مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اعتزاز احسن اوررحمان ملک کی مائیں انگریز تو نہ تھیں
حیرانی اس بات پر نہیں کہ پیپلز پارٹی کے رحمان ملک اور چوھدری اعتزاز احسن کو سورة اخلاص یاد نہیں ،تشویش اس بات کی ہے کہ ان جیسے پڑھے لکھے لوگ بھٹو خاندان کی قبروں پر جا کر کیا پڑھتے ہوں گے؟ سورة اخلاص کے بغیر فاتحہ خوانی مکمل نہیں ہوتی جبکہ یہ لوگ بھٹو کے مزار پر ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کسی کیمرے والے کو کچھ معلوم نہیں کہ یہ دانشور اور سیاستدان اپنی توتلی زبان میں کون سی سورة تلاوت فرما رہے ہیں۔ سورة اخلاص مسلمانوں کے بچے بچے کو زبانی یاد ہے ۔بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو اس کی ماں یادادی نانی اسے اللہ،بسم اللہ ،لا الہ الا اللہ،کے بعد چوتھی جو چیز یاد کراتی ہیں وہ سورة اخلاص ہے اور جب بچہ سورة اخلاص یاد کر لیتا ہے تو ماں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے سامنے بڑے فخر سے اپنے بچے کو سورة اخلاص سنانے کے لئے کہتی ہے ۔ جب بچہ اپنی توتلی زبان میں ”قل ہو واللہ ہو احد“ مکمل سورة سنارہا ہوتا ہے تو فرشتے بھی اس ننھے فرشتے کو اپنے پروں میں چھپا لیتے ہیں۔ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ سلام کا ایک قبر سے گزر ہوا،صاحب قبرپر عذاب ہو رہا تھا،دوسری مرتبہ اس قبر سے گزر ہوا تو صاحب قبر آسودگی میں تھا،کلیم اللہ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی،یا پروردگار ‘ کیا ماجرا ہے،اللہ سبحان تعالیٰ نے فرمایا،اے کلیم اللہ! یہ شخص اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب قبر میں مبتلا تھا مگر آج اس کے بچے نے اپنی توتلی زبان سے بسم اللہ پڑھی تو میری رحمت جوش میں آگئی کہ ایک بچہ مجھے رحمان و رحیم پکارے اور میں اس کے باپ کو عذاب دوں؟والدین کے لئے بہترین صدقہ جاریہ اس کی نیک اولاد ہے اور جب اولاد کو دین کی اساس سورة اخلاص ہی یاد نہ ہو تو ان والدین کی روحوں پر کیا گزرتی ہو گی ۔ایک مرتبہ ایک مسلمان خاتون کی میت لائی گئی،ہم چند خواتین کی مدد سے جب مرحومہ کے غسل اور کفن سے فارغ ہو چکے تو پوچھا مرحومہ کے ساتھ کوئی رشتہ دار نہیں آئے،پتہ چلا کہ مسجد کے باہر مرحومہ کی امریکی بہو اوردو پوتیاںکھڑی ہیں ،ہم نے انہیں اندر آنے کو کہا تو امریکی لباس میں ملبوس ان لڑکیوں نے بتایا کہ ان کی دادی بہت نیک مسلمان تھیں مگر انہیں وہ سب اسلامی کلمات نہیں آتے جو اس موقع پر پڑھے جاتے ہیں ۔ہم نے پوچھا ،آپ کی دادی نے آپ کو کلمہ شہادت تو ضرور سکھایا ہو گا،لڑکیاں بولیں ،ہماری ماں عیسائی ہے اور ہمیں چرچ لے کر جاتی ہے‘۔ امریکہ میں اس طرح کے لا تعدا د واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کہ گمراہ تہی دا من اولادوں کے پاس اپنے مرحوم والدین کے ایصال ثواب کے لئے کچھ نہیں ۔چودھری اعتزاز احسن اور رحمان ملک کی مائیں انگریز نہیں تھیں،انہوں نےیقینا اپنے لڑکوں کو دین کی تعلیم دی ہو گی۔انہیں سورة اخلاص جو کہ دین کی اساس ہے ،زبانی یاد کرائی ہو گی ،یہی نہیں بلکہ اس کا ترجمہ اور تفسیر بھی سمجھائی ہو گی۔قرآن پاک کی یہ مختصر سورة نمازوں میں بھی تواتر کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔نجی ٹی وی چینلز نے رحمان ملک اور اعتزاز احسن کی تلاوت کی جھلکیاں دکھائیں۔رحمان ملک نے توقع کے مطابق جہالت کا مظاہرہ کیا مگر بیرسٹر اعتزاز احسن جیسے باکمال مقرر ،دانشور،شاعر، ذہین وکیل سے اس جہالت کی توقع نہ تھی۔ سورة اخلاص کی نہ صرف غلط تلاوت کی بلکہ سورة کے اخیر میں من گھڑت اضافی جملہ بھی استعمال کیا۔اعتزاز احسن نے کبھی کسی تقریر سے پہلے اللہ کا نام نہیں لیا، زرداری صاحب کو دیکھ کر نہ جانے انہیں کیا ہو گیا کہ پوری سورة ہی پڑھ ڈالی۔ نیویارک میں بحالی عدلیہ کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران ایک بزرگ اٹھے اور وہاں موجود بشریٰ اعتزاز کے پاس جا کر بولے’چوھدری صاحب بہت علم اور جذبے والے انسان ہیں ،اگروہ اپنے خطاب کا آغاز بسم اللہ الرحمان الرحیم سے کر دیاکریں۔بشریٰ نے کہا کہ ’میرا تعلق بھی درس و تعلیم سے ہے اور میں بھی آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ جب انسان صبح اپنے گھر سے اللہ کا نام لے کر نکلتا ہے تو تمام دن اللہ کی حفاظت میں ہوتاہے ، تقریر سے پہلے اللہ کا نام لینا ضروری نہیں‘۔ بشریٰ کی فلاسفی کے علاوہ بھی ان کے شوہر نے کبھی دیندار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اپنی کسی تقریر یا انٹرویو سے پہلے اللہ کا نام لیا۔رحمان ملک سے اصلاح کی امید نہیں مگر چودھری اعتزاز احسن جیسے پڑھے لکھے انسان سے امید ہے کہ مزید خود اعتمادی کا ثبوت دینے کی بجائے اپنی غلطی کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کریں اور تقاریر کے لئے چند چھوٹی سورتیں یاد کر لیں۔ضروری نہیں کہ درست تلاوت کرنے والے با عمل مسلمان ہوں مگر کلام اللہ کی غلط تلاوت یا اپنے پاس سے جملوں کا اضافہ توہین قرآن کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ ہمیں تو بھٹو مرحوم کے مزار کی فکر ہے ، نہ جانے یہ لوگ بھٹو خاندان کی قبروں کے ساتھ کیاسلوک کرتے ہوں گے۔ (طیبہ ضیا چیمہ .. نیو یارک )