مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں ..!!
لندن...سرکاری ریکارڈ کے مطابق برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں کی گئیں ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ فحش ویب سائٹ پر جانے کی تمام کوششیں’ جان بوجھ کر‘ نہیں کی گئی تھیں، اس کے علاوہ ان میں تیسرے فریق کے سافٹ وئیر کی جانب سے کی جانے والی مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے یا وہ ویب سائٹیں جو خود بخود سامنے آ جاتی ہیں۔ برطانوی پارلیمان سٹیٹ میں پانچ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ دارالعوام کے حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کوششیں ارکانِ پارلیمان نے کیں، یا وہاں کے عملے نے۔گزشتہ سال نومبر میں ایک لاکھ چودہ ہزار مرتبہ فحش ویب سائٹ دیکھنے کی کوشش کی گئی جبکہ فروری میں پندرہ بار ایسا ہوا۔ دارالعوام کی ایک ترجمان کے مطابق’ ہمارے خیال میں نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کی بامقصد درخواستوں کے حوالے سے فراہم کی جانے والی معلومات درست خاکہ پیش کرتی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں گھریلو صارفین تک فحش ویب سائٹ کی رسائی بند کر دیں جب تک وہ خود اس کی درخواست نہیں کرتے۔ اس کے بار برطانیہ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے فحش ویب سائٹس کو فلٹر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔