مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو مسلم فسادات،درجنوں ہلاک لوگ نقل مکانی کرنے لگے
ممبئی... بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ایک ضلع میں مقامی سیاسی رہنما کی شرارت سے شروع ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں 50 سے زائد مسلمانوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے فسادات میں 31 افراد کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں ہزاروں پولیس اہلکار اور فوجی دستے تعینات کردیے تھے ۔ پولیس کے مطابق فسادات کا آغاز ہفتے کو ہوا تھا جو اتوار کو پورا دن جاری رہے۔ تاہم پولیس اور فوجی دستوں نے علاقے میں پہنچنے کے بعد پیر کی شام تک صورتِ حال پر بڑی حد تک قابو پالیا تھا ۔ فسادات سے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور سکیورٹی اہلکاروں کے دستے مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق فسادات کا سبب ایک مبینہ جعلی ویڈیو بنی جس میں علاقے سے تعلق رکھنے والے ان دو ہندو نوجوانوں کو کوڑے مارے جارہے ہیں جنہیں مبینہ طور پر گزشتہ ماہ قتل کردیا گیا تھا۔ ویڈیو علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جانے کے بعد ہفتے کو پانچ ہزار سے زائد کسانوں نے احتجاج کیا تھا جو بعد ازاں مشتعل ہوگئے اور قتل و غارت شروع کردی۔ علاقہ حکام کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ہفتے کو مختلف مقامات پر حملے کرکے 13 افراد کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد چاقووں، لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ نزدیکی دیہات تک پھیل گیا۔ فسادات کے دوران میں متاثرہ علاقوں میں کئی گھروں اور دیگر املاک کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا۔ پیر کو دوپہر تک ہلاک ہونے والوں میں اکثریتی مسلمان ہیں۔ اتوار کی شب سے متاثرہ دیہات سے مسلمان خاندانوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں مقامی ٹی وی چینل سے منسلک ایک صحافی اور پولیس کا فوٹو گرافر بھی شامل ہیں۔ پولیس افسر ارون کمار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حکام نے فسادات میں ملوث ہونے کے شبہ میں 90 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ علاقے میں پولیس کے خصوصی دستے کے ڈھائی ہزار اہلکاروں اور 800 فوجیوں سمیت ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ بھارت کی گنجان ترین لیکن غریب ریاست اتر پردیش کا شمار ملک کی مذہبی طور پر انتہائی حساس ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ تین برسوں میں مذہبی فسادات کے دوران میں ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔