مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
تعلیمی انحطاط کا اصل ذمہ دار کون ؟
اگر قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کھنگالی جائے تو یہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ان قوموں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے،بے مثل ترقی کی اور دنیا کی امامت کا فیضہ سرانجام دیا۔جنہوں نے بامقصد تعلیم کو اپنا راہنماء بنالیا۔تعلیم کو اہمیت دیکر ترقی کی ایسی منازل حاصل کیں کہ دنیا دنگ رہ گئی۔اسی بنا پر انہوں نے اپنی حاکمیت قائم کرلی اور تعلیم کو شعار نہ بنانے والے اجڈ گنوار ممالک کو پستی میں دھکیل دیا۔14سوصدی پہلے کا دور دیکھتے ہیں کہ وہاں اقدار دفن ہوچکی تھیں۔اجڈ گنوار عرب کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پر جنگ وجدل میں کود پڑتے تو کبھی پانی پلانے پر طبل جنگ بج اٹھتا۔پھر برس ہا برس اسی جنگ وجدل میں ہزاروں لقمہ اجل بن جاتے ۔پھر رحمت خداوندی جوش میں آتی ہے۔نبی رحمت آخر ازمان حضرت محمد دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔تو پھر ان کی تعلیمات کے نتیجے میں جاہل عالم بن جاتے ہیں۔ اتنی طویل تمہید کا مقصد اپنے وطن پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی کا دکھ درد اور بکھیڑا لکھنا تھا۔کہ ہم نے 67برس سے قبل آزادی حاصل کی مگر تعلیم کی میدان میں کیوں پیچھے رہ گئے۔کیوں اس بارے شد و مد سے تعلیمات دینے والے دین اسلام کو بھلا دیا۔بامقصد تعلیم کے فروغ کیلئے ہم نے کیاکیا؟ایک واقعے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا کہ شاہد اقتدار کی مسنند وں پر بیٹھے حاکموں کو خیال آجائے اور وہ نظام تعلیم کی بنیادی خامیوں کو دور کر سکیں۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ میرے پاس سرکاری تعلیمی ادارے کا ایک طالبعلم جو دوسری جماعت میں زیر تعلیم تھا کو اس کی ماں نے بھیجا کہ اس کے امتحانات ہیں آپ کچھ توجہ دیں۔اساتذہ توجہ نہیں دیتے میں نے بچے سے چند بنیادی سوالات کیے ملنے والے جوابات نے میرے چودہ طبق روشن کردئیے۔میں نے اس سے پوچھا کہ پاکستان کس نے بنایا تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے۔پھر پوچھا کہ بابا قائد اعظم کو جانتے ہو تواس نے کہا کہ جانتا ہوں انہوں نے دنیا بنائی تھی۔جواب جان کے دل خون کے آنسو رویا۔کہ ہم نئی نسل کو کیا تعلیم دے رہے ہیں۔ہم نئی نسل کو کیا تعلیمی سہولیات دے رہے ہیں۔اگر ہم تعلیمی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں 2کروڑ بچے ایسے ہیں جو تعلیم حاصل ہی نہیں کر سکتے۔غربت، یا نزدیک ترین تعلیمی سہولیات کا میسر نہ ہونا اس کی وجوہات ہیں جبکہ 5کروڑ بچے ایسے ہیں جو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ مجبور ہیں۔مجبور اس لیے کہنا پڑا رہا ہے کہ پرائمری سطح پر جو تعلیم دی جاتی ہے سب اس سے بخوبی آشنا ہیں بچوں سے کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے مار نہیں بیار کے بورڈ لگے ہیں مگر مارپیٹ اب بھی ہوتی ہے سنجیدگی کے عنصر کو کم کرنے کیلئے ایک سرکاری تعلیمی ادارے کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں اچھو نام کا ایک طالبعلم زیر تعلیم تھا جو تھوڑا کند ذہن تھا۔ اور شرارتوں میں کچھ زیادہ ہی شرارتی تھا۔اچھو کی استاد اکثر بیشتر ٹھکائی بھی کر دیتے کچھ بھی ہوجاتا۔مرغا بننے کے لیے قرعہ اچھو کے نام نکلتا۔ایک دفعہ کلاس جاری تھی کہ باہر روڈ پر ایکسیڈنٹ ہوگیا۔اسی اثناء آن کی آن میں اچھو اٹھا اور ماسٹر صاحب کے قریب جا کر کان پکڑ لیے ۔ماسٹر صاحب نے پوچھا تو معصومیت سے بولا سر جی ایکسیڈنٹ ہوا ہے قصور اچھو کا نکلے گا تو خود ہی کان پکڑ لیے۔اب اس کی مثال میں سرکاری اداروں کی مارپیٹ کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے پھر دوسری آج پاکستان میں بے شمار سکول ایسے ہیں جو عمارتوں سے بے نیاز ہیں اکثر عمارتیں ہیں مگر وہاں وڈیروں ،جاگیرداروں کے جانور باندھے جاتے ہیں۔انہیں اداروں میں آنکھوں میں سہانے سپنے سجائے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔انہیں دھوپ یا بارش کی کوئی پروا نہیں ہوتی یہ بچے بھی آنکھوں میں ڈاکٹر ،فوجی آفیسر،پروفیسر ،پائیلٹ بننے کے خواب دیکھتے ہیں ان کے غریب ماں باپ کی آنکھوں میں وہی سپنے ہوتے ہیں جو امیر ماں باپ دیکھتے ہیں جن کے بچے مہنگے ترین انگلش سکولوں میں پڑھتے ہیں جنہیں امیروں کا تعلیمی ادارہ کہتے ہیں۔مگر امیر و غریب کی آنکھوں کے خواب مشترک ہوتے ہیں خواب امیری غریبی کے فرق سے بے نیاز ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تعلیم دیتے اور ظلم وستم ظریفی یہ ہے کہ بھاری بھر کم تنخوائیں لینے والے اساتذہ اپنے مقدس پیشے سے انصاف نہیں کرتے نونہالوں کو بجائے اس کے کہ وہ زیور تعلیم سے آراستہ کریں مگرافسوس صد افسوس کہ وہ سرکاری اداروں کوپیکنک پوائنٹ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔نجانے حکمران کے سوئے ہوئے ضمیر کب جاگیں گے؟ وہ کب اپنے مستقبل کے قیمتی اثاثے کے لیے اقدامات کرکے ان کے مستقبل کی آبپاری کرینگے؟کیوں کل ملک کی بھاگ دوڑ آج کے نونہالوں کے ہاتھوں میں آئے گی؟ 67برس تو ضائع کر دئیے۔نظام تعلیم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوسکا۔سوچنا یہ ہے کہ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔اب بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے؟اگر نہ ہوسکا تو داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔۔ (تحریر : سحرش عدنان )