مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
فوجی کارروائی کی بجائے مشروط طور پر سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں: امریکی صدر اوبامہ
واشنگٹن...شام کے خلاف جارحانہ عزائم میں ہلکی سی لچک دکھاتے ہووے امریکی صدر اوبامہ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے سامنے آنے والی نئی تجویز جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے شام کو چاہیئے کہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ بین الاقوامی برادری کے حوالے کر دے، جو بات ’ممکنہ پیش رفت‘ کا سبب بن سکتی ہے۔ صدر نے کہا کہ اُنھوں نے وزیر خارجہ جان کیری کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ اِس تجویز کی جُزیات کو طے کرنے کے لیے بات چیت کی جائے۔ مسٹر اوباما نے کہا کہ اِس معاملے پر اُنھوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے گذشتہ ہفتے سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والے ’جی 20‘کے سربراہ اجلاس کے دوران ’برجستہ‘ گفتگو کی تھی ۔ امریکی سربراہ نے کہا کہ اُن کی اولین ترجیح یہی ہوگی کہ سفارقی طریقے سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ چھ امریکی ٹی وی پروگراموں میں ان کا ماننا تھا کہ اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حکومت ِشام پھر کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرے، وہ فوجی کارروائی کی بہ نسبت سفارت کاری کو ’اوّلین ترجیح‘ دیتے ہیں۔ شام نے بھی کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے حوالگی کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے، تاکہ امریکی فوجی کارروائی سے بچا جاسکے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اِس تجویز کی توثیق کی ہے۔