مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھرپور احتجاج ، برمنگھم کالج نے مسلم طالبات کے حجاب پر لگائی پابندی واپس لے لی ..!!
برمنگھم...برمنگھم میٹرو پولیٹن کالج کی طرف سے نقاب اوڑھنے کی پابندی پر ملک بھر میں زبر دست احتجاج کے بعد کالج انتظامیہ نے فیصلہ واپس لے لیا ہے اس ایشو پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کالج کے موقف کی حمایت کی تھی جبکہ ڈپٹی وزیر اعظم نک کلیگ نے مخالفت کرتے ہووے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر کسی کے عقیدے کو کمزور کرنا درست نہیں ان کے لئے یہ امر بہت مشکل ہے کہ وہ کسی سے یہ کہہ سکیں کہ وہ فلاں چیز پہنے اور فلاں نہ پہنے..لیڈی پول سے منتخب ہونے والی ممبر برٹش پارلیمنٹ شبانہ محمود نے برمنگھم میٹرو پولیٹن کالج کی طرف سے تقاب پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہووے کہا تھا کہ کالج کی طرف سے جاری کی گئی نئی پالیسی نے انھیں حیران کن صدمے سے دوچار کردیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مسلم طالبات جو حجاب کرتی ہیں یہ ان کے اعتقاد کا حصّہ ہے کالج انتظامیہ کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہو گی ..لب ڈیموکریٹ کے ایم پی جان ہیمنگ نے بھی اس عمل کو غیر ضروری قرار دیا تھا جبکہ برمنگھم کونسل میں کمیونٹی کو ہیزن کے چیئرمین کونسلر وسیم ظفر کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا اور اسے فیصلہ واپس لینا پڑے گا برمنگھم میٹروپولیٹن کالج جہاں مسلمان لڑکیوں کو نقاب پہننے ہیٹ یا ٹوپی نما کوئی اور چیز اوڑھنے کی ممانعت کی گئی تھی کی پرنسپل ڈیم کرسٹائن بریڈوک نے کہا تھا کہ کیمپس میں طلبہ کو بآسانی شناخت کے قابل ہونا چاہئے، کالج کے تمام طلبہ ، عملے کے ارکان اور مہمانوں سے کہاگیا ہے کہ وہ چہرے کو ڈھانپنے والی کوئی بھی چیز ہٹادیں تاکہ ان کی ہروقت بآسانی شناخت ہوسکے،لیکن نقاب پر اس متنازع پابندی سے بعض مسلمان لڑکیوں میں بے چینی پھیل گئی جن کاکہنا تھاکہ ان کو امتیاز کانشانہ بنایاجارہا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان سیاستدانوں کے درمیان برقعہ پر پابندی کے حوالے سے ہونے والی بحث کے چند دن بعد کیاگیا ۔ کالج کی پرنسپل اورچیف ایگزیکٹو ڈیم کرسٹائن بریڈوک کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی کافی دنوں سے نافذالعمل تھی یہ طلبہ کے تحفظ کیلئے بنائی گئی ۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم سختی سے مساوات ،کثیرالجہتی کی پالیسی پر کاربند ہیں لیکن ہم نے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کا محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے کاعز م کررکھا ہے ۔