مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بشارالاسد کو نہ روکا گیا تو یہ ملک انتہاپسندوں کی پرورش گاہ بن جائے گا: سابق وزیر اعظم برطانیہ
لندن...اپنے دور حکومت میں امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے والے سابق وزیر اعظم برطانیہ ٹونی بلیئر نے شام کے خلاف کارروائی کے حوالے سےاپنی یعنی لیبر پارٹی کے قائد ایڈ ملی بینڈ کے موقف پر شدید تنقید کی ہے ، سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یہ واضح کردیا کہ بشارالاسد کو نہ روکا گیا تو یہ ملک انتہاپسندوں کی پرورش گاہ بن جائے گا انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے حوالے سے ایڈ ملی بینڈ کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے، تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں مداخلت کے بعد طویل اور خونریز جنگ کی وجہ سے برطانیہ اس جنگ میں شریک ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔ بی بی سی کوانٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دارالعوام کی جانب سے شام کے خلاف براہ راست کارروائی کی اجازت نہ دئے جانے پر انھیں مایوسی ہوئی ہے ، انھوں نے کہا کہ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پارٹی کی قیادت سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں کوئی فیصلہ کرنا سیاسی رہنماؤں کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر شام میں بشارالاسد کے زیر سایہ حکومت ہی بنے گی جس کے معنی موجودہ تناظر میں لبنان کی سرحدوں کے گرد ایران کی زیر کنٹرول حکومت ہوگاشام کی تمام دولت جن کے کنٹرول میں ہوگی اس کے بعد مشرق میں ایک وسیع تر جغرافیائی طورپر مختلف سنی گروپوں کے زیر اثر حکومتیں ہوں گی اور ن حالات میں ان میں سے بیشتر انتہاپسند ہوں گی اس طرح یہ خطہ انتہا پسندی کی پرورش گاہ بن جائے گا۔جو کہ افغانستان سے بھی زیادہ بدتر اور طاقتور ہوگا۔