مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا جدید اسلحہ سمیت ساز و سامان پشاور کے بازاروں میں دستیاب
پشاور ... افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء کے آغاز کے ساتھ ہی پشاور کی مارکیٹوں میں امریکی ساز و سامان بکنا شروع ہوگیا ہے۔ وہاں سے جدید اسلحے سے لےکر آرائش و زیبائش اور خورد ونوش کا غیر ملکی سامان خریدا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحد پر واقع ’کارخانو مارکیٹ‘ کے نام سے غیر ملکی اشیاءکے لیے مشہور ستارہ مارکیٹ کی دو سو سے زیادہ دکانیں غیر ملکی اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔ اس مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ سنائپر گن کی ہے، جس کے لیے لوگ ایڈوانس میں پیسے دیتے ہیں۔ یہ سنائپر بندوق زیادہ تر قبائلی علاقوں میں متحارب گروپ اور عسکریت پسند خریدتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بازار سے کلاشنکوف، نائٹ ویژن گلاسز، لیزرڈ گنز، جدید ترین پستول، چاقو، فوجی یونیفارم، سلیپنگ بیگز، اسلحے کے کورز، لیپ ٹاپس،بیٹریز،کیمرے اور غیر ملکی ادویات خریدی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ اسلحے کی خرید و فروخت کھلے عام نہیں لیکن دلچسپی رکھنے والوں کو یہ چیز یں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ جب مارکیٹ کے قریب ہی واقع سیکورٹی چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں سے اس بارے میں پوچھا گیا تو پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا، یہاں کوئی غیرقانونی خرید و فروخت نہیں ہوتی، جو چیزیں یہاں فروخت کی جاتی ہیں وہ چائنہ ساخت کی ہیں اور یہ ملک بھر میں موجود ہیں۔ جہاں تک اسلحے کی بات ہے تو اس پوری مارکیٹ میں اسلحے کی ایک بھی دکان نہیں، البتہ چند قدم کے فاصلے پر قبائلی علاقہ ہے، جہاں صوبائی حکومت کا عمل دخل نہیں اور وہاں کھلے عام اسلحے کا کاروبار ہوتا ہے لیکن وہ اسلحہ کوئی یہاں نہیں لاسکتا۔