مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ وبرطانیہ کامعلومات پوشیدہ رکھنے کا دعوہ غلط: ایڈورڈ سنوڈن کی باتیں سچ ثابت ہونے لگیں
لندن... امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشاں کی گئی دستاویزات اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ ادارے انٹرنیٹ پر صارفین کی ذاتی معلومات تک رسائی محدود کرنے سے متعلق کوڈز کا توڑ نکال چکے ہیں۔کروڑوں افراد ان کوڈز کو ذاتی معلومات، انٹرنیٹ پر خرید و فروخت اور ای میل کے ذریعے رابطوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور برطانیہ کے ادارے جی سی ایچ کیو نے انٹر نیٹ کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو کرائی جانے والی اس یقین دہانی کو غیر موثر کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطوں کی تفصیلات اور ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد سے پوشیدہ رہتی ہیں۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سکیورٹی اداروں اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی ملتی بھگت سے کمرشل سافٹ ویئر میں ایسی خامیاں رکھی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معلومات مکمل طور پر محفوظ نہیں رہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق این ایس اے اس پروگرام پر سالانہ 25 کروڑ ڈالر کر رہی ہے، جب کہ یاہو، گوگل، ہاٹ میل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کی محفوظ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نئی دستاویزات کے افشاں ہونے کے بعد ذاتی معلومات کو پوشیدہ رکھنے کی حمایت کرنے والے کارکنوں کی جانب سے سخت ردِ عمل کا امکان ہے۔