مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مریض خواتین کےجسموں کی برہنہ تصاویربنانے والےڈاکٹرنے13الزمات قبول کر لئے
کارڈف ... الیگزنڈر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ 27سالہ ڈاکٹر سہیل احمد نے کم از کم 8 ایسی عورتوں کی برہنہ تصاویر خفیہ کیمروں کے ذریعے بنائی تھیں جو اس کے پاس علاج کرانے آئی تھیں۔ مریض خواتین کے جسموں کی برہنہ تصاویر بنانے والے اس ڈاکٹر کو اب جیل جانا ہو گا ۔ڈاکٹر سہیل نے یہ برہنہ تصاویر ٹوربے ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کے دوران بنائیں۔ ڈاکٹر سہیل نے عورتوں کے برہنہ جسموں کو دیکھنے کے 11 اور جنسی تشدد کے دو الزامات کو قبول کرلیا ہے۔ ریکارڈر رابرٹ لنفورڈ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سہیل پر لگائے گئے الزامات سنگین ہیں اور انہوں نے اس طرح کی حرکت کرکے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر پر ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ اس نے ایک عورت کے قمیض اوپر کرکے اس کی برہنہ چھاتیوں کی تصاویر بنائیں پھر اس کے جسم کے دوسرے نازک حصوں کی تصاویر بھی بنائیں۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے ایک عورت کے برہنہ حصوں کو لذت حاصل کرنے کے لئے چھوا۔ کارڈف کے ڈاکٹر سہیل کو معطل کردیا گیا ہے اور اسے چار اکتوبر کو سزا سنائی جائے گی۔