مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان پرخصوصی نظر رکھنے کیلئے تجزیاتی سیل کا قیام: امریکی بلیک بجٹ دستاویز میں انکشاف
لندن... معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس کے 178 صفحات پر مشتمل ’بلیک بجٹ‘ نامی دستاویز اور سی آئی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کی گئی دستاویزات کو بنیاد بنا کرکہا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس کی پوری توجہ ایک طرف اگر القاعدہ اور شمالی کوریا پر ہے تو دوسری جانب اتنی ہی توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ملک پاکستان پر ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان پر خصوصی توجہ رکھنے کے لیے امریکہ نے ایک نیا تجزیاتی سیل بھی قائم کیا ہے.. بلیک بجٹ دستاویزات کے مطابق امریکی انتظامیہ کھل کر پاکستان کے حوالے سے جائزے کو بیان نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ پاکستان کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ امریکہ ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ پچھلے سال نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کانگریس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ’میں کافی پراعتماد ہوں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ تاہم رواں سال اسی بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اوپن سیشن میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن خفیہ دستاویزات میں ان کی ایک رپورٹ ہے جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا ہے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سکیورٹی اور اس سے جڑے دیگر مواد کے بارے معلومات میں کمی ہونا ۔۔۔ انٹیلیجنس کی خامی ہے۔ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان پر دو اہم شعبوں میں توجہ دے رہی ہے: ایک ہے انسداد دہشت گردی اور دوسرا ہے جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو لے کر دو ممکنہ صورتحال سے فکر مند ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر دہشت گرد حملہ کریں جیسے انہوں نے 2009 میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کی پر حملہ کیا تھا۔ دوسرا خدشہ جو کہ پہلے سے بھی بڑا خدشہ ہے یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس میں اثر و رسوخ بڑھا لیں اور اس پوزیشن میں آ جائیں کہ وہ یا تو ایٹمی حملہ کر دیں یا پھر ایٹمی ہتھیار سمگل کر سکیں۔