مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
فوجی کارروائی کی بجائے مشروط طور پر سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں: امریکی صدر اوبامہ
واشنگٹن...شام کے خلاف جارحانہ عزائم میں ہلکی سی لچک دکھاتے ہووے امریکی صدر اوبامہ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے سامنے آنے والی نئی تجویز جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے شام کو چاہیئے کہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ بین الاقوامی برادری کے حوالے کر دے، جو بات ’ممکنہ پیش رفت‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ صدر نے کہا کہ اُنھوں نے وزیر خارجہ جان کیری کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ اِس تجویز کی جُزیات کو طے کرنے کے لیے بات چیت کی جائے۔ مسٹر اوباما نے کہا کہ اِس معاملے پر اُنھوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے گذشتہ ہفتے سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والے ’جی 20‘کے سربراہ اجلاس کے دوران ’برجستہ‘ گفتگو کی تھی ۔ امریکی سربراہ نے کہا کہ اُن کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ سفارقی طریقے سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ چھ امریکی ٹی وی پروگراموں میں ان کا ماننا تھا کہ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حکومت ِشام پھر کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرے، وہ فوجی کارروائی کی بہ نسبت سفارت کاری کو ’اوّلین ترجیح‘ دیتے ہیں۔ شام نے بھی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے حوالگی کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے، تاکہ امریکی فوجی کارروائی سے بچا جاسکے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اِس تجویز کی توثیق کی ہے۔