مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیریوں کی لاشوں پرسنگیت بجانےپرجرمن سفیراورزبن مہتا کومعافی مانگنی چاہیے:سید علی گیلانی
سرینگر ... حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جرمن سفیر اورزبن مہتا کومعافی مانگنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ شوپیان میں 4نوجوانوں کی ہلاکت کشمیر کی سنگین صورتحال کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ سید علی گیلانی نے زوبن مہتا شو کے بیچ چار معصوم نوجوانوں کے قتل اور اس کے بعد کرفیو نافذ کرنے کو کشمیر کی سنگین صورتحال کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمن سفیر اور زبن مہتا میں انسانیت کی کوئی رمق موجود ہے تو انہیں کشمیریوں کی لاشوں پر سنگیت بجانے کے لئے معافی مانگ لینی چاہیے اور انہیں اقوامِ عالم کے لیے یہاں سے یہ پیغام لے کر جانا چاہیے کہ بھارتی فورسز یہاں عام شہریوں کا بے دریغ قتل عام کررہی ہیں۔ بیان میں سیدعلی گیلانی نے جرمن ایمبیسڈر مائیکل سٹینر اور زبن مہتا کو مخاطب کیا کہ دنیا کا کوئی بھی انسان کسی کی لاش پر ساز بجا سکتا ہے اور نہ وہ جنازوں پر گانا گا سکتا ہے۔ البتہ آپ لوگوں نے یہ کرکے دکھایا اور اس طرح سے کشمیریوں کے دلوں میں آپ کا کوئی اچھا امیج نہیں بنا۔ آپ کے ضمیر زندہ ہیں تو آپ اپنی غلطی پر ضرور پچھتائیں گے اور کشمیری قوم سے معافی مانگیں گے۔ دوسری صورت میں ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ کشمیر سے متعلق آپ کا احساس کھوکھلا ہے اور اس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سیدعلی گیلانی نے زبن مہتا شو کے موقعے پر کی گئی فقید المثال ہڑتال کو چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتال بھارت کے قبضے اور جرمنی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویئے کے خلاف ایک ریفرنڈم تھا اور کشمیری قوم نے ثابت کر دکھایا کہ وہ اپنی قربانیوں کے ساتھ مذاق کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔