مقبول خبریں
اولڈہم کے مقامی ہوٹل ہال میں باغیچہ سجانے کی تقسیم انعامات کی تقریب
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیریوں کی لاشوں پرسنگیت بجانےپرجرمن سفیراورزبن مہتا کومعافی مانگنی چاہیے:سید علی گیلانی
سرینگر ... حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جرمن سفیر اورزبن مہتا کومعافی مانگنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ شوپیان میں 4نوجوانوں کی ہلاکت کشمیر کی سنگین صورتحال کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ سید علی گیلانی نے زوبن مہتا شو کے بیچ چار معصوم نوجوانوں کے قتل اور اس کے بعد کرفیو نافذ کرنے کو کشمیر کی سنگین صورتحال کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمن سفیر اور زبن مہتا میں انسانیت کی کوئی رمق موجود ہے تو انہیں کشمیریوں کی لاشوں پر سنگیت بجانے کے لئے معافی مانگ لینی چاہیے اور انہیں اقوامِ عالم کے لیے یہاں سے یہ پیغام لے کر جانا چاہیے کہ بھارتی فورسز یہاں عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام کررہی ہیں۔ بیان میں سیدعلی گیلانی نے جرمن ایمبیسڈر مائیکل سٹینر اور زبن مہتا کو مخاطب کیا کہ دنیا کا کوئی بھی انسان کسی کی لاش پر ساز بجا سکتا ہے اور نہ وہ جنازوں پر گانا گا سکتا ہے۔ البتہ آپ لوگوں نے یہ کرکے دکھایا اور اس طرح سے کشمیریوں کے دلوں میں آپ کا کوئی اچھا امیج نہیں بنا۔ آپ کے ضمیر زندہ ہیں تو آپ اپنی غلطی پر ضرور پچھتائیں گے اور کشمیری قوم سے معافی مانگیں گے۔ دوسری صورت میں ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کشمیر سے متعلق آپ کا احساس کھوکھلا ہے اور اس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سیدعلی گیلانی نے زبن مہتا شو کے موقعے پر کی گئی فقید المثال ہڑتال کو چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتال بھارت کے قبضے اور جرمنی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا اور کشمیری قوم نے ثابت کر دکھایا کہ وہ اپنی قربانیوں کے ساتھ مذاق کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔