مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حیرت ہےنئی وفاقی حکومت پُرانے صدر کا دفاع کر رہی ہے انکے فرار کا ذمہ دار کون ہوگا ؟
اسلام آباد ... صدر آصف علی زرداری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے درخواست گزار کے مطابق صدر کے عہدے کی معیاد آٹھ ستمبر کو ختم ہو رہی ہےاور اگر اس دوران وہ ملک سے فرار ہوگئے تو عدالت اس کا تعین کرے کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ جٹسس خلجی عارف حسیں کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد عمران نے عدالت کو بتایا کہ وفاق کو ایک روز قبل ہی اس درخواست پر نوٹس ملا ہے جس کے جواب کے لیے کچھ وقت چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس درخواست پر تفصیلی جواب دینا ہے اس کے لیے اُنہیں کچھ وقت دیا جائے.. درخواست گزار شاہد اورکزئی کا کہنا تھا کہ اُن کی درخواست محض ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے اور اگر حکومت چاہے تو چند منٹوں میں اس کا جواب دے سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نئی وفاقی حکومت پُرانے صدر کا دفاع کر رہی ہے جو کہ اُن کے لیے حیرت انگیز ہے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب تک اس بارے میں فیڈریشن کا جواب نہیں آ جاتا اُس وقت تک عدالت اس سے متعلق اپنی رائے قائم نہیں کر سکتی۔ یاد رہے کہ درخواست گُزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوج کی کارروائی کے بارے میں صدر آصف علی زرداری کو پہلے سے علم تھا لیکن اُنہوں نے پاکستانی افواج کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر مملکت اس واقعہ سے متعلق بنائے گئے عدالتی کمیشن کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے تھے۔ درخواست گُزار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی افواج کے سابق سربراہ مائیک مولن کو لکھے گئے متنازع میمو کے مرکزی کردار حیسن حقانی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حسین حقانی صدر کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اس لیے اُنہیں خطرہ ہے کہ آصف علی زرداری بھی عہدہ صدارت کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک سے فرار ہو جائیں گے اس لیے اُن کانام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت دس ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔ دوسری طرف صدر مملکت کو الوداعی گارڈ آف آنر کو روکنے کے لیے بھی ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے بطور سپریم کمانڈر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کیں۔ عدالت سے اس درخواست کی جلد سماعت کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔