مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے حلف لیکر ممنون حسین نے عہدہ صدارت سنبھال لیا
اسلام آباد ... پاکستان کے نئے صدر ممنون حسین نے عہدے کا حلف اُٹھا لیا ہے۔ وہ 30 جولائی کے صدارتی انتخاب میں واضح اکثریت ملک کے بارہویں صدر منتخب ہووے تھے، تاہم اُنھیں اس منصب پر براجمان ہونے کے لیے اپنے پیش رو آصف علی زرداری کی پانچ سال آئینی مدت مکمل ہونے تک انتظار کرنا پڑا۔ ممنون حسین کی تقریب حلف برداری پیر کو ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، جس میں عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اُن سے صدر مملکت کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں سابق صدر آصف علی زرداری کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ آصف علی زرداری کی آئینی مدت اتوار کی نصف شب مکمل ہوئی تھی، جس سے چند گھنٹے قبل اُنھیں ’’گارڈ آف آنر‘‘ کے ساتھ ایوانِ صدر سے رخصت کیا گیا۔ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں وہ پہلے جمہوری منتخب صدر تھے، جنھوں نے اس عہدے کی آئینی مدت مکمل کی۔ سن 2010ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد صدرِ مملکت کا عہدہ رسمی تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ بیشتر اختیارات صدر سے وزیرِ اعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ ممنوں حسین 1940ء میں بھارتی شہر آگرہ میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد اُن کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا جہاں وہ کپڑے کی صنعت سے وابستہ ہے۔ اُنھوں نے 1970ء کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) سے وابستگی اختیار کی اور 1999ء میں صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد اُنھوں نے اپنی سیاسی وابستگی ترک کر دی تھی۔ ممنون حسین کہتے ہیں کہ وہ آئین کے مطابق عہدہ صدارت کی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ حکمران جماعت کی طرح ممنون حسین نے بھی دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو حکومت کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا ہے، اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کریں گے..