مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے حلف لیکر ممنون حسین نے عہدہ صدارت سنبھال لیا
اسلام آباد ... پاکستان کے نئے صدر ممنون حسین نے عہدے کا حلف اُٹھا لیا ہے۔ وہ 30 جولائی کے صدارتی انتخاب میں واضح اکثریت ملک کے بارہویں صدر منتخب ہووے تھے، تاہم اُنھیں اس منصب پر براجمان ہونے کے لیے اپنے پیش رو آصف علی زرداری کی پانچ سال آئینی مدت مکمل ہونے تک انتظار کرنا پڑا۔ ممنون حسین کی تقریب حلف برداری پیر کو ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، جس میں عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اُن سے صدر مملکت کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں سابق صدر آصف علی زرداری کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ آصف علی زرداری کی آئینی مدت اتوار کی نصف شب مکمل ہوئی تھی، جس سے چند گھنٹے قبل اُنھیں ’’گارڈ آف آنر‘‘ کے ساتھ ایوانِ صدر سے رخصت کیا گیا۔ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں وہ پہلے جمہوری منتخب صدر تھے، جنھوں نے اس عہدے کی آئینی مدت مکمل کی۔ سن 2010ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد صدرِ مملکت کا عہدہ رسمی تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ بیشتر اختیارات صدر سے وزیرِ اعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ ممنوں حسین 1940ء میں بھارتی شہر آگرہ میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد اُن کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا جہاں وہ کپڑے کی صنعت سے وابستہ ہے۔ اُنھوں نے 1970ء کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) سے وابستگی اختیار کی اور 1999ء میں صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد اُنھوں نے اپنی سیاسی وابستگی ترک کر دی تھی۔ ممنون حسین کہتے ہیں کہ وہ آئین کے مطابق عہدہ صدارت کی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ حکمران جماعت کی طرح ممنون حسین نے بھی دہشت گردی اور توانائی کے بحران کو حکومت کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا ہے، اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کریں گے..