مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مریض خواتین کےجسموں کی برہنہ تصاویربنانے والےڈاکٹرنے13الزمات قبول کر لئے
کارڈف ... الیگزنڈر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ 27سالہ ڈاکٹر سہیل احمد نے کم از کم 8 ایسی عورتوں کی برہنہ تصاویر خفیہ کیمروں کے ذریعے بنائی تھیں جو اس کے پاس علاج کرانے آئی تھیں۔ مریض خواتین کے جسموں کی برہنہ تصاویر بنانے والے اس ڈاکٹر کو اب جیل جانا ہو گا ۔ڈاکٹر سہیل نے یہ برہنہ تصاویر ٹوربے ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کے دوران بنائیں۔ ڈاکٹر سہیل نے عورتوں کے برہنہ جسموں کو دیکھنے کے 11 اور جنسی تشدد کے دو الزامات کو قبول کرلیا ہے۔ ریکارڈر رابرٹ لنفورڈ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سہیل پر لگائے گئے الزامات سنگین ہیں اور انہوں نے اس طرح کی حرکت کرکے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر پر ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ اس نے ایک عورت کے قمیض اوپر کرکے اس کی برہنہ چھاتیوں کی تصاویر بنائیں پھر اس کے جسم کے دوسرے نازک حصوں کی تصاویر بھی بنائیں۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے ایک عورت کے برہنہ حصوں کو لذت حاصل کرنے کے لئے چھوا۔ کارڈف کے ڈاکٹر سہیل کو معطل کردیا گیا ہے اور اسے چار اکتوبر کو سزا سنائی جائے گی۔