مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت نے بانی پاکستان کی قبل آزادی کی تاریخی تقاریر کی ریکارڈنگ پاکستان کوفراہم کردی
اسلام آباد ... بھارت کے قومی نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دو تاریخی تقاریر کی ریکارڈنگ ریڈیو پاکستان کو فراہم کر دی ہیں۔ یہ تقاریر پاکستان کے ریکارڈ میں نہیں تھیں اور ان کے حصول کے لیے اس نے بھارت سے درخواست کر رکھی تھی۔ ان میں سے ایک تقریر 3 جون 1947ء کو دہلی میں کی گئی جس میں قائد اعظم نے شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے پاکستان یا بھارت میں شمولیت کے منصوبے پر ریفرنڈم پر رد عمل کا اظہار کیا۔ دوسری تقریر 11 اگست 1947ء کو کراچی میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب پر مبنی ہے۔ی اد رہے ایک بھارتی شہری نے بھی اس بارے میں کیس جیت رکھا ہے کہ پارٹیشن سے پہلے پاکستان کے حامی رہنماؤں کی تقریریں پبلک پراپرٹی بناتے ہوے عام کی جائیں ..اس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانیوں کو بتا دینا چاہتا ہے کہ وہ اس خطے کو ویسا نہیں بنا سکے جس کے لئے وہ بھارت سے علیحدہ ہووے خیر اس کا مطمح نظر جو بھی ہو ..ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ثمینہ پرویز کا کہنا ہے کہ سارک تنظیم کے ممبر ممالک معلومات کے تبادلے پر کام کر ر ہے ہیں۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے اسلام آباد میں سارک کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی اس میں ہماری وزارت اطلاعات نے بھارت کی وزارت اطلاعات کے ساتھ یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے جو پرانے اثاثے ہیں وہ ہمیں مل جائیں تو اس پر انھوں نےاتفاق کیا تھا۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت معرض وجود میں آئے تھے اور روز اول ہی سے دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملات پر حالات کشیدہ صورتحال اختیار کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن پر فائرنگ کے واقعات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تناؤ کا سبب بنے ہیں۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھارت کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی قائد اعظم کی تاریخی تقاریر دونوں ملکوں کے درمیان باہمی روابط میں خوشگوار تاثر پیدا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔