپی حکو متوں کیلئے اپنے مفاد کیلئے یہ اصطلا ح استعما ل کر نا تو بعید از قیاس نہیں ہے،بد قسمتی سے بہت سے محکوم ذہنیت کے اسلا می ممالک بھی اپنی بے کردار بد اعما لیوں کے نتیجے میں ا پنے خلاف ابھر نے والی احتجاجی تحا ریک کو کچلنے کیلئے بے دریغ مسلح طاقت کے استعمال کو دہشت گر دی کے خلاف جنگ یا ا مریکی پیروی میں’’وار آن ٹیرر‘‘قرار دیتے ہو ئے کو ئی ندامت محسوس نہیں کر تے یہا ں تک کہ کشمیر،فلسطین،افغانستان اور عراق میں بھی غیر ملکی تسلط اور قتل و غارت کے خلاف بر سر پیکار حریت کی تحاریک اور ا پنے وطن کی آزادی کیلئے جا ری مسلح جد و جہد کو بھی د ہشت گردی اور اسے کچلنے کیلئے ہر اقدام کو بھی ’’وار آن ٹیرر‘‘کا نام دیا جا تا ہے۔ ۱۶جولائی۲۰۰۸ء کو اسپین کے دارلحکومت میڈرڈ میں منعقدہ بین الاقوامی ‘بین المذاہب کا نفرنس میں سعودی عرب کے سابق فرمانرواخادم الحرمین الشریفین مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعز یز نے خطاب کر تے ہو ئے نہائت درست طور پر نشاندہی فرمائی تھی کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی امریکی اور مغربی ممالک کی وضع کردہ تراکیب ہیں جن کا اسلام سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر چند گمراہ لوگ خودکش حملوں سمیت اسلام اور مسلما نوں کے خلاف نفرت پیدا کر نے کیلئے ایسے افعال کے مر تکب ہوئے ہیں تو یہ ان کی ا نفرادی سوچ اور ذاتی فعل ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیںاور ایسے افراد کو بالفعل مسلمان یا اسلامی فدائین وغیرہ متعین کر لینا انتہائی غلط فیصلہ ہے ۔میڈرڈ میں ہو نے والی یہ سہ روزہ کا نفرنس میں د نیا بھر سے مسلمانوں،یہو دیوں،عیسائیوںاور دیگر مذاہب کے ممتاز دانشوروںاور مذہبی قائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔اس کا نفرنس کا انعقاد رابطہ عالم اسلا می کے زیر اہتمام کیا گیا تھا جس کا مقصد اسلام اور مسلما نوں کے خلاف اسلام دشمن قوتوںامریکا اور مغربی حلقوں کی طرف سے پھیلا ئی جا نے والی شر انگیزغلط فہمیوں کا ازالہ کر نا تھا۔اس کا نفرنس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے وا لے نما ئندہ افراد کے علا وہ ایک سو پچاس کے قریب صحا فی بھی مختلف ذرائع ابلاغ کی نما ئندگی کر نے کیلئے اس کا نفرنس میںموجود تھے۔اس امر کا واضح تجزیہ کیا گیا کہ بعض طاقتور ممالک کی طرف سے کمزور اور نا قابل مزاحمت ملکوں پر بلا اشتعال و جواز جا رحانہ قبضے،بعض ملکوں کے عوام کے آئینی اور قا نو نی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے ،انہیں آزادی سے محروم کر نے اور ان کے وسائل پر قبضہ کر نے کے نتیجے میں مزاحمت کا جو عمل شروع ہو تا ہے ، اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی میں ہر گز شامل نہیں کیا جا سکتا۔یہ ان اقوام کی طرف سے ا پنے آئینی اور قا نو نی حقوق کے حصول کی جد و جہد ہے ۔اس حوالے سے دنیا کی سپر طا قتوں اور خاص طور پر مغربی ملکوں کو اپنی سوچ،روش اور پالیسی میں منا سب تبدیلی لا نا ہو گی۔حقائق پر مبنی اس خطاب کے اختتام پر سب مذاہب کے قا ئدین،دانشوروں،تما م شرکاء اور مبصرین نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر (Standing Ovation) دادو تحسین پیش کی تھی جس کا بدیہی مطلب ان حقائق کا اعتراف تھاکہ بیان کردہ وضاحت احوال ان تمام گمراہ کن،اسلام مخالف موادات کی تشہیر محض معاندانہ رویوں کی اشاعت و تبلیغ کے سوا کچھ نہیں۔ غالباًامریکااور کچھ مغربی ممالک کوکیمو نزم کی پسپا ئی کے بعد ا پنی سر مایہ دار پا لیسیوں اور استعماری قوتوں کو متحرک رکھنے کیلئے کسی ایک خود ساختہ’’دشمن‘‘ کی مو جو د گی وقت کی ضرورت لگتی ہے لہندا مشترکہ حریف کے طور پرمسلم ممالک اور احیائے اسلام کی تحریکوں کو مٹانے کیلئے خوف و دہشت اور حقارت کی فضا پیدا کرنا حصول مقاصد کا نا معقول ذریعہ بن گیا ہے ۔ دہشت گردی ،انتہا پسندی اور جا رحیت اسلام کے ہم معنی قرار پا رہے ہیںجن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیںہے،جب کہ اس کی سیاسی اور معا شی وجوہات اظہر من الشمس ہیں۔یہ رائے اور یقین بھی کسی حد تک مو جود ہے کہ دہشت گردی،انتہا پسندی اور بنیاد پرستی وغیرہ کا واویلامچا نے والے امیر ممالک غربت اور ناداری،افلاس اور کسمپرسی کے با عث پھیلنے والی بھوک کے ہا تھوں ہو نے والی ہلا کتوںکی آہ و بکا اور احتجاج کا گلا گھو نٹنے کی سازش کے طور پر کرا رہے ہیں۔بنیاد پرستی سے دہشت گردی تک کے تمام رحجانات وہی استعماری قوتیں پھیلا رہی اور استعمال کر رہی ہیں جو دنیا بھر کے وسائل پر غاصبانہ قبضے کے ذریعے پوری انسانی آبادی میں غربت اور ناداری پھیلانے کی مجرم ہیں ۔اس کے خلاف کسی قسم کے صدائے احتجاج بلند ہو نے سے روکنے کیلئے مغربی طا قتوں کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی ، مکروہ سیاسی چال اور ان کے بہترین مفاد میں ہے کہ اقوام عالم کی توجہ مذہبی بنیاد پر ستی اور نام نہاد دہشت گردی پر مر کوز رکھی جائے اور یہی وہ لا ئحہ عمل اور طریقہ کار ہے جس کے ذریعے مغربی طاقتیں اور استعماری قوتیں دنیا بھر کے معدنی اور مالی،اقتصادی اور معاشی وسائل پر اپنا جارحانہ قبضہ جاری رکھنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ ان حقائق کو تسلیم نہ کر نا پر لے درجے کی خود فریبی ہو گی کہ امریکی استعمار کیلئے اپنی عسکری قوت اور بر تری کو متحرک رکھنااور بیرونی د نیا کے مو ہوم خطرات یعنی خود ساختہ’’ دشمن‘‘کی مو جودگی حصول مقاصد کا ایک ذریعہ ہے۔ مسلم ممالک پر براہ راست قبضہ اور ان سے ملحق مزید مسلم ممالک کے وسائل کا اپنی جا رحیت کی ترویج کیلئے استعمال ان ممالک پر ا پنے تسلط کو اپنی عسکری قوت کا خراج مانا جائے گاجو اپنے جرم ضعیفی کی سزا ،مرگ مفاجات کی صورت میں ادا کر رہے ہیں ۔اسرائیل کا ناجائز وجودعرب اور ملحق افریقی مسلم ممالک کے سینے کا خنجرتصور ہو تا ہے۔اب عراق پرمکمل تسلط،بحرین اور کویت میں ا مریکی چھا ؤنیوں کی تعمیرتمام عرب و عجم کی پشت میں مزید زہر آلود خنجروں کے مترادف ہے۔ٹھیک اسی طور افغانستان میں مستقل امریکی عسکری قوت اور کاسہ لیس حکومت کی مو جو دگی وسط ایشیائی مسلم ریاستوں،ایران اور پاکستان کیلئے ایک زندہ خطرہ رہے گااور یہیں سے شکوک شبہات کی ابتدا اور انتہاکے باعث وطن عزیز میں کبھی خالص محب وطن قومی حکومت قائم ہو نے کے امکا نات کی روشن کر نیں تا ریکیوں میں ڈوبتی ہوئی محسوس ہو تی ہیں ۔ حصول اقتدار کیلئے محاذ آرائی پچھلے ۶۸ برسوں سے جاری ہے ۔طالع آزماؤں نے آمرانہ اور نام نہاد جمہوری نظام حکومت کے تحت برسوں اقتدار اور حاکمیت کا بلا جواز اور بلا اختیار جا برانہ استعمال اور ملکی وسائل کا بے دریغ استحصال کیا ہے اور ہر دور کے اختتام پر قوم کو شکست خوردہ صاحبان اقتدار کے ہا تھوں قومی وسائل اور معیشت کی تباہی کا مژدہ سنایا جا تارہا ہے۔نئے ادوار کی ابتداوہی پرا نے چہرے نئے نقابوں کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں جن کی ترجیحات کا تعین ہمیشہ غیر ملکی سرپرست قوتیں کرتی چلی آئی ہیںاور بلا شبہ آج کی ترجیح اپنے ’’آقاؤں کی تابعداری‘‘ہے جس کے نتیجے میں اپنے ہی ہم وطن بے نشان،بے گھر اور بے وطن ہو رہے ہیں اور نئی نئی خیمہ بستیوں میں زندگی کی ہر آسائش سے محروم سینوں میں اپنے باپوں،بھائیوں اور بیٹوںکی کربناک موت کے زخم چھپائے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں اورخودصاحبِ اقتدارملکی دولت لوٹ کراب بیرون ملک بیٹھ کر وطن دشمن عناصرکے خلاف ہونے والے آپریشن کاناکام بنانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اورپہلااوچھاوارکراچی میں رینجرزکے خصوصی اختیارات کی توسیع میں لیت ولعل ہے۔ غیروں سے کیا گلہ ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے، ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئی