مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں ..!!
لندن...سرکاری ریکارڈ کے مطابق برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں کی گئیں ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ فحش ویب سائٹ پر جانے کی تمام کوششیں’ جان بوجھ کر‘ نہیں کی گئی تھیں، اس کے علاوہ ان میں تیسرے فریق کے سافٹ وئیر کی جانب سے کی جانے والی مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے یا وہ ویب سائٹیں جو خود بخود سامنے آ جاتی ہیں۔ برطانوی پارلیمان سٹیٹ میں پانچ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ دارالعوام کے حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کوششیں ارکانِ پارلیمان نے کیں، یا وہاں کے عملے نے۔گزشتہ سال نومبر میں ایک لاکھ چودہ ہزار مرتبہ فحش ویب سائٹ دیکھنے کی کوشش کی گئی جبکہ فروری میں پندرہ بار ایسا ہوا۔ دارالعوام کی ایک ترجمان کے مطابق’ ہمارے خیال میں نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کی بامقصد درخواستوں کے حوالے سے فراہم کی جانے والی معلومات درست خاکہ پیش کرتی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں گھریلو صارفین تک فحش ویب سائٹ کی رسائی بند کر دیں جب تک وہ خود اس کی درخواست نہیں کرتے۔ اس کے بار برطانیہ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے فحش ویب سائٹس کو فلٹر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔