مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ وبرطانیہ کامعلومات پوشیدہ رکھنے کا دعوہ غلط: ایڈورڈ سنوڈن کی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں
لندن... امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشاں کی گئی دستاویزات اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ ادارے انٹرنیٹ پر صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی محدود کرنے سے متعلق کوڈز کا توڑ نکال چکے ہیں۔کروڑوں افراد ان کوڈز کو ذاتی معلومات، انٹرنیٹ پر خرید و فروخت اور ای میل کے ذریعے رابطوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور برطانیہ کے ادارے جی سی ایچ کیو نے انٹر نیٹ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کرائی جانے والی اس یقین دہانی کو غیر موثر کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطوں کی تفصیلات اور ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد سے پوشیدہ رہتی ہیں۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سکیورٹی اداروں اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی ملتی بھگت سے کمرشل سافٹ ویئر میں ایسی خامیاں رکھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معلومات مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق این ایس اے اس پروگرام پر سالانہ 25 کروڑ ڈالر کر رہی ہے، جب کہ یاہو، گوگل، ہاٹ میل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کی محفوظ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نئی دستاویزات کے افشاں ہونے کے بعد ذاتی معلومات کو پوشیدہ رکھنے کی حمایت کرنے والے کارکنوں کی جانب سے سخت ردِ عمل کا امکان ہے۔