مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی دنیا کاسب سے خطرناک میگا سٹی جہاں قتل کی شرح دنیا سے 25فیصدزیادہ: فارن پالیسی جرنل
کراچی... معروف امریکی جریدے ”فارن پالیسی “نے کراچی کی ابتر صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہووے اسے دنیا کاسب سے خطرناک میگا سٹی قرار دیا ہے، جہاں افراد کو قتل کرنے کی شرح دنیا کے کسی بھی بڑے شہر سے 25فی صد زیادہ ہے، رپورٹ میں دیے گئے ڈیٹا کے مطابق 2011میں ممبئی میں202افراد قتل ہوئے جب کہ 2011میں کراچی میں1723افراد اور2012 میں2ہزار سے زائد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، سیاسی جماعتوں سے وابستہ گینگ کافی عرصے سے اس شہر میں سرگرم ہیں،جو بھتہ اور زمینوں پر قبضوں کے گروہ چلا رہے ہیں۔ طالبان نے بھی اس شہر میں پاوں مضبوط کر لیے ہیں۔ بلوچستان کی بے امنی اور افغانستان کے خراب حالات بھی کراچی پر اثر انداز ہوئے، اس کی بندرگاہ نارکوٹکس اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کی جارہی ہے، ڈرگز گینگز بھی اس شہر میں شامل ہو گئے ہیں، کراچی منشیات کی سمگلنگ اور فروخت بھی ڈرگز مافیا کے لئے ایک جنت ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھیجی جانے والی افغان منشیات کے لئے بنیادی منڈی کراچی کی پورٹ ہے۔ جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ کو ایک نئی ڈرگ میتھا مفٹامین کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہیروئین کی طلب میں کمی جب کہ میتھا مفٹامین کی طلب میں اضافہ ہوا اور خطے میں اس کا سب بڑا پیدا کنندہ ملک ایران ہے لیکن ملائشیا اور آسٹریلیا کو اس کی فراہمی کیلئے پاکستان ہی روٹ استعمال ہوتا ہے۔اس کی تیاری کیلئے ایفیڈرین یا سوڈو فیڈرین کیمیکل کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کیمیکل کھانسی ،الرجی،زکام یا دیگر ادویات کی تیاری استعمال میں ہوتا ہے لیکن کراچی میں اسے جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کیاجارہا ہے۔ میتھامفیٹا مین کو کراچی میں کرسٹل کہتے ہیں۔ ایک گرام کرسٹل پانچ سو سے آٹھ سو میں مل جاتی ہے۔ یہ ہیروئن سے زیادہ مہنگی ہے لیکن اس کانشہ ہیروئن سے زیادہ تیز ہے۔ کراچی میں گینگ لڑکوں کو گلیوں سے اٹھاتے ہیں انہیں کرسٹل کا عادی بناتے ہیں اور پھر جرائم کراتے ہیں۔