مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال کی طرف سے نسیم اشرف اور قاری محمد بلال کو تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت نے بانی پاکستان کی قبل آزادی کی تاریخی تقاریر کی ریکارڈنگ پاکستان کوفراہم کردی
اسلام آباد ... بھارت کے قومی نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دو تاریخی تقاریر کی ریکارڈنگ ریڈیو پاکستان کو فراہم کر دی ہیں۔ یہ تقاریر پاکستان کے ریکارڈ میں نہیں تھیں اور ان کے حصول کے لیے اس نے بھارت سے درخواست کر رکھی تھی۔ ان میں سے ایک تقریر 3 جون 1947ء کو دہلی میں کی گئی جس میں قائد اعظم نے شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے پاکستان یا بھارت میں شمولیت کے منصوبے پر ریفرنڈم پر رد عمل کا اظہار کیا۔ دوسری تقریر 11 اگست 1947ء کو کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب پر مبنی ہے۔ی اد رہے ایک بھارتی شہری نے بھی اس بارے میں کیس جیت رکھا ہے کہ پارٹیشن سے پہلے پاکستان کے حامی رہنماؤں کی تقریریں پبلک پراپرٹی بناتے ہوے عام کی جائیں ..اس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانیوں کو بتا دینا چاہتا ہے کہ وہ اس خطے کو ویسا نہیں بنا سکے جس کے لئے وہ بھارت سے علیحدہ ہووے خیر اس کا مطمح نظر جو بھی ہو ..ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ثمینہ پرویز کا کہنا ہے کہ سارک تنظیم کے ممبر ممالک معلومات کے تبادلے پر کام کر ر ہے ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے اسلام آباد میں سارک کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اس میں ہماری وزارت اطلاعات نے بھارت کی وزارت اطلاعات کے ساتھ یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے جو پرانے اثاثے ہیں وہ ہمیں مل جائیں تو اس پر انھوں نےاتفاق کیا تھا۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت معرض وجود میں آئے تھے اور روز اول ہی سے دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملات پر حالات کشیدہ صورتحال اختیار کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر فائرنگ کے واقعات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تناؤ کا سبب بنے ہیں۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھارت کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی قائد اعظم کی تاریخی تقاریر دونوں ملکوں کے درمیان باہمی روابط میں خوشگوار تاثر پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔