مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مریض خواتین کےجسموں کی برہنہ تصاویربنانے والےڈاکٹرنے13الزمات قبول کر لئے
کارڈف ... الیگزنڈر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ 27سالہ ڈاکٹر سہیل احمد نے کم از کم 8 ایسی عورتوں کی برہنہ تصاویر خفیہ کیمروں کے ذریعے بنائی تھیں جو اس کے پاس علاج کرانے آئی تھیں۔ مریض خواتین کے جسموں کی برہنہ تصاویر بنانے والے اس ڈاکٹر کو اب جیل جانا ہو گا ۔ڈاکٹر سہیل نے یہ برہنہ تصاویر ٹوربے ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کے دوران بنائیں۔ ڈاکٹر سہیل نے عورتوں کے برہنہ جسموں کو دیکھنے کے 11 اور جنسی تشدد کے دو الزامات کو قبول کرلیا ہے۔ ریکارڈر رابرٹ لنفورڈ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سہیل پر لگائے گئے الزامات سنگین ہیں اور انہوں نے اس طرح کی حرکت کرکے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر پر ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ اس نے ایک عورت کے قمیض اوپر کرکے اس کی برہنہ چھاتیوں کی تصاویر بنائیں پھر اس کے جسم کے دوسرے نازک حصوں کی تصاویر بھی بنائیں۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے ایک عورت کے برہنہ حصوں کو لذت حاصل کرنے کے لئے چھوا۔ کارڈف کے ڈاکٹر سہیل کو معطل کردیا گیا ہے اور اسے چار اکتوبر کو سزا سنائی جائے گی۔