مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ وبرطانیہ کامعلومات پوشیدہ رکھنے کا دعوہ غلط: ایڈورڈ سنوڈن کی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں
لندن... امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشاں کی گئی دستاویزات اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ ادارے انٹرنیٹ پر صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی محدود کرنے سے متعلق کوڈز کا توڑ نکال چکے ہیں۔کروڑوں افراد ان کوڈز کو ذاتی معلومات، انٹرنیٹ پر خرید و فروخت اور ای میل کے ذریعے رابطوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور برطانیہ کے ادارے جی سی ایچ کیو نے انٹر نیٹ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کرائی جانے والی اس یقین دہانی کو غیر موثر کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطوں کی تفصیلات اور ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد سے پوشیدہ رہتی ہیں۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سکیورٹی اداروں اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی ملتی بھگت سے کمرشل سافٹ ویئر میں ایسی خامیاں رکھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معلومات مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق این ایس اے اس پروگرام پر سالانہ 25 کروڑ ڈالر کر رہی ہے، جب کہ یاہو، گوگل، ہاٹ میل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کی محفوظ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نئی دستاویزات کے افشاں ہونے کے بعد ذاتی معلومات کو پوشیدہ رکھنے کی حمایت کرنے والے کارکنوں کی جانب سے سخت ردِ عمل کا امکان ہے۔