مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بشار الاسد نے روس کی تجویز پر رضامندی ظاہر کر دی، بال پھر امریکی کورٹ میں ..!!
دمشق... روس کی جی ٹونٹی کانفرنس اور لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی مشرق وسطی کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد شام کے مسلے پر چھڑی سرد جنگ کے بادل چھٹتے دکھائی دینے لگے ہیں.. شام کے صدر بشا رالاسد نے روس کی تجویز پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں جنگ کی بجائے اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ اگر شام بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں سے پاک ہو جائے تو جنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ..امریکا کی طرف سے بحران زدہ عرب ریاست شام کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات نے تمام دنیا کو چوکنا کر رکھا تھا۔ باراک اوباما متعدد امریکی ٹیلی وژن چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہہ چُکے ہیں کہ اگر شامی صدر بشار الاسد اپنے کیمیاوی ہتھیاروں کی بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ہاتھوں چھان بین کی اجازت دے دیں تو وہ شام پر فوجی حملے کے منصوبے کو بالکل ترک کر دیں گے۔ دراصل یہ تجویز پیر کو روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاؤروف نے اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد پیش کی تھی۔ اور اب شام نے روس کی تجویز پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ تجزیہ کار اس صورتحال پر تذبذب کا شکار ہیں کہ آخر اوباما نے ماسکو کی اس تعجب خیز تجویز کو قابل غور کس طرح مان لیا، آخر اس کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہیں۔ اوباما کے بیانات پر رد عمل کے طور پر اسی قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار امریکی حکومتی حلقے کی طرف سے بھی سامنے آیا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان ماری ہارف کا کہنا تھا کہ یہ امر کوئی اتفاق نہیں کہ روس اچانک شام کے معاملے میں اتنا فعال ہو گیا ہے، آخر فوجی حملے کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ ماری کے بقول،" ہم ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے پہلے روس کے بیانات کا جائزہ لیں گے۔ غور کریں گے کہ اس کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس بارے میں شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں" ۔ کچھ ہی دیر بعد اوباما کے سلامتی امور کے ایک نائب مشیر ٹونی بلنکن نے پریس کے سامنے پیش ہو کر نہایت محتاط انداز میں بیان دیا،" ظاہر ہے کہ اگر اسد اپنے کیمیاوی ہتھیار ترک کر دیتے ہیں اور اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ہم اُن کے اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔ ہم ان ہتھیاروں کو ضائع کر دیں، یہی تو اصل مقصد ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کیمیاوی ہتھیار دوبارہ ستعمال نہ کر سکیں" ۔ امریکی صحافیوں کے لیے اوباما اور اُن کی حکومت کے دیگر اعلیٰ اہلکاروں کے بیانات مبہم اور غیر یقینی کا شکار کر دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ روز لندن میں ایک بیان میں کہا تھا،" اگر اسد ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے کیمیاوی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کر دیں تو وہ حملے کو روک سکتے ہیں" ۔