مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، لیام فاکس انگلی اٹھانے سے پہلے حقائق پرکھیں: پاکستان ہائی کمیشن
لندن ... حکومت پاکستان نے سابق برطانوی وزیر دفاع لیام فاکس کے پاکستان بارے متنازع ریمارکس پر شید رد عمل کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ ایک منجھے ہوے سیاستداں سے ایسی بات کہ توقع نہیں کی جا سکتی خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سخت مشکلات سے دوچار ہو ، پاکستان ہائی کمیشن لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ تاریخ ساز دوستی کے حامل ممالک ہیں اور برطانیہ ان حقائق سے بخوبی آگاہ ہے جن سے دوچار ہو کر پاکستان نے دنیا کو بچانے کے لئے اپنا کتنا نقصان کیا ایک ذمہ دار سیاستداں کی حیثیت سے سابق برطانوی وزیر کو کسی مسلے کا ایک رخ بیان کرتے ہووے دوسرا رخ بھی مد نظر رکھنا چا ہیے تھا واضح رہے کہ سابق برطانوی وزیر نے کہا تھا کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے، یہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار اور بدمعاش ریاستوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو تیار ہے اور افغانستان میں بدستور طالبان کی پشت پناہی کررہا ہے..میل آن سنڈے کے مطابق لیام فاکس کا کہنا ہے کہ گلوبلائزیشن اب کوئی نئی بات نہیں ہے ، شاہراہ ریشم ،ملے جلے ثقافتی آئیڈیئے اورمعلومات ایجادات اور نئی دنیا کی تلاش کے عظیم دور کے بعد کی پیداوار ہیں، ساحلی ممالک میں توسیع جن میں پرتگال، سپین، ہالینڈ اور خاص طورپر برطانیہ شامل ہیں تجارت میں تیزی سے ترقی ہوئی اس وقت سے ٹیکنالوجیز کی ترقی اور تجربات کے تبادلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ مادی اور سائنسی ترقی ہوئی لیکن اقتصادی فوائد کے ساتھ ہی ہمارے امن اور استحکام کیلئے نئے خطرات بھی سامنے آئے جن میں موسم کی تبدیلی اورآلودگی اور محدود اجناس کیلئے مقابلہ، دہشت گردی میں تغیر پذیر اضافہ اور اسلام کے اندر عالمی کشمکش،سنی وشیعہ ، جس نے سرمایہ داری اورکمیونزم کی جگہ لی ہمارے دور کے انتہائی غیر مستحکم نظریاتی مسائل ہیں، ہمیں خود کو درپیش ان خطرات کی وسعت اور نوعیت کے بارے میں ان کو بڑھائے گھٹائے اوران کاکوئی جواز پیش کئے بغیر ہمیں صاف گو ئی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ہر ملک کا ہر کام درست نہیں ہوتا اور وہ اس سے سبق حاصل کرتا ہے، عام طورپر ہم اس تیزی سے وقوع پذیر ہونے والی انتہائی ہلاکت خیز صورتحال کا ذمہ دار بین الاقوامی سربراہ کانفرنسوں اور یا اقوام متحدہ کے کمیٹی روم میں بین الاقوامی بیوروکریٹس کے گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہیں ۔وہ اخبار میں مزید لکھتے ہیں جب اقتصادی اورحکومتی نظام ناکام ہوتا ہے تو انتشار یا دہشت گردی کیلئے پیر جمانا آسان ہوجاتا ہے۔ ہم صومالیہ اوریمن میں ان قوتوں کا مقابلہ کررہے ہیں، لیکن ایک ملک پاکستان خطرات کے مقابلے میں کھڑا ہے،میری پاکستان یا اس کے عوام سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔اپنے دورہ پاکستان کے دوران مجھے پاکستان کے عوام کے ساتھ ملنے کاموقع ملا،مجموعی طورپر میرے خیال میں پاکستان دنیا کا انتہائی خطرناک ملک ہے ،یہ کسی بری نیت کانتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کاسبب ماضی کا سیاسی عدم استحکام ،اور اس کی انٹیلی جنس سروسز کی بعض اوقات ناقابل تصور اوربعض اوقات بد اندیشانہ رویہ ہوتا ہے۔لیم فاکس نے الزام لگایا ہے کہ آئی ایس آئی ایٹمی ٹیکنالوجی بدمعاش ممالک اور دوسروں کو دینا چاہتی ہے اور اپنی صلاحیتیں دہشت گردی برآمد کرنے پر صرف کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے الزام بھی لگایا ہے کہ پاکستان خونخوار اورخون آشام جہادیوں کاوطن ہے ،پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کی پرورش کیلئے بہت کچھ کیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ وہ اب بھی ایسا کررہا ہو، انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکام پر یہ شک کیاجاتا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے اسامہ بن لادن کاپتہ چلاکر انھیں ہلاک کئے جانے سے قبل بھی اسے اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کاعلم تھا۔عدم استحکام کاشکار پاکستان کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود ہیں، جو کہ علاقے میں تشویش کی ایک بڑی وجہ ہے، اس کے جنرلوں پر بھی ایٹمی راز شمالی کوریا کو فروخت کرنے کے الزامات ہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم پاکستان کے بارے میں قنوطیت یا جبریت کاشکارہوجائیں، بلکہ ہمیں اس میں موجود خطرات کے بارے میں حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ عالمی سطح پر تنہا کردینا یا تادیبی کارروائی باغی ممالک کیلئے ٹھیک ہیں جن کے ساتھ ہمارے مفادات بہت معمولی یاکوئی مشترکہ مفادات نہیں ہیں، لیکن پاکستان جیسے ملک کے ساتھ جس کے ساتھ ہمیں اشتراک کی ضرورت ہے اس طرح کی کارروائی کے منفی نتائج برآمد ہوں گے،اور اس سے ایک دوسرے پر انحصار کے تعلقات ختم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی امداد حاصل کرتاہے۔ پاکستان ہائی کمیشن کے علاوہ پاکستانی نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ انس سرور ،یاسمین قریشی، رحمن چشتی اورخالد محمود ایم پیز نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے ،مغربی ممالک کی جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں ،لیم فاکس ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں..