مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں ..!!
لندن...سرکاری ریکارڈ کے مطابق برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں کی گئیں ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ فحش ویب سائٹ پر جانے کی تمام کوششیں’ جان بوجھ کر‘ نہیں کی گئی تھیں، اس کے علاوہ ان میں تیسرے فریق کے سافٹ وئیر کی جانب سے کی جانے والی مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے یا وہ ویب سائٹیں جو خود بخود سامنے آ جاتی ہیں۔ برطانوی پارلیمان سٹیٹ میں پانچ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ دارالعوام کے حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کوششیں ارکانِ پارلیمان نے کیں، یا وہاں کے عملے نے۔گزشتہ سال نومبر میں ایک لاکھ چودہ ہزار مرتبہ فحش ویب سائٹ دیکھنے کی کوشش کی گئی جبکہ فروری میں پندرہ بار ایسا ہوا۔ دارالعوام کی ایک ترجمان کے مطابق’ ہمارے خیال میں نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کی بامقصد درخواستوں کے حوالے سے فراہم کی جانے والی معلومات درست خاکہ پیش کرتی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں گھریلو صارفین تک فحش ویب سائٹ کی رسائی بند کر دیں جب تک وہ خود اس کی درخواست نہیں کرتے۔ اس کے بار برطانیہ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے فحش ویب سائٹس کو فلٹر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔