مقبول خبریں
چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام سے راجہ نجابت اورحریت رہنماء عبدالحمیدلون کی ملاقات
کرالے میں اوورسیزپاکستانیوں کی میٹنگ،مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد کی شرکت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سردار عتیق کی قیادت میں جدوجہد آزادی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے:رہنما ایم سی
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
مقبوضہ کشمیرمظالم:عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہو گا : ڈاکٹر سجاد کریم
بلقیس بانو زندہ کیوں؟؟؟؟؟
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کو چاہئے کہ وہ چین کی طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کرے: میاں شہباز شریف
لندن :وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے برطانوی دارالحکومت لندن میں پاکستان انرجی اینڈ انفراسٹرکچر فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آگے آئے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی مدد کی لہٰذا برطانیہ کو غربت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرنی چاہئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار سے زائد جانیں قربان کیں۔ پاکستان اب سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ ملک بن چکا ہے اور برطانیہ کو چاہئے کہ وہ چین کی طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی طرح برطانیہ بھی پاکستان کا قریبی اتحادی اور دوست ہے۔ تاحال چین پاکستان میں چھیالیس ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان آج بھی دوستانہ اور اقتصادی تعلقات موجود ہیں اور ان کے دورے سے برطانوی حکومت کے ساتھ وابستگی مزید مضبوط ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے لندن کے چیتھم ہائوس میں ایک لیکچر بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک آپس میں جڑی دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں، ہم جو پالیسیاں بناتے ہیں، ہم جو جنگیں چھیڑتے ہیں اور ہم جس امن کی جستجو کرتے ہیں، سب چیزیں آپس میں ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ لندن کے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل کی زیرسرپرستی بین الاقوامی شہرت کے حامل تھنک ٹینک چیتھم ہائوس میں مہمان مقرر کے طور پر اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم سب کو آب وہوا کی تبدیلی سے لے کر ناقص غذائیت کا شکار بچوں تک ہر طرح کے مسائل درپیش ہیں اور آج کی دنیا میں کوئی بھی چیز ہو وہ ایک مشترکہ مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن اب نہیں رہے جب لاہور میں کچھ ہوتا تھا تو لندن والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا بلکہ اب لاہور لندن ہے اور لندن لاہور۔ بی بی سی ورلڈ کے اینکر اوون بینیٹ جانز نے پروگرام کی میزبانی کی۔ متعدد دانشوروں، سیاست دانوں، پروفیسرز اور ماہرین نے سیشن میں شرکت کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیتھم ہائوس میں اس طرح کے دانشورانہ سیشنز کی روایت تقریباً سو سال پرانی ہے اور مختلف شعبوں میں بین الاقوامی شہرت کے حامل صرف ممتاز سیاست دانوں یا شخصیات کو یہاں تقریر کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ اپنی تقریر کے بعد وزیراعلیٰ نے تقریباً نصف گھنٹے تک حاضرین کے سوالوں کے جواب دئیے۔