مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اے پی سی فیصلوں کااحترام اب ہرسیاسی جماعت کاقومی فرض ہے: کامران مائیکل
اسلام آباد ... وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ اے پی سی کا سنجیدہ اورتعمیری ماحول میں انعقادخوش آئندہے،اس تاریخی ایونٹ کی بھرپورکامیابی پروزیراعظم میاں نوازشریف کو مبارکبادپیش کرتے ہیں۔پاکستان کی سا لمیت کیلئے سیاسی اورفوجی قیادت کاایک پیج پرہونااطمینان بخش ہے،آئندہ بھی اپوزیشن سے سنجیدہ رویے کی امید کرتے ہیں ۔ ملک دشمن قوتوں نے دیکھ لیاپاکستان کی سیاسی قیادت آپس میں متحد ہے، جارحیت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔پاکستان کے دفاع اوراستحکام کیلئے معاشرے کاہرطبقہ سیاسی قیادت کی پشت پرکھڑا ہے ۔اے پی سی میں افہام وتفہیم سے ہونیوالے دوررس فیصلوں کااحترام اوران کی پاسداری کرنا اب ہرسیاسی جماعت کاقومی فرض ہے ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اے پی سی کے دوران احسن اندازسے اپنا حق اداکردیا اب سیاسی قیادت کی باری ہے۔اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیراورسینیٹرکامران مائیکل نے مزید کہا کہ اے پی سی میں ملک وقوم کودرپیش مختلف چیلنجز اورخطرات زیربحث آئے اورسیاسی پارٹیوں کی قیادت نے اپنی اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق اظہار خیال کیا جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں صورتحال کادرست نقشہ کھینچااوردوررس تجاویزدیں ۔ اے پی سی کی تجاویزپرتنقیداورفیصلوں سے انحراف کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔وفاقی وزیر اور سینٹ کی کمیٹی برائے حقوق انسانی کے رکن کامران مائیکل نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق خفیہ اداروں کی کارروائیوں کو ایک ضابطہ کار کے تحت لانا ضروری ہے جس سے بیرون ملک پاکستان کا تشخص بہتر ہوگا۔ اس وقت یہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کا حل متفقہ پالیسی پر عمل درآمد ہی سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ بل پارلیمان کے ایوان بالا کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ ہے۔