مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسائل کی دلدل
دن کے ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے ایک دوست سے ملنے ان کے دفتر پہنچا تو ہر طرف سناٹا تھا۔دوپہر کے کھانے اور نماز کے وقفے کے باعث اکثر کمرے خالی تھے۔میرے دوست ایک سرکاری افسر تھے اور میرا ان کے دفتر میں آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں کام کرنے والے اکثر ملازمین جانتے تھے کہ میں ان کے صاحب کا بہت قریبی دوست ہوں، اور میری بھی وہاں کام کرنے والے اکثر لوگوں سے شناسائی تھی۔یونہی بے دھیانی میں ایک کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک حیران کن سا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔کمرے میں رکھی بڑی بڑی فولادی الماریوں کی اوٹ میں جائے نماز بچھی تھی اور اس دفتر میں صفائی کی ڈیوٹی پر مامور ایک عیسائی نوجوان نماز پڑھنے میں مشغول تھا۔ میں اندر داخل ہوا اور خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔نماز مکمل ہونے پر اس نے نہایت سلیقے سے جائے نماز لپیٹی اور الماری میں رکھ دی۔ سلام پھیرنے کے بعد دفعتا اس نوجوان کی مجھ پر نظر پڑی تو کچھ گھبرا سا گیا مگر اس سے پہلے کہ میں اس سے کوئی سوال کرتا اس نے مجھے جواب دے دیا، ’’ سر میں نے گزشتہ برس رمضان المبارک کے آخری عشرے میں الحمداللہ اسلام قبول کر لیا تھا۔‘‘ میں کرسی سے اٹھا اور اسے نہایت گرمجوشی سے گلے لگا لیا۔ کچھ ہی دیر بعد میرے دوست بھی اپنے دفتر میں واپس آگئے، میں نے ان سے اس عیسائی نوجوان کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے،’ الحمداللہ زاہد مسیح مسلمان ہوچکا ہے مگر سرکاری کاغذوں میں ابھی بھی وہ غیر مسلم ہے۔‘ میرے استفسار پر وہ گویا ہوئے کہ زاہد کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہے، وہ آٹھ برس پہلے اقلیتی کوٹے پر خاکروب بھرتی ہوا تھا۔ اس دوران اس نے بی۔اے بھی کرلیا، مرلہ دو مرلے وراثتی زمین بھی اس کے نام منتقل ہوگئی، جگہ جگہ سرکاری کاغذوں میں اس نے اپنا مذہب عیسائیت لکھا ہوا ہے۔اسے خوف ہے کہ اگراس نے کاغذات میں تبدیلی کروائی تو اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہوگا۔ شناختی کارڈ ڈومیسائل سے لے کر میٹرک، ایف ے، بی اے تک جگہ جگہ نام اور مذہب کی تبدیلی کے مراحل طے کرنا ہوں گے، قدم قدم پر کاغذات کی تصدیق ، اخباروں میں اشتہار اور بیان حلفی، اس کے پاس اتنے وسائل ہیں نہ اتنا وقت، اور پھر یہ کہ اسے اندیشہ ہے کہ اگر یہ سب مراحل طے ہو بھی گئے تو کوئی نہ کوئی اقلیتی ملازم عدالت میں دعویدار ہو سکتا ہے کہ جس کوٹے پر یہ شخص بھرتی ہوا تھا وہ اقلیتی کوٹہ تھا، اب یہ شخص اس کوٹے پر ملازمت کا حقدار نہیں۔ زاہد مسیح کو یہ بھی ڈر ہے کہ اس کے عزیز و اقارب کوئی نہ کوئی قانونی شق نکال کر اسے وراثتی جائیداد سے بھی محروم کر سکتے ہیں۔ میرے دوست نے مجھے مذید بتایا کہ لوگ کہتے ہیں ذاہد کا باپ بھی ایک سرکاری دفتر میں خاکروب ہے، ریٹائرمنٹ کے قریب ہے، اس نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے لیکن ڈرتا ہے کہ عمر کے اس حصے میں کہ جب ریٹائرمنٹ سر پر ہے، باقی زندگی جی پی فنڈ ،گریجویٹی اور پنشن کے سہارے گذرنی ہے، سرکاری کاغذات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اس کے لیے اذیت ناک مسائل کو جنم دے گی۔ اس معاشرے میں تو عام آدمی کے لیے کسی بھی دفتر سے اپنے واجبات اور بقایا جات وصولنا ناممکن ہوتا ہے، ایسی صورت میں کیا حال ہوگا، اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ مجھے مکمل معلومات تو نہیں لیکن اس بات کا یقین ضرور ہے کہ پاکستان کا آئین اور قانون جہاں اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے وہاں یقیناًا ن لوگوں کے مفادات کی حفاظت کا انتظام بھی ہوگا جو مذہب تبدیل کرکے دائرہ اسلام میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ ایک اچھا معاشرہ ہے، پاکستانی قوم ایک اچھی قوم ہے ،اقتصادی مسائل، بیرونی مداخلتوں اور بین الاقوامی سازشوں نے اگرچہ اس معاشرے اور اس قوم کو بگاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی، کہیں کہیں اس کوشش میں کامیابی بھی نظر آتی ہے لیکن عمومی طور پر ہم ان سازشوں کا شکار ہونے سے محفوظ رہے۔قوم بہت سے مسائل میں گھری ہونے کے باوجود آج بھی متحد دکھائی دیتی ہے۔ہمارے پاس ہر مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور قوت بھی، ایسے میں زاہد مسیح کا مسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، ضرورت صرف قدم بڑھانے کی ہے۔ پاکستانی قوم کے متحد ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ہماری محبتیں اور ہماری نفرتیں مشترک ہیں یا یوں کہہ لیں کہ جو پاکستان کا دشمن وہی قوم کا بھی دشمن، جو پاکستان کا دوست وہ ساری قوم کا دوست۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو ہی دیکھ لیں جن میں افغان طالبان اور حکومت افغانستان کے درمیان معاملات کو سدھارنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان نے افغانستان میں امن کی اپنی دیرینہ خواہش کے پیش نظر دو متحارب فریقوں کو بات چیت کے لیے اپنی سرزمین پر ایک محفوظ پلیٹ فارم مہیا کیا۔ چین پہلے ہی اس طرح کے مذاکرات کا بھرپور حامی تھا، پاکستان اور چین کی اس معاملے میں غیر معمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے امریکا بھی ان مذاکرات کی حمایت پر مجبور ہوگیا۔ اگرچہ ان تمام متحارب قوتوں کو یکجا کرنے کے لیے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ہدایت پرآئی ایس آئی نے بھرپور کام کیا اور ایسے حالات کو ممکن بنایا کہ جن میں افغان حکومت اور افغان طالبان بات چیت پر آمادہ ہوسکیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ پاکستان کی جمہوری اور سیاسی قوتوں نے بھی ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں جنرل راحیل شریف کا مکمل ساتھ دیا۔یوں ساری دنیا کو ایک بار پھر یہ پیغام پہنچا دیاگیا کہ پاکستان کی جمہوری و سیاسی قوتیں اور ہماری عسکری قیادت ہمیشہ کی طرح ایک پیج پریکجا ہیں۔ہمارے بدخواہوں کے لیے، ہمارا یہ اتحاد ہمیشہ اذیت اور پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ ہمارے دشمن جانتے ہیں کہ ہم پر غلبے کے لیے ہمیں بکھیرنے سے زیادہ اور کچھ بھی ضروری نہیں۔اسی لیے وہ ایسا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ جو ہمارے درمیان نفاق کا باعث بن سکے۔ آج بھارتی میڈیا اور بھارتی سیاستدان مسلسل اس پراپگینڈے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمانوں کو مسلمانوں ہی سے خطرہ ہے، بھارت کی کسی مسجد پر پولیس کا پہرہ نہیں ہوتا جبکہ پاکستان میں نماز عید، نماز تراویح سے لے کر مجلس میلاد تک اور پھر دینی محافل سے لے کر نماز پنجگانہ تک، ہر اجتماع کی حفاظت کے لیے بندوق برداروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ شور بھی مچایا جاتا ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی بھی مذہبی دہشت گردی کی واردات میں کبھی کوئی غیر مسلم گرفتار نہیں ہوا، پکڑے جانے والے تمام کے تمام لوگ مسلمان ہی ہوتے ہیں۔کچھ ایسا ہی پراپگینڈا افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بھی کیا گیا۔بھارتی اخبارات شور مچا رہے ہیں کہ ان مذاکرات میں طالبان کے تمام دھڑے شامل نہیں اس لیے ان مذاکرات کی کوئی حیثیت نہیں۔بھارتی تجزیہ کار یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرنے والے بہت سے طالبان گروپس کی سرپرستی کرتا ہے لہذا افغانستان میں ثالث بننے کی پاکستان کی کوششوں کا کوئی جواز نہیں۔ الزامات کی سچائی جلد یا بدیر سامنے آجاتی ہے، سچ کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا، دنیا ابھی بھی جانتی ہے اور جو نہیں جانتے وہ بھی جان لیں گے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور پاکستانی قوم امن کی شیدائی، منفی پراپگینڈہ ہمیں معمولی سا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وہ دن زیادہ دور نہیں جب دنیا کا ہر ملک دوسرے ممالک سے اپنے اختلافات میں ثالثی کے لیے صرف اور صرف پاکستان کی طرف دیکھے گا اور پاکستان کبھی بھی اس بین الاقوامی اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دے گا، یقین رکھیئے ہمارا کل ہمارے آج سے کہیں زیادہ روشن ہوگا۔جنگلی جانوروں کی آوازیں شیر کو کبھی خوفزدہ نہیں کر سکتیں۔