مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ مسلے کا حل نہیں، شام کا تنازعہ مذاکرات سے حل کیا جائے: تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی
لندن... آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے زیر اہتمام ہاؤس آف کامنز کے بوتھ رائیڈروم میں شام کی صورتحال پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما فوزیہ قصوری نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ جنگوں کے خلاف بات کی ہے اور اس کا موقف ہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے ضرورف ہے پاکستان خود اس دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہیں ان کو فوری طور پر بند ہونا چاہئے تھرڈ ورلڈ سالیڈرٹی کے چیر مین مشتاق لاشاری نے کہا کہ شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کا کردار زیادہ ہونا چاہئے۔ کسی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طاقت کے بل بوتے سے دوسرے ملک پر حملہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ آئر لینڈ، افغانستان اور دوسری جگہوں پر جنگوں کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ صرف مذاکرات سے ہی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ تمام امور میں اقوام متحدہ رول اہم اور کلیدی ہونا چاہئے۔ دیگر مقررین میں صاحبزادہ جہانگیر ، مارک سیڈن، سانڈراسٹرلی شاہد سعد اللہ، ڈاکٹر جاویدشیخ، شہزادہ حیات، ناہید حیات اور سارہ قیوم شامل تھے جنہوں نے اظہار خیال کرتے ہووے اس بات پر زور دیا کہ شام کے مسئلہ کو جنگ کی بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہونے والے جنگوں پر کھربوں ڈالر قرضہ کئے گئے ہیں لاکھوں افراد ان جنگوں میں ہلاک ہوئے مگر تنازعات ابھی تک ختم نہیں ہوئے اس کی مطلب یہ ہے کہ تنازعات کو طے کرنے کے لئے مذاکرات ضروری ہیں۔ جنگ سے کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔