مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھرپور احتجاج ، برمنگھم کالج نے مسلم طالبات کے حجاب پر لگائی پابندی واپس لے لی ..!!
برمنگھم...برمنگھم میٹرو پولیٹن کالج کی طرف سے نقاب اوڑھنے کی پابندی پر ملک بھر میں زبر دست احتجاج کے بعد کالج انتظامیہ نے فیصلہ واپس لے لیا ہے اس ایشو پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کالج کے موقف کی حمایت کی تھی جبکہ ڈپٹی وزیر اعظم نک کلیگ نے مخالفت کرتے ہووے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر کسی کے عقیدے کو کمزور کرنا درست نہیں ان کے لئے یہ امر بہت مشکل ہے کہ وہ کسی سے یہ کہہ سکیں کہ وہ فلاں چیز پہنے اور فلاں نہ پہنے..لیڈی پول سے منتخب ہونے والی ممبر برٹش پارلیمنٹ شبانہ محمود نے برمنگھم میٹرو پولیٹن کالج کی طرف سے تقاب پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہووے کہا تھا کہ کالج کی طرف سے جاری کی گئی نئی پالیسی نے انھیں حیران کن صدمے سے دوچار کردیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مسلم طالبات جو حجاب کرتی ہیں یہ ان کے اعتقاد کا حصّہ ہے کالج انتظامیہ کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی ..لب ڈیموکریٹ کے ایم پی جان ہیمنگ نے بھی اس عمل کو غیر ضروری قرار دیا تھا جبکہ برمنگھم کونسل میں کمیونٹی کو ہیزن کے چیئرمین کونسلر وسیم ظفر کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا اور اسے فیصلہ واپس لینا پڑے گا برمنگھم میٹروپولیٹن کالج جہاں مسلمان لڑکیوں کو نقاب پہننے ہیٹ یا ٹوپی نما کوئی اور چیز اوڑھنے کی ممانعت کی گئی تھی کی پرنسپل ڈیم کرسٹائن بریڈوک نے کہا تھا کہ کیمپس میں طلبہ کو بآسانی شناخت کے قابل ہونا چاہئے، کالج کے تمام طلبہ ، عملے کے ارکان اور مہمانوں سے کہاگیا ہے کہ وہ چہرے کو ڈھانپنے والی کوئی بھی چیز ہٹادیں تاکہ ان کی ہروقت بآسانی شناخت ہوسکے،لیکن نقاب پر اس متنازع پابندی سے بعض مسلمان لڑکیوں میں بے چینی پھیل گئی جن کاکہنا تھاکہ ان کو امتیاز کانشانہ بنایاجارہا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان سیاستدانوں کے درمیان برقعہ پر پابندی کے حوالے سے ہونے والی بحث کے چند دن بعد کیاگیا ۔ کالج کی پرنسپل اورچیف ایگزیکٹو ڈیم کرسٹائن بریڈوک کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی کافی دنوں سے نافذالعمل تھی یہ طلبہ کے تحفظ کیلئے بنائی گئی ۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم سختی سے مساوات ،کثیرالجہتی کی پالیسی پر کاربند ہیں لیکن ہم نے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کا محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کاعز م کررکھا ہے ۔