مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سابق میئر کونسلراصغرمجید کی پاکستانی ہائی کمشنرسے ملاقات منگلا ڈیم کی سطح میں اضافہ پراظہارتشویش
سلاؤ ... رائل برو آف ونڈسر اور میڈن ہیڈ کے سابق میئر کونسلر اصغر مجید نے لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے نام ایک خط میں منگلا ڈیم کی سطح میں اضافہ کرنے پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم میں پانی کی چھوڑنے کاسلسلہ فوری طور پر روک دیاجائے ، یہ خط انہوں نے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو پیش کیا جس میں کہا گیا کہ علاقے کے رہائشی باشندوں کے سازوسامان کو سیلابی علاقے سے نکالنے میں مکینوں کی مدد کی جائے۔ پانی جمع کرنے کی گنجائش کو فرنیچر رکھنے کیلئے استعمال کیاجائے، علاقے کے رہائشی باشندوں کو مکانوں کی تعمیر تک مکانوں کاکرایہ ادا کرنے کی سہولت دی جائے، ایک ویب سائٹ تیار کی جائے جس پر تازہ ترین صورتحال واضح کی جائے ، ایسی ویب سائٹ تیار کرنے کیلئے ایک مشاورتی دستاویز کی ضرورت ہوگی، پاکستانی سفارتخانے میں رابطے کاایک ذریعہ بنایا جائے جہاں کشمیر نژاد شہری اس حوالے سے مختلف مسائل اور ان پر اپنی تشویش کااظہار کرسکیں اور ان کاتدارک کیاجاسکے، متاثرین کو ادا کئے جانے والے ہرجانے کی رقم پر تعمیراتی لاگت اور افراط زر کے حوالے سے بڑھنے والے اخراجات کی روشنی میں نظر ثانی کی جائے۔کونسلر اصغر مجید نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ مسائل اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ نیامیرپور سٹی اس مقصد کیلئے موزوں نہیں ہے ،یہ پورا علاقہ ناہموار ہے اور اسے تعمیراتی کام کیلئے ہموار نہیں کیا گیا ہے، ہم درخواست کرتے ہیں کہ تعمیراتی کام شروع کرنے کیلئے زمین ہموار کی جائے، انھوں نے لکھا ہے کہ کشمیریوں نے پاکستان کے مفاد کے پیش نظر اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں اورمکانوں کی قربانی دی ہے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہماری ان قربانیوں کا اعتراف کیاجائے،میں برطانیہ میں موجود کشمیری کمیونٹی کی جانب سے جنھوں نے کشمیر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور جن کے 10 ہزار مکان، 144 دیہات، اور ساڑھے9 ہزار سے زیادہ فیملیز متاثر ہوئی ہیں درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کو اعلیٰ ترین سطح پر اٹھایا جائے۔