مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ سے علیحدگی ، سکا ٹش گومگوکیفیت میں !!
سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے لئے ملک بھر میں بحث و مباحثہ زور و شور سے جاری ہے، سکاٹش نیشنل پارٹی جس نے گزشتہ الیکشن میں شاندار اور حیران کن کامیابی حاصل کی تھی، آزادی کی سرخیل برطانیہ سے علیحدگی کے فوائد اور نقصانات ہر پہلو پر تفصیل سے گفتگو ہورہی ہے۔ آزادی کی حامی اور مخالف جماعتیں اپنے اپنے دلائل دے کر لوگوں کو قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آزادی کے ریفرنڈم میں سکاٹش نیشنل پارٹی کی انچارج گلاسگو گون اور پولک شیلڈ سے پارٹی کی ڈپٹی لیڈر اور ڈپٹی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن ہیں۔ جبکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی لیبر کی طرف سے یونین کے حق میں گلاسگو سنٹرل سے دارلعوام کے ممبر انس سرور جو سکاٹش لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بھی ہیں۔ ریفرنڈم کے سربراہ ہیں۔ نسلی اقلیتوں کے کسی فرد کی طرف سے مرکزی دھارے کی سیاست میں یہ کردار ادا کرنا نہ صرف انس سرور بلکہ تمام نسلی اقلیتوں کے لئے ایک اعزاز ہے۔ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کا اتحاد 1707 میں ہوا تھا۔ قوم پرست شروع ہی سے اس اتحاد کے خلاف تھے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ اس الحاق کو عوامی تائید حاصل نہ تھی۔ آج بھی سکاٹ لینڈ کا عدالتی اور قانونی نظام انگلینڈ اور ویلز سے مختلف ہے۔ 1970ء کی دہائی میں سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی۔ چنانچہ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے جہاں 3 سو سال کے وقفے کے بعد 1999 میں سکاٹش پارلیمنٹ کا دوبارہ احیا کر دیا گیا۔ لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں ۔ سکاٹش نیشنل پارٹی کے سربراہ الیکس سالمنڈ کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ اس وقت یوکے ساتھ 6 اتحادوں میں منسلک ہے۔ جن میں ڈیفنس یونین، کرنسی یونین، سوشل یونین، یورپین یونین، یونین آف دی کراؤن اور پولیٹیکل اینڈ اکنامک یونین شامل ہیں۔ صرف یہی وہ آخری پولیٹیکل اور اکنامک یونین ہے جس سے ہم نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ معیشت، ویلفیئر، خارجہ پالیسی نیز بیرونی ممالک میں جنگی مداخلت کے سلسلہ میں ویسٹ منسٹر حکومت کے نہیں بلکہ سکاٹش پارلیمنٹ کے فیصلے چاہتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما خصوصاً سکاٹش سیکرٹری مائیکل موو اسے سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کی قلا بازیاں قرار دیتے ہیں۔ جو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کہنے اور بدلنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکاٹش نیشنل پارٹی کے لیڈر کسی زمانے میں پونڈ کو ایک بوجھ قرار دیتے تھے لیکن اب اس کو باقی رکھنے پر آمادہ ہیں۔ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثے کے دوران آزادی کے سلسلہ مین رائے عامہ تبدیل ہوتی رہتی ہے، ریفرنڈم میں لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا سکاٹ لینڈ کو ایک آزاد ملک ہونا چاہئے، اس سلسلہ میں گزشتہ ہفتے دو تین سروے ہوئے ہیں، جن کے نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تازہ ترین سروے ٹی این ایس کا ہے، جس کے مطابق آزادی کی حمایت اس وقت کم ترین سطح یعنی صرف 25 فیصد پر ہے۔ چند ماہ قبل فروری میں یہی سوال پوچھے جانے پر 33 فیصد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا تھا۔ آزادی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ 2011 کے الیکشن میں سکاٹش نیشنل پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد ہر تیسرا حامی ان کا ساتھ چھوڑ گیا ہے آزادی کے حامی ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنے لئے نیک شگون تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوں جوں لوگوں کو بحث و مباحثہ کے دوران آزادی کے فوائد کاپتہ چلے گا وہ ہماری طرف راغب ہونگے۔ گزشتہ ہفتے ہی کرائے گئے یوگوو کے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ آزادی کے مخالف جبکہ 29 فیصد حق میں تھے سکاٹش نیشنل پارٹی نے بھی پینل بیس پر ایک پول کرایا تھا اس میں 44 فیصد لوگ آزادی جبکہ 43 فیصد بدستور برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں تھے۔ ان تمام سروے کے نتائج سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ ابھی تک گومگو کی کیفیت میں ہیں اور وہ تیل اور اس کی دھار کو دیکھ رہے ہیں۔ (طاہر انعام شیخ .. صدر پاکستان پریس کلب سکاٹ لینڈ )