مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کراچی دنیا کاسب سے خطرناک میگا سٹی جہاں قتل کی شرح دنیا سے 25فیصدزیادہ: فارن پالیسی جرنل
کراچی... معروف امریکی جریدے ”فارن پالیسی “نے کراچی کی ابتر صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہووے اسے دنیا کاسب سے خطرناک میگا سٹی قرار دیا ہے، جہاں افراد کو قتل کرنے کی شرح دنیا کے کسی بھی بڑے شہر سے 25فی صد زیادہ ہے، رپورٹ میں دیے گئے ڈیٹا کے مطابق 2011میں ممبئی میں202افراد قتل ہوئے جب کہ 2011میں کراچی میں1723افراد اور2012 میں2ہزار سے زائد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، سیاسی جماعتوں سے وابستہ گینگ کافی عرصے سے اس شہر میں سرگرم ہیں،جو بھتہ اور زمینوں پر قبضوں کے گروہ چلا رہے ہیں۔ طالبان نے بھی اس شہر میں پاوں مضبوط کر لیے ہیں۔ بلوچستان کی بے امنی اور افغانستان کے خراب حالات بھی کراچی پر اثر انداز ہوئے، اس کی بندرگاہ نارکوٹکس اور ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کی جارہی ہے، ڈرگز گینگز بھی اس شہر میں شامل ہو گئے ہیں، کراچی منشیات کی سمگلنگ اور فروخت بھی ڈرگز مافیا کے لئے ایک جنت ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھیجی جانے والی افغان منشیات کے لئے بنیادی منڈی کراچی کی پورٹ ہے۔ جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ کو ایک نئی ڈرگ میتھا مفٹامین کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہیروئین کی طلب میں کمی جب کہ میتھا مفٹامین کی طلب میں اضافہ ہوا اور خطے میں اس کا سب بڑا پیدا کنندہ ملک ایران ہے لیکن ملائشیا اور آسٹریلیا کو اس کی فراہمی کیلئے پاکستان ہی روٹ استعمال ہوتا ہے۔اس کی تیاری کیلئے ایفیڈرین یا سوڈو فیڈرین کیمیکل کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کیمیکل کھانسی ،الرجی،زکام یا دیگر ادویات کی تیاری استعمال میں ہوتا ہے لیکن کراچی میں اسے جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کیاجارہا ہے۔ میتھامفیٹا مین کو کراچی میں کرسٹل کہتے ہیں۔ ایک گرام کرسٹل پانچ سو سے آٹھ سو میں مل جاتی ہے۔ یہ ہیروئن سے زیادہ مہنگی ہے لیکن اس کانشہ ہیروئن سے زیادہ تیز ہے۔ کراچی میں گینگ لڑکوں کو گلیوں سے اٹھاتے ہیں انہیں کرسٹل کا عادی بناتے ہیں اور پھر جرائم کراتے ہیں۔