مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ مسلے کا حل نہیں، شام کا تنازعہ مذاکرات سے حل کیا جائے: تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی
لندن... آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی کے زیر اہتمام ہاؤس آف کامنز کے بوتھ رائیڈروم میں شام کی صورتحال پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما فوزیہ قصوری نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ جنگوں کے خلاف بات کی ہے اور اس کا موقف ہے کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے ضرورف ہے پاکستان خود اس دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہیں ان کو فوری طور پر بند ہونا چاہئے تھرڈ ورلڈ سالیڈرٹی کے چیر مین مشتاق لاشاری نے کہا کہ شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کا کردار زیادہ ہونا چاہئے۔ کسی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طاقت کے بل بوتے سے دوسرے ملک پر حملہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ آئر لینڈ، افغانستان اور دوسری جگہوں پر جنگوں کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ صرف مذاکرات سے ہی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ تمام امور میں اقوام متحدہ رول اہم اور کلیدی ہونا چاہئے۔ دیگر مقررین میں صاحبزادہ جہانگیر ، مارک سیڈن، سانڈراسٹرلی شاہد سعد اللہ، ڈاکٹر جاویدشیخ، شہزادہ حیات، ناہید حیات اور سارہ قیوم شامل تھے جنہوں نے اظہار خیال کرتے ہووے اس بات پر زور دیا کہ شام کے مسئلہ کو جنگ کی بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہونے والے جنگوں پر کھربوں ڈالر قرضہ کئے گئے ہیں لاکھوں افراد ان جنگوں میں ہلاک ہوئے مگر تنازعات ابھی تک ختم نہیں ہوئے اس کی مطلب یہ ہے کہ تنازعات کو طے کرنے کے لئے مذاکرات ضروری ہیں۔ جنگ سے کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا۔